بی این ایم کی تضاد بیانی کو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ بی ایس ایف

جمعرات 8 جنوری, 2015

 کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ وطن موومنٹ، بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں بی این ایم کے حالیہ کونسل سیشن میں خلیل بلوچ کے نان سٹاپ تقریر اوراخباری بیان کے متن کو مضحکہ خیز،پرفریب اور سیاسی ناپختگی کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بلوچ اکائیوں کے درمیان حقیقی اورناگزیر فکری تضادات کو دانستہ اور من گھڑت تضادات کے زریعہ چھپانے کی کوشش کرکے بی این ایم کی قیادت میر حیر بیار مری کے خلاف محاز آرائی کی کوشش کی ہے میر حیر بیار مری کے خلاف بی این ایم اور اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے سلسلہ وار پروپیگنڈہ کی جارہی ہے اس سے قبل بھی ان کے عسکری اتحادی تنظیم کی جانب سے بھی اس قسم کے منفی حربہ استعمال کئے جاچکے ہیں بی این ایم کے قیادت اور ان کے ہم پلہ جو خود کو عقل کل اور اصل قومی کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرکے اپنی ساکھ کی خیال سے بلوچ عوام کی اعتماد کویوٹوپیائی اور من گھڑت تصورات کے زریعہ جیتنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ تلخ حقائق پر مبنی جن اختلافات کا ذکر 2009 میں میر حیر بیار مری نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا تھا اس وقت بھی یہ لوگ تحریک کے سطح پر موجود زمینی تضادات کو مکمل طور پر نظر اندازکرنے کی پالیسی اپناتے ہوئے سرے سے ہی اختلافات کے وجود سے انکار کیا اورقومی ڈسپلن سے ہٹ کر آزاد خیالی اور بے راہروی کے ساتھ اختلافات کی حل بابت ایک انچ بھی پیش رفت کرنے کی تکلیف نہیں کی بلکہ وہ یکطرفہ اور فریق بن گئے آج وہی مسائل بھی جو بہت زیادہ نمایاں ،واضح اور شدت اختیار کرچکے ہیں اور اس سلسلے میں مکالمہ کے ساتھ ساتھ ان معاملات کے سراٹھانے اورحد بندیوں سے واقفیت کے باوجود بھی وہ اس سے یکسر انکاری ہوکر بلوچ عوام کو اپنی لفاظی تقریروں اور چرب و شیرین باتوں سے دھوکہ میں رکھ کر بلوچ عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں کہ بلوچ آزادی پسند اکائیاں ایک ہی مرکزیت میں ہیں اس لئے وہ ان تضادات کوکھبی ریاست کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں اور کھبی عالمی قوتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے جھولی میں ڈالتے ہیں اور کھبی اسے وار سائیکی قرار دیکر جان خلاصی کی کوشش کرتے ہیں اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ صورتحال میں بی این ایم کے قیادت جس صورتحال سے گزرہی ہے وہ شدید بحران اور کسی گریٹ ڈپریشن سے کم نہیں کیونکہ وہ مختلف الخیال تضادات کے بیچ ہچکولے کھارہے ہیں ایک طرف بی این ایم کے آئین مخلوط طرز معیشت اور ایک فلاحی قومی ریاست کی دفاع کرتے ہیں تو دوسری طرف بی این ایم کی قیادت ملٹی نیشنل کمپینیوں سے تصاد م پر آکر سوشلزم کے نعرہ کو تسکین روح سمجھتے ہیں ایک طرف وہ اقوام متحدہ اور نیٹو کو بلوچستان میں مداخلت کی بار بار اپیل کرتے ہوئے یورپی یونیں اور انہی سرمایہ دار ممالک سے مدد کی در خواست کرتے ہیں تو دوسری طرف انہی سرمایہ دارانہ ممالک کو متحارب سمجھتے ہیں سوشل ڈیموکریسی مکسڈ اکانومی کے نظریات رکھنے والے یہ قیادت اب توبہ تائب ہوکر عوام کو سوشلزم کا سندیسہ دیکر اپنے گناہوں کی صفائی پیش کررہے ہیں ترجمان نے کہاہے بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان قومی معاملات کو سوشلزم اور سرمایہ دارانہ نظریات کے اختلافات سے نتھی کرنا رائے عامہ کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی مترادف ہے میر حیر بیار مری آزاد بلوچستان کے حوالہ سے بین لاقوامی موبلائزیشن کا حصہ ہے وہ باہر بیٹھ کر انفرادی نہیں بلکہ ادارہ جاتی حیثیت سے کام کرہے ہیں عالمی رائے عامہ کوبلوچ آزادی کے حق میں ہموار کرنے یا عالمی قوتوں کو بلوچ مسئلہ آزادی کے بابت توجہ مبذول کرانے کی براہ راست سیاسی اور سفارتی کوششوں کوملٹی نیشنل کمپنیوں سے ڈیل یا معائدوں سے نتھی کرنا بی این ایم کے قیادت کی ناپختگی اور سیاسی طفلانہ پنی کی عکاس ہے اگر آج بلوچ آزادی کا مسئلہ دنیا کے ایوانوں میں سر اٹھارہی ہے اور اگر انہی سفارت کاری کے پیش نظر امریکہ یورپی یونین مہذب دنیا اور پوری عالمی برادری بلوچ تحریک آزادی کے اغراض و مقاصدسے آگائی رکھتے ہیں او ر اگردنیا بلوچ قوم کی باوقار اور آزاد شناخت کو تسلیم کرنے پر راضی ہوتی ہے تو اس میں بی این ایم کی حیرانگی اور حواس باختگی کا مطلب کیا ؟جو تکلیف حیر بیار کے کردار سے ریاست محسوس کر رہی ہے تو بی این ایم کا ان کے بارے میں وہی ریاستی بو ل بولنے کا عمل چے معنی دارد؟کیا بی این ایم سوشلزم کے نام نہاد نعرے سے اکتائی ہوئی بلوچ قوم کو ماضی کی طرح ایک خیالی دنیا اور بند گلی میں لے جانے کی کوشش تو نہیں کررہی ہے بی این ایم کا حالیہ بیان نہ صرف غیر جدلیاتی ہے بلکہ بلوچ قومی مفادات سے بلکل متصادم اور ایک یوٹو پیائی سوچ ہے جہاں تک آزادی پسندوں کے درمیان جن معاملات پر اختلافات موجود ہے وہ اپنی جگہ پر مسلمہ حیثیت رکھتے ہیں آج بی این ایم کے قیادت قومی معاملات طریقہ کا رپالیسی اور تحریک کو ایک ہی مرکزیت پر استوار کرنے کے حوالہ سے حقیقی اور فکری مکالمہ اور پیش رفت کو پس پشت ڈال کر چین کا بانسری بجارہاہے اس وقت پوری دنیا میں نہ سوشلزم کا جنگ ہے نہ کیپیٹلزم کااور نہ ہی دنیا میں سوشلزم وجود رکھتی ہے چین اور رشین سمیت دنیا کے کئی دعویدارسوشلسٹ ممالک اب سرمایہ داری کاحصہ بن چکے ہیں پوری دنیا قابض اور مقبوض قوتیں آمنے سامنے ہیں مقبوضہ قوموں کی قبضہ گیریت کے خلاف جدوجہد کئی ممالک میں جاری ہے اور آزادی کے بعض تحریکوں کو منزل مل چکی ہیں جو اپنی قومی ریاستیں تشکیل دیکر آزادی کے ساتھ جی رہے ہیں ترجمان ایک دفعہ پھر بی این ایم کے قیادت کی جانب سے حیر بیار مری اور ان کے ہم خیال دوستوں کے خلاف تضادبیانی من گھڑت اور زمینی حقائق سے ہٹ کر خطبات کوبلوچ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی مترادف سمجھتے ہوئے انہیں قابل مذمت عمل سمجھتا ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0