بی این ایف کی کال پر آج دوسرے روز بھی بلوچستان میں مکمل شٹرڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال رہی

منگل 21 جولائی, 2015

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے آواران میں جاری آپریشن کے خلاف دوروزہ مرکزی ہڑتال کی کال پر آج دوسرے روز بھی بلوچستان بھر میں مکمل شٹرڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال رہی ۔گوادر، پسنی، اوڑماڑہ، جیونی، تربت، مند، تمپ، بالگتر،ہوشاپ، پنجگور، آواران، مشکے، جھاؤ، خاران،واشک،بسیمہ،خضدار، سوراب،قلات، مستونگ، حب، بیلہ سمیت بلوچستان بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کاروباری مراکز ، سرکاری دفاتر اور بینک بند رہے، پہیہ جام ہڑتال کال کے باعث تمام قسم کی ٹرانسپورٹس معطل رہیں۔ بلوچ نیشل فرنٹ کے ترجمان نے ہڑتال کی کامیابی کو فورسز کے خلاف بلوچ عوام کی نفرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بھر میں بلوچ عوام کی نسل کشی، طاقت کا وحشیانہ استعمال اور ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندان کو لاپتہ کرنے کے باوجود جبر کے سامنے جھکنے کے بجائے بلوچ عوام اپنے آزادکے بحالی کی جدوجہد میں آ زادی پسند جماعتوں کے ساتھ ہیں۔اگر آپریشن سے متاثرہ علاقوں کا محاصرہ ختم نہ کرکے لاشوں کو دفنانے اور زخمیوں کی امداد کیلئے راستے نہ کھولے گئے تو آنے والے دنوں میں ہمیں رد عمل اور لاشوں کی بے حرمتی کے خلاف اس طرح کی اور احتجاجی ہڑتالوں کی ضرورت ہوگی اور بلوچ قوم ان مظالم کے خلاف ہر قسم کا رد عمل کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عید کے روز سے ضلع آواران کے کولواہ میں شروع ہونے والی آپریشن تاحال جاری ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں خواتین بچے و بزرگ شہید و زخمی ہونے خدشہ ہے۔ دو دنوں تک وہلی اور زیرک گاؤں ، چنوکی اور آسکانی پہاڑیوں پر فضائی بمباری و زمینی فورسز کی مسلسل شیلنگ سے یہ دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں، 4دنوں سے علاقہ مسلسل گھیرے میں ہونے کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو لاشوں و زخمیوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ترجمان کے مطابق فضائی بمباری کا شکار ہونے والے ایک دیہات سے چھ لاشوں کو شناخت کے بعد مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دفنا دیا ہے جن میں حیات ولد مولا بخش،محمد نور ولد اسحاق،صبرو ولد محمد نور،واحد ولد موسیٰ اور دو خواتین نورملک زوجہ اسحاق، اور گوہر زوجہ محمد شامل ہیں ، دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے ان لاشوں کو مقامی لوگوں نے اونٹوں کے ذریعے متاثرہ جگہوں سے منتقل کرکے دفنا دئیے ۔جبکہ زیرک ، وہلی ،قرب و جوار کے جتنے بھی دیہات فضائی و زمینی فورسز کی دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں، وہ تاحال فورسز کے گھیرے میں ہیں۔ سینکڑوں خاندانوں پر مشتمل ان دیہاتوں میں جنگی جہازوں و ہیلی کاپٹرز کی دو دنوں تک مسلسل شیلنگ سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فورسز کی تاحال وہاں موجودگی اور ہمسائیوں کو لاشوں و زخمیوں تک رسائی دینے سے انکار سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فورسز شہید ہونے والے مرد، خواتین و بچوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کرکے اپنے دہشتگردانہ کاروائیوں کے ثبوت مٹانا چاہتے ہیں۔چار دن تک مسلسل گھیراؤ اور بڑی تعداد میں فورسزقافلوں کی آمد و رفت یہی ظاہر کرتا ہے۔ حتیٰ کہ لوکل انتظامیہ کو بھی ان علاقوں میں داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ عید کی صبح قربانی کیلئے موجود حاجی زیارت پر اجتماع کو بھی بمباری کا نشانہ بنانے کی اطلاع ہے اور سب سے زیادہ یہیں پر انسانی جانوں کی ضیاع کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سے متاثرہ علاقوں سے متعدد خواتین و بچوں کو فورسز نے حراست میں لے کر فورسزہیڈکوارٹر منتقل کردیا۔ جہاں ان پر شدید تشدد کے بعد انہیں مقامی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا۔محکمہ داخلہ کی جانب کی کئی گرفتاریوں کے دعوے کے بعد انہیں کسی عدالت میں پیش نہ کرنے سے بھی یہی اندیشہ ہے کہ یہ لوگ اسی بمباری میں مارے گئے ہیں اور انہوں کہیں اجتماعی قبروں میں دفنانے کے بعد ہی علاقے کا محاصرہ ختم کیا جائیگا۔ اس طرح کی خونی کاروائیوں کے باوجود مقامی میڈیا فورسز کی جھوٹی بیانات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرکے جرائم کو جھوٹ کے لبادے میں چھپانا چاہتے ہیں۔بی این ایف کے ترجمان نے کہا کہ بلوچ نسل کشی کی کاروائیوں میں فورسز کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی شہادتوں، بڑی تعداد میں زخمیوں، اور آپریشن کے دوران نہتے نوجوانوں کی گرفتاریوں جیسے سنگین جنگی جرائم کے باوجود انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اپنی مجرمانہ خاموشی سے ان جرائم کا حصہ بن رہے ہیں۔اگر اس طرح کی سنگین جرائم کے باوجود انسانی حقوق کے علمبردار تنظیموں و عالمی میڈیا نے اس جانب کوئی موثر توجہ نہ دیا تو یہ ایک سنگین غلطی ہو گی۔بی این ایف مقامی اور انٹرنیشنل میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست کر تی ہے کہ وہ ان علاقوں تک رسائی کی کوشش کرکے حقائق کو دنیا کے سامنے لائیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0