بی ایس او آزاد کسی گروہ یا شخصیت کا اثاثہ نہیں بلکہ قومی اثاثہ ہے

پیر 6 جولائی, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بی ایس او آزاد کے مرکزی ترجمان نے گزشتہ روز مختلف زونوں اور ایک سنٹرل کمیٹی کے ممبرکے استعفے و بائیکاٹ کے اعلان پر وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ خود کو مرکزی ممبر ظاہر کرنے والا مزار بلوچ تنظیم کے سنٹرل کمیٹی عہدے پر کبھی منتخب ہوا ہے اور نہ ہی مچھ، ڈیرہ اللہ یار، نوشکی و دالبندین سے ممبران نے استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزار بلوچ ایک ممبر کی حیثیت سے اپنا استعفٰی پیش کر سکتے ہیں، لیکن خود کو مرکزی عہدہ دار ظاہر کرکے استعفیٰ دینا مضحکہ خیز ہے، کیوں کہ مزار بلوچ کو تنظیم نے باقاعدہ مرکزی ذمہ داریاں کبھی نہیں سونپی ہیں۔ بی ایس او آزاد گزشتہ تین سالوں سے ایک مخصوص گروہ کی پروپگنڈوں و جھوٹ پر مبنی بیانات کا نشانہ بن رہی ہے، لیکن کارکنان کی وابستگی ہمیشہ سے تنظیم سے ہی رہا ہے، کارکنان نہ پہلے متاثر ہوئے ہیں اور نہ ہی آئندہ منفی پروپگنڈوں کے اثرات کا شکار ہوں گے۔ بی ایس او آزاد کی شروع سے ہی کوشش رہی ہے کہ تنظیم کی آزاد حیثیت اورسرگرمیوں میں مداخلت کی کوشش کرنے والے گروہ سے رابطہ کرکے بہتر سیاسی ماحول تشکیل دیا جائے ۔ہر ممکن کوششوں کے باوجود مزکورہ گروہ نہ صرف اپنے اعمال پر نظر ثانی سے گریز کررہی ہے، بلکہ وہ روز بہ روز شدت سے جھوٹ و من گھڑت بیانات جاری کروا کر اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ جہاں انہیں نہ قومی تحریک کا خیال ہے اور نہ ہی قومی تحریک میں کردار ادا کرنے والے سیاسی تنظیموں کا احترام کرتے ہیں۔ بی ایس او آزاد کی لیڈر شپ و کارکنا ن کو میڈیا میں ایکسپوز کرنے اور ان جیسے دیگر سنگین گناہوں کا مرتکب ہونے والے ناقاعاقبت اندیش لوگ قومی تحریک کے خیر خواہ نہیں۔ بی ایس او آزاد پر دباؤ ڈالنے اور اپنی پالیسیاں مسلط کرنے میں ناکامی کے بعد حواس باختگی کا شدت سے اظہار سیاسی طور ان کی ناکامی ہے۔ کیوں کہ گزشتہ کئی عرصوں سے روز ان کی بیانات کو دیکھ کر کوئی بھی شخص بہ آسانی ان کی جھوٹی باتوں کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ تنظیم سے فارغ کیے گئے ممبران سے رابطہ اور انہیں تنظیم کے خلاف استعمال کرکے وہ اپنی سیاسی نابالیدگی اور محدود سوچ کا اظہار کررہے ہیں۔ ایک متحرک تنظیم میں احتساب ، اور آئینی خلاف ورزی پر کارکنان کو فارغ کرنا کوئی حیرانی کی بات نہیں، اور نہ ہی اس طرح کی احتساب سے کبھی کوئی تنظیم کمزور ہوا ہے، لیکن تنظیمی اتحاد کو نقصان دینے اور تنظیمی آئین کی خلاف ورزی کرنے والے سابقہ کارکنان خود تنقیدی اور اپنی اصلاح کرنے کے بجائے دورسروں کے ہاتھوں آسانی سے استعمال ہو کر اپنی مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ بی ایس ا و آزاد بار ہا اس بات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اس خدشے کا اظہار کرچکی ہے کہ کارکنان میں انتشار پھیلانے اور تنظیمی مرکزیت کو کمزور کرنے کے لئے مذکورہ گروہ آئندہ بھی سرگرم رہیگی ۔ گزشتہ چند دنوں سے زونوں کے نام سے جھوٹی باتیں پھیلانے کی کوششیں انہی سلسلوں کی کڑیاں ہیں،بالگتر زون، کیچ زون اور اس کے بعد مچھ، ڈیرہ اللہ یار و دیگر زونوں کے ناموں سے اس طرح کی بیانات جاری کرنا ان کے جھوٹے و غیر سنجیدہ کردار کا اظہار ہے۔ بی ایس او آزا د کا اپنے تمام زونوں و کارکنا ن سے رابطہ ہے، کارکنان کسی بھی صورت میں تنظیمی پالیسیوں کے خلاف کام کرنے کے لئے راہِ فرار اختیار کرنے والوں کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔ مزار خان بلوچ سمیت کوئی بھی تنظیم سے اپنی انفرادی حیثیت سے اپنا استعفیٰ پیش کر سکتا ہے، لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ تنظیمی اداروں کو اپنے ذاتی دوستی و تعلقات کے لئے استعمال کرے۔ بی ایس او آزاد اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ تنظیم میں انتشار پھیلانے، تنظیمی حیثیت کو غلط استعمال کرکے کرپشن کرنے والے یا تنظیمی آئین کا پابند نہ رہنے والے کارکنان کے خلاف بی ایس او آزاد آئندہ بھی بغیر کسی مصلحت پسندی کے کاروائی کرے گی۔ اور اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ نکالے جانے والے کارکنان کی کسی گروہ کے ہاتھوں استعمال ہونے پر تنظیمی کارکنان انتشار کا شکار ہو جائیں گے۔ گزشتہ تین سالوں سے مسلسل کردار کشی، و پروپگنڈوں سے آج مذکورہ گروہ کا کردار نوجوانوں کے سامنے ہے۔ تنظیم کاری جھوٹی باتوں یا خیالی و تصوراتی الفاظ سے نہیں بلکہ گراؤنڈ میں سیاست کرنے اور اپنے عوام کے اندر متحرک رہنے سے ہوتی ہے۔ اپنی ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کرنے اور تصوراتی باتوں میں اطمینان ڈھونڈنے والے لوگ قومی مستقبل کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے۔ اور نہ ہی سنی سنائی باتوں سے متاثر ہو کر سیاسی بے راہ روی کا شکار ہونے والے کارکن اپنی شخصیت کی تعمیر کرسکتے ہیں۔بی ایس او آزاد بلوچ نوجوانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ تنظیم میں انتشار پھیلانے والے گروہ سے محتاط رہیں،اور تنظیم کے اندر رہ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں، انہوں نے کہا کہ بی ایس او آزاد کسی گروہ یا شخصیت کا اثاثہ نہیں بلکہ قومی اثاثہ ہے، اس کی حفاظت بلوچ عوام ونوجوان کررہے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0