بی این ایف نے بلوچستان میں آپریشنوں کے خلاف دھرنا اور ریلی کا اعلان کر دیا

جمعرات 23 جولائی, 2015

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) آپریشنوں کے خلاف کل 24 جولائی کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے دھرنا اور 25 جولائی کو کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی جائیگی۔بی این ایف بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے آواران میں پچھلے چھ دنوں سے جاری آپریشن،وسیع پیمانے پر علاقوں کے گھیراؤ اور لوگوں کو محصور کرنے کے خلاف کوئٹہ اور کراچی میں احتجاجی ریلی و دھرنوں کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکے، ڈیرہ بگٹی، مستونگ و بلوچستان بھرمیں جاری آپریشنوں اور آواران کے مختلف علاقوں کا چھ دنوں سے مسلسل گھیراؤ کے خلاف 24جولائی بروز جمعہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا جائے گا جبکہ 25جولائی بروز ہفتہ کراچی میں ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دو دنوں کی مسلسل فضائی شیلنگ اور زمینی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ سے آواران کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے، علاقہ مکینوں کو محصور کرنے اور کسی کو متاثرہ علاقوں میں جانے نہ دینے کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک شدگان کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن کرکے فورسز جرائم کے ثبوت مٹانا چاہتے ہیں۔ جبکہ زخمیوں تک عدم رسائی کے باعث بڑی تعداد میں زخمیوں کی شہید ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ آواران کے نواحی علاقے زیرک ، وہلی ، سمیت سینکڑوں خاندانوں پر مشتمل آبادی عید کے دن سے تاحال فورسز کے گھیرے میں ہیں۔مقامی انتظامیہ ، میڈیا نمائندوں اور متاثرہ خاندانوں کے رشتہ داروں کو فورسز کے اہلکار باربار متاثرہ علاقوں تک جانے سے زبردستی منع کررہے ہیں جس ان کے رشتہ دار شدید پریشانی و ذہنی کوفت کا شکار ہیں، جبکہ فضائی بمباری کا شکار ہونے والے آواران کے دوسرے متاثرہ علاقوں سے 6لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن میں دو خواتین اور چار بزرگ شامل تھے،ترجمان نے کہا کہ دو دنوں کی مسلسل ہڑتال اور عوامی رد عمل کے باوجود فورسز تاحال علاقے کا گھیرا ختم کرنے کے بجائے آپریشن میں وسعت لا رہے ہیں۔ آج مشکے کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں فورسز کی آمد اور میہی کے گھیراؤ سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پہلے سے جاری خونی کاروائیوں میں مزید شدت لایا جائی گی۔ترجمان نے کہا کہ چین و پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ سرمایہ کاری کے معاہدات کے بعد نسل کشی کی کاروائیوں میں شدت لائی جا چکی ہے۔ ان کاروائیوں میں تسلسل کے ساتھ عام آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جس کی وجہ سے کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں لوگ ہلاک و زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ درجنوں خواتین و بچے اور بزرگ اغواء کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے اگر فوری طور پر علاقے کا محاصرہ ختم نہ کیا تو احتجاجی سلسلوں میں وسعت لاتے ہوئے مزید شدت لایا جائے گا۔بی این ایف کے ترجمان نے سول سوسائٹی کے نمائندوں اور انسانیت دوست تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان دھرنوں و مظاہروں میں شرکت کرکے بلوچستان میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ تاکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فورسز کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی انسانیت کی تذلیل کو روکا جا سکے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0