بی ایچ آر او کا لاشوں کی برآمدگی پہ اظہار تشویش

بدھ 24 ستمبر, 2014

کراچی۔۔ ہمگام نیوز۔۔بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے حالیہ چند دنوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر تیزی لانے پر گہرے تشویش کا اظہار کیاہے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں بی ایچ آر او نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک طرف تو حکام مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے بند ہونے کا دعوٰی بلاجھجک کررہے ہیں مگر دوسری طرف وقفے وقفے سے لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ بھی جاری ہے بی ایچ آر او نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں میںرونماءہونے والے واقعات اس امر کو تقویت دیتے ہیں کہ لوگوں کو اغواءکرنے کے بعد انکی مسخ شدہ لاشوں کو پھینکے کا عمل اسی طرح جاری و ساری ہے 23 ستمبر کوتربت کے علاقے پیدراک سے باہوٹ ولد پیر محمد سکنہ سری کلگ گورکوپ اور ولی محمد ولد شکاری یوسف سکنہ سولانی گورکوپ کی مسخ شدہ لاشیں پیدراک سے ملیں مختلف میڈیا ذرائع اور مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ دونوں افراد کو چند دن قبل خفیہ اداروں سے منسلک افراد نے اغواءکیا تھا اور کل انکی لاشیں ملیں اسی طرح 22ستمبر کو ایف سی کے ترجمان نے میڈیا میں یہ بیان جاری کیا تھا کہ ایف سی نے خضدار کے علاقے وڈھ میں تین افراد کو جرائم پیشہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کیا تھا اور مذکورہ تینوں افراد کو ایف سی نے مزاحمتکاراور دو مزاحمتی تنظیموں سے منسلک قرار دیا تھامگر بی ایچ آر او نے جب مختلف ذرائع سے تحقیق کی تو کوئی اور کہانی سامنے آئی مختلف میڈیا رپورٹس اور مقامی ذرائع سے بی اایچ آر او کو یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ تینوں افراد عزیز مینگل ، لیاقت بلوچ اور خلیل بلوچ مختلف اوقات میں وڈھ سے ایف سی کی جانب سے اٹھائے گئے تھے مذکورہ تینوں افراد جنہیں مزاحمتکار قرار دیا گیا تھا الگ الگ اوقات میں اپنے گھروں سے اٹھائے گئے تھے بی اییچ آر او کو ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق خلیل بلوچ اور لیاقت بلوچ کو 25اگست 2014کو وڈھ کے علاقے وھیرہ سے ایف سی نے انکے گھر سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا جو اس دن سے لاپتہ تھے مذکورہ دونوں افراد کے اغواءکی خبر مختلف میڈیا ذرائع میں بھی رپورٹ ہوئی تھی اور تیسرے ضعیف العمر شخص عزیز مینگل کو 21ستمبر 2014کی صبح ایف سی نے سرچ آپریشن کے دوران انکے بیٹے اور چند رشتہ داران سمیت غواءکیا تھا عزیز مینگل ، انکے بیٹے اور رشتہ داران کے ایف سی کے ہاتھوں اغواءکے چشم دید گواہ علاقے مکین ہیں مگر حیرت انگیز طور پر مختلف اوقات میں مختلف مقامات سے اٹھائے گئے ان تینوں افراد کی لاشیں 21اور 22ستمبر کی درمیانی شب برآمد ہوئیں جنہیں شناخت کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا مگر اسکے چند گھنٹوں بعد ایف سی کایہ بیان سامنے آیا کہ مذکورہ تینوں افراد کو مقابلے میں ہلاک کردیا گیا ہے بی ایچ آر او کی مختلف حوالوں سے تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ایف سی کا بیان حقائق پر مبنی نہیں کیونکہ قتل کیئے گئے تینوں افراد نہ صرف مختلف اوقات میں مختلف مقامات سے ایف سی کی جانب سے اغواءکیئے گئے تھے بلکہ اس روز ایف سی کے سرچ آپریشن کے دوران ایف سی کے ساتھ مقابلے یا فائرنگ کے تبادلے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا اسی طرح پیدراک میں قتل کیئے گئے دونوں افراد کو بھی خفیہ اداروں سے منسلک افراد نے اغواءکیا تھا دونوں واقعات میں ایک مماثلت ہے کہ ان واقعات کے تانے بانے ریاستی سیکیورٹی اداروں سے ملتے ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے جاری مارو اور پھینکو کی پالیسی کا تسلسل نظر آتا ہے یہ انسانیت کے خلاف انتہائی بہیمانہ اور قابل مذمت عمل ہے جس میں مقامی ذرائع ، میڈیا اور عالمی اداروں نے اپنی رپورٹوں میں ریاستی سیکیورٹی اداروں کو براہِ راست ملوث قرار دیا ہے گزشتہ کئی عرصے سے حکام کی جانب سے یہ دعوٰی سامنے آتا رہا ہے کہ مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ اب بند ہوچکا ہے مگر پے در پے رونماءہونے والے یہ واقعات ان دعووں کی نفی کرتے ہیں دوسری طرف سالوں جاری ان اندوہناک واقعات کی روک تھام کیلئے انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے کوئی عملی اقدام کا سامنے نہ آنا بھی باعثِ تشویش ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0