بی این ایم و بی ایس او کا وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے ریلی کی حمایت کا اعلان

جمعہ 3 اکتوبر, 2014

(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے عید کے روزوائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے ریلی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شال زون سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگ عید کے روز ماما قدیر کی قیادت میں ریلی میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ فرزندوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں،مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ آئے روز ریاستی فورسز کی سول آبادیوں پر جارحیت معصوم فرزندوں کی اغوا و شہادتیں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں ،قوم اور پارٹی کارکن شہیدوں اور فورسز کے ہاتھوں لاپتہ فرزندوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے عید سادگی کے ساتھ مناتے ہوئے شہداء کی قبروں پر حاضری دیکر انھیں سلام پیش کرنے کے ساتھ ریاستی زندانوں میں زیرتشدد فرزندوں کے گھروں میں جا کر یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ قومی آزادی کے پیغام کو موثر انداز میں گھر گھر پہنچائیں،مرکزی ترجمان نے کہا کہ خوشیاں اور مذہبی تہوار زندگی کا حصہ ہیں مگر حالت جنگ میں غلام قوم کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قابض ریاست آج ہماری حقیقی خوشی کے راہ میں ہمیں غلام بنائے رکھنے میں ہر حربے کا استعمال کر رہی ہے۔علمائے کرام سے امید ہے کہ وہ عید کے خطبوں میں قومی آزادی کی بات اور جہد کاروں کے لیے دعا کرکے اپنا فرض نبھائیں گے،جہاں ایک ریاست اسلام کے نام پر مذہبی دہشت گردی سمیت بلوچ قوم کے خلاف فرعونی جارحیت جاری رکھا ہوا ہے۔ایسے میں اسلام اور پیارے نبی کی تعلیمات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ ظالم کے خلاف مظلوم و محکوم و غلام قومیں اپنی پوری قوت استعمال کریں۔
جبکہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے  کہا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں اور پیرا ملٹری فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت اغواء کئے گئے چیئرمین زاہد بلوچ ذاکر مجید بلوچ ڈاکٹر دین محمد اقبال بلوچ سمیع مینگل سمیت ہزاروں بلوچ فرزندان کی عدم بازیابی کے خلاف کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے تمام زونوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عید کے روز اپنے اپنے علاقوں کے زمینی حالات کو مدّنظر رکھتے ہوئے احتجاجی پروگروامز ترتیب دیں تاکہہ بلوچ اسیران کے اہلِخانہ سے اظہارِ ہمدردی اور یکسوئی کے جذبات کے تحت دنیا کو پیغام دیا جا سکے کہ جہاں ایک طرف اُمت مسلمہ دنیا بھر میں عید کی خوشیاں منا رہی ہے وہیں دوسری جانب اس خطے میں بلوچ قوم پاکستانی ظلم و جبر کا شکار ہیں اس کے عوام کہیں سوگ کے عالم میں ہیں تو کہیں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے عید جیسے تہوار کے دنوں میں بھی احتجاج پر مجبور ہیں۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے بلوچستان کے طول وعرض میں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے کئی ہزار بلوچ سپوتوں کو اغواء کرکے نامعلوم ٹارچر سیلون میں منتقل کیا گیا ہے جن کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ آئے روز مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جبری طور پر اغواء شدہ تمام بلوچ فرزندوں کو ایک ایک کرکے شہید کیا جائے گاواضح رہے بلوچ فرزندوں کی اغواء نما گرفتاریوں اوربعد ازاں ان کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات میں پاکستانی خفیہ اداروں کے ساتھ نام نہاد جمہوری صوبائی حکومت اور مقامی ڈیتھ اسکواڑز کے کارندے ملوث ہیں جو عموماً مذہبی لبادے میں اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں جنہیں مکمل طور پر پاکستانی عسکری اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ہم اقوام متحدہ انسانی حقوق کے نمائندہ عالمی اداروں اور اقوام عالم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ انسانیت کو مقدم رکھ کر بلوچ نسل کُشی پر مبنی ماورائے قانون اغواء کاریوں اور تشدد ذدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدام اُٹھائیں تاکہہ انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب پاکستان کے ہاتھوں ایک پوری قوم کو تباہی سے بچایا جا سکے۔
image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0