بی این ایف کی کال پر 14 اگست کو بلوچستان بھر میں یومِ سیاہ ، شٹرڈاؤن رہی

جمعہ 14 اگست, 2015

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ نیشنل فرنٹ کی مرکزی کال پر آج 14 اگست کو جشن آزادی پاکستان کے موقع پر بلوچستان بھر میں یومِ سیاہ ، شٹرڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال کے باعث تمام کاروباری مراکزو دکانیں بند رہیں، جبکہ سڑکوں پر ٹریفک ناپید رہی۔ہڑتال کی کال پر گوادر، پسنی، جیونی ، اوڑماڑہ، مند، تمپ، دشت، بلیدہ،تربت، آواران،مشکے، جھاؤ، حب، پنجگور، بالگتر، ہوشاپ،ڈنڈار،خاران،نوشکی، واشک، بسیمہ، قلات ،مستونگ ، سوراب و کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے تمام چھوٹے و بڑے شہروں میں مارکیٹیں بند رہیں۔بی این ایف کے ترجمان نے ہڑتال کی کامیابی پربلوچ عوام کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشینری پچھلے کئی دنوں سے بلوچ عوام کو دھمکیوں، لالچ اور طاقت کے زور پر 14اگست کوفورسز چھاؤنیوں میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کرنے کے لئے مجبور کررہے تھے۔ خاران، مستونگ، مشکے، آوران، جھاؤ، کیچ، گوادر سمیت بلوچستان کے تمام شہروں میں 14اگست کے تقریبات کی کامیابی کے لئے فورسز نقل حمل میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ بلوچستان کے مختلف شہروں میں فورسز کی جانب سے پمفلٹ و میڈیا کے ذریعے لوگوں کو 14اگست کی تقریبات میں شرکت کی دھمکی آمیز دعوت ناموں کے باوجود 14 اگست کے دن بلوچستان میں جھنڈے فورسزقافلوں اور فورسز چھاؤنیوں تک ہی محدود رہے۔ بلوچستان میں غیر فطری وجود کے خلاف عوامی رد عمل سے حواس باختہ ہو کر فورسز نے کئی مقامات پر چھاپے مار کر متعدد نہتے لوگوں کو اغواء کر کے اپنی کیمپوں میں منتقل کردیا۔ بی این ایف ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر مالک کی حکومت میڈیا میں فورسزکیمپوں کے اندر ہونے والی تقاریب کو بلوچستان میں ہونے والی تقاریب ظاہر کرکے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ بلوچ عوام نے آج کے ہڑتال کی کال کو کامیاب کرکے شدت کے ساتھ پاکستان سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری تحریک آزادی بلوچ عوام کی تحریک ہے۔ تمام تر ظلم و جبر کے باوجود خلاف عوامی رد عمل اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچستان میں کسی بھی ادارے کو بلوچ عوام اپنی سرزمین پر برداشت نہیں کرسکتے۔ 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0