بی ایس او (آزاد) آواران زون کا زاہد بلوچ اور ذاکر مجید کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

جمعہ 3 اکتوبر, 2014

آواران(ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے آواران زون کے زیر اہتمام چیر مین زاہد بلوچ اور وائس چیر مین ذاکر مجید بلوچ کی عدم بازیابی کیخلاف آواران میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین و بچوں کی کثیر تعداد میں شرکت کی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر چیر مین ذاہد بلوچ اور ذاکر مجید بلوچ کی بازیابی کے لئے نعرے درج تھے اورزاہد بلو چ 18مارچ سے خفیہ اداروں کے ہاتھوں گمشدگی کی شدید مذمت کی گئی تھی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ بی ایس اوآزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ اور سابقہ وائس چیئرمین زاکر مجید بلوچ ،ڈاکٹر دین محمد ،رمضان بلوچ کو ریاستی خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء ہوئے ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے زاکر مجید بلوچ ،جو 2009سے ریاستی خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہیں اور انکے خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء کا اقرار خود سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیا تھا اور متعدد بار انکے بازیابی کی ہدایا ت بھی دیئے تھے اسکے علاوہ مختلف انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے بھی زاکر مجید بلوچ کے اغواء پر رپورٹیں شائع کی ہیں احتجاج کے تما م ذریعے استعما ل میں لا ئے گئے ہیں زاکر کے اغواء کا کیس اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبر ی گمشدگی میں بھی رجسٹر ڈ ہے مگر گزشتہ سال سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے ہی اعتراف اور فیصلوں سے روگردانی کرتے ہوئے زاکر مجید کانام لاپتہ افراد کی فہر ست سے نکال لیا سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے سے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ زاکر مجید کو بھی دیگر لاپتہ بلوچ اسیران کی جانی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے اسی طرح بی ایس او آزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ کو رواں بر س 18مارچ کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ایف سی کے ساتھ سینئر وائس چیئرپرسن کریمہ بلوچ ، تنظیم کے دیگر تین ذمہ داران اور درجن بھر علاقہ مکین چشم دید گواہوں کی موجودگی میں اغواء کیا تھا اور چشم دید گواہان نے باقاعدہ بلوچستان ہائی کورٹ میں جاکر گواہی دی ہے زاہد بلوچ کی بازیابی کیلئے تنظیم کے مرکزی کمیٹی کے ممبر لطیف جوہر 46دنوں تک بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے اور اس دوران زاہد بلوچ کی اغواء کی خبر مقامی میڈیا سمیت عالمی میڈیا پر زور و شور سے شائع ہوئی زاہد بلوچ کے اغواء کیخلاف بلوچستان بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج بھی ہوا ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی مختلف ممالک میں احتجاج ریکارڈ کیا گیا زاہد بلوچ کے اغواء کی رپورٹ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، ایشین ہیومن رائٹس کمیشن ، انٹرنیشنل کمیشن فار جیورسٹس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی شائع کی ہے اور زاہد بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے زاہد بلوچ کے اہلخانہ نے بھی اسلام آباد میں دس دن تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا لطیف جوہر کا تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کی اس یقین دہانی پر ختم کیا گیا کہ وہ زاہد بلوچ کے اغواء کا کیس اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگی میں رجسٹر کرائے گی ایشین ہیومن رائٹس کمیشن اب اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے نہ صرف زاہد بلوچ کے اغواء کا کیس رجسٹر کرائے بلکہ تمام انسانی حقوق کے ادارے طویل عرصے سے گمشدہ زاکر مجید بلوچ اور زاہد بلوچ سمیت ہزاروں بلوچ اسیران کی بازیابی کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0