بی ایل ایف کے بے لگام سرمچاروں نے مکران میں کئی معصوموں کودردناک اذیت دے کر قتل کیا

جمعرات 16 جولائی, 2015

پنجگور( ہمگام نیوز)بی ایل ایف کے ہاتھوں مکران میں قتل ہونے والے اسلم بلوچ اور محب اللہ کے اہلخانہ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہم سب سے پہلے سب آزادی پسند دوستوں سے اپنے اور اپنے علاقے کا تعارف کرنا چاہتے ہیں ہمارا تعلق بلوچستان کے علاقے ضلع پنجگور کے چھوٹے سے گاؤں دز پروم اور کہدہ غلام نبی فیملی سے ہے اگر ہم اپنے گاؤں کو چھوٹا کہیں، شاید مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اس گاؤں کی شان میں اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بڑا نام کمایا اور ہر دو گھر سے تین یا چار افراد پہاڑوں میں آزادی کی جنگ لڑنے چلے گئے آج ہم جس واقعے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ ہمارے گھر سے دو افراد کی ہے، خوش قسمتی کہا جائے یا بدقسمتی کہ ہمارے خاندان کے دو افراد 2012 میں اس جنگ کا حصہ بننے کا بہت شوق تھا بی ایل ایف کے علاقے کے دوستوں کی قربت کی وجہ سے وہ جنگ میں شامل ہوگئے ، محب اللہ ولد فتح محمد اور محمد اسلم ولد کہدہ غلام نبی دونوں چچا زاد بھائی بی ایل ایفمیں تھے اور ان کے ساتھ جو ہم نے قریب میں دیکھیں علاقے کے بہت سے نوجوان تھے اور آخر کا ر ایک دن ہمارے خاندان کے ایک ممبرکے گھر پنجگور میں ایف سی کا چھاپہ ہوا ،اوریہ گھر شہید علی جان شمبے زئی کا تھا ، ایف سی نے لوٹ مار کرکے گھر کا مکمل صفایا کردیا بعد میں شہید کچھ مہینے بعد ایران سے آرہے تھے گھر کے قریب اسے گولیوں سے چھلنی کردیا گیا، اس واقعہ نے پورے خاندان کو تبا ہ کردیا ہمارے ایک ا بزرگ کو دل کا دورہ پڑگیا اور کراچی کے ہسپتال میں انتقال کرگئے ان ہی مجبوریوں کی وجہ سے ہمارے بھائیبی ایل ایف سے علیحدگی اختیارکرگئے اور بی ایل ایف کے پروم نیٹ ورک اور مشکے والوں کو ہمارے سارے مجبوریوں کا علم تھا، لیکن ان کو یہ منظور نہیں تھا اور بقول گہرام بلوچ کے چودہ  نومبر کو گرفتار کی گئی محب اور اسلم پر یہ الزام لگایاکہ یہ شہداء گیبن تیسدسمبر دو ہزار تیرہ شہید غنی ، حلیم کے قتل میں حسن امام اور یعقوب بالگتری کے ساتھی تھے ، اس واقعہ کی پوری تفصیل ، ماسٹر منظور، گلزار امام منصور ،داد محمد عارف ولد محمد صالح ، مرتضی ، داد جان ، عبدالسلالم اور علاقے کے تمام چھوٹے بڑوں کو معلوم ہے کہ یہ واقعہ کیسے رونماہوا اور ساتھ ہی اسلم اور محب نے خود ہی اس واقعے کی تفصیل بھی بیان کی تھی
اہلخانہ نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ چونکہ ہمارے علاقے میں بی آر اے اور بی ایل ایف کے دوست کے ایک ساتھ کاروائی کرتے تھے ہوا یوں ایک دن ان سب کو علاقائی کمانڈر نے انھیں سولر اور بیٹریاں اٹھانے بھیج دیا ان میں جو لوگ شامل تھے وہ یہ تھے محمد اکرم ولد بجار جو صرف گاڑی ڈرائیور تھا اور اکرام کا سب سے چھوٹا بھائی مسعود بی آر اے کے دو ساتھی خیر بخش ولد حضور بخش اورسلال ولد محمد اور اسلم و محب شامل تھے یہ لوگ سولر اٹھانے گئے اور یہاں ان کا گاڑی خراب ہوا اکرام اور سلال گاڑی کے پاس تھے کہ پنجگور کی طرف سے آنے والے کروزر گاڑی ان کے پاس سے گزر گئی،اور یہ شہید حلیم و غنی جو پنجگور ٹو تربت روڈ جارہے تھے سلام اور خیربخش جو ابھی پاکستان ایف سی کی قید میں ہیں ،سلامل نے گاڑی کو روکنے کیلئے کہا اور غنی نے فائر کھول دیا اور یوں ان لوگوں کے درمیان اندھا دھند فائرنگ ہوا دونوں کو معلوم نہیں تھا ہم آپس میں سرمچار ہیں ،یہ تھا ایک حادثہ اور بعد میں سب کچھ اول سے آخر تک سب کچھ بی ایل ایف اور بی آر اے پروم ونگ کو بتایا گیا کہ کس طرح یہ واقعہ ہوا ہے اس واقعے میں شہید غنی کا ایک ساتھی بچ گیا تھا اور ابھی بھی گواہ ہے ابھی تو ان لوگوں نے پتہ نہیں اس کو کیا کیا لیکن اس وقت وہ زندہ بچ گیا تھا اس واقعے کے بعد حسن نے ان لوگوں سے علیحدگی اختیار کی باقی اسلم اور محب نے فورا انکو پورا واقعہ بتایا تھا یہ سب غلطی سے یہ واقعہ ہوا ہے بی ایل ایف ڈاکٹر اللہ نظر اور اختر ندیم ، خلیل سے لیکر پورے پروم والوں نے اسلم و محب اللہ کو کہاتھا جب غلطی سے یہ واقعہ ہوا ہے تو آجاؤ، وہاں بات چیت کرتے ہیں،تین چار مرتبہ ماسٹر منظور ولد شیر دل سے بات چیت کیا تھا ، مکمل یقین دہانی کے بعد ایک روز شہید اسلم جان گھر میں بیٹھا تھا کہ سعود عرف بلوچ جو کہ بی ایل ایف کا بندہ ہے اسکے فون سے عالم عرف میرو نے فون کرکے اسلم اور محب اللہ کو کہا پارٹی والے آئیں ہیں تم لوگ ملو ہم سے بات کرتے ہیں، اسلم ، محب اللہ اپنے کزن جاسم کی موٹر سائیکل کے ساتھ چلے گئے، وہاں جاسم کو ان لوگوں نے کہا جاؤ ہم بات کرکے خود آتے ہیں یہ گرفتاری یا خود چل کر گئے ہیں فیصلہ بلوچ آزادی تنظیم ، اور بلوچ عوام خود کریں ؟؟؟؟ اور یہ دن چودہ نومبر دو ہزار چودہ تھا جب یہ لوگ رات کو گھر نہیں پہنچے تو ادھر ادھر لوگوں سے پوچھا تو سعود نے کہا آجائیں گے، پریشان نہیں ہونا ، ہم لوگوں نے کچھ نہیں کہا آہستہ آہستہ دو دن گزر گئے، ہمارا شک یقین میں بدل گیا کہ شاید یہ ہمارے لوگوں کو نہیں چھوڑتے، لیکن ہم رابطہ کرتے گئے، سعود سے ،گلزار سے ، منظور سے سب نے یہی کہا بے فکر ہوجاؤ ، کچھ نہیں ہوگا، چھوڑ دیں گے،آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا لیکن 9مہینے کے اندر شروع سے لیکر ان دو معصوموں کی شہادت تک ہم رابطہ کرتے رہے ، اور بی ایل ایف و خاص کر اختر ندیم نے ہمیں دھوکے میں رکھا جس کو تقریباََ 25مرتبہ ہم نے سٹیلائٹ سے فون کیا اور چالیس سے زائد ایس ایم ایس کی، اور اختر ندیم ہر بار ایک الگ جھوٹ بولتا کبھی کہتا کہ سفر میں ہوں کبھی کہتا ہم آرمی والے نہیں ، اگر وہ تم لوگوں کے بھائی ہیں تو وہ ہمارے بھی بھائی ہیں اور صحیح سلامت پاس ہیں ، ہمارے خاندان کے فون کرنے والے بھی زندہ ہین اور اختر ندیم بھی زندہ ہے ، اگر اختر ندیم نے ہمیں جھوٹا ثابت کیا تو ہمارے سارے خاندان کی خون اس پہ معاف ،
اہلخانہ نے مزید کہا ہمیں کچھ شک تھا اسی لئے ہم نے بی آر اے اور بگٹی دوستوں کو مکمل معلومات فراہم کی اور ساتھ ہی بہت ہی کوشش کے بعد بی ایل اے کے دوستوں رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئیں اور انھیں بھی پوری تفصیل فراہم کی ، اور ساتھ ہی ہر بار اختر ندیم سے فون پہ بات جو بھی بات چیت ہوتی وہ تمام تفصیل بی ایل اے و بی آر اے کے دوستوں کو بتا دیتے ، اسی بنیاد پہ کہ کل کو اللہ نہ کرئے کوئی واقعہ پیش آجائے اور اختر ندیم پھر اپنے قول و وعدوں سے مکر نہ جائے ، لیکن بالآخر وہی ہوا جو بی ایل ایف ایک طویل عرصے سے بلوچ عوام کے ساتھ کرتا آرہا ہے اور ہمیں ہمارے میرے پیاروں کی لاشیں ملی ، اور 9ماہ تک انھیں بی ایل ایف نے اپنی اذیت خانوں میں رکھ کر انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا ، بغیر ثبوت کے یہ الزام لگایا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ اور یعقوب بالگتری کے بندے تھے، اگر ہم ڈیتھ اسکواڈ کے بندے ہوتے ہمارے خاندان کے حاجی فیض محمد کے اکلوتے لڑکے کو ڈیتھ اسکوڈ اٹھا کر نہ لیجاتا ،
بی ایل ایف کے بے لگام سرمچاروں کے ہاتھوں ایسے دیگر بہت سے واقعات پیش آئیں اور ڈاکٹر خواب خرگوش میں ہے ، اس لئے ہماری اپیل تمام بلوچ آزادی پسند دوستوں ، تنظیموں سے ہے کہ وہ ہمیں انصا ف دلانے میں اپنا قومی، و انسانی کردار ضرور ادا کریں تاکہ کل کو بی
ایل ایف کسی اور بے گناہ کے ساتھ اس طرح کا دھوکہ کرکے اس پہ مخبری کا الزام لگا کر اسے انتہائی اذیت ناک طریقے سے شہید نہ کریں
اہلخانہ شہید اسلم ، و محب اللہ شمبے زئی

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0