بی ایچ آر او کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

ہفتہ 22 نومبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہفتہ کو احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف تھا مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن می ںبلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاپک ڈیرہ بگٹی مشکے سمیت کئی علاقوں میں آپریشن سے متعلق نعرے درج تھے مقررین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 19-11-2014علیٰ الصبح 7بجے تربت سے 40کلو میٹر دور شاپک سری شاپک ڈنڈا میں ریاستی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن کی دوران آپریشن چادر اور چاردیواری کو پامال کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کو تشدد کرکے کئی گھروں کو لوٹ مار کرنے کے بعد آگ لگادی جس سے کئی گھر تباہ ہوگئے اور کئی بلوچ فرزند وں کو اپنے ساتھ لے گئے ان کو ایک دن تک حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا لیکن ان میں سے ایک ابھی تک ریاستی حراست میں ہے جسکا حالیہ دنوں میں شادی ہوچکی تھی آپریشن کے دوران ریاستی فورسز کے اندھا دھند فائرنگ سے خواتین زخمی ہوگئی 7بجے سے لیکر 2بجے تک مینی آپریشن کرنے کے بعد لوٹ مار کی اور بمبارمنٹ کرنے کے بعد 15گھروں کو جلایا گیا اور ان مین سے 11ایک خاندان کے تھے جن میں ایم بخش اور لکل داد کے گھر شامل ہیں اور ایک ہوٹل کو بھی نذر آتش کردیا گیا جو واحد بخش نامی شخص جو اسکے روزی روٹی کمانے کا واحد ذریعہ تھا زمینی آپریشن کے ساتھ فضائی آپریشن کرکے کھجور کے درخت باغات اور فصلوں کو آگ لگادی اور ساتھ ہی عام آبادی پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی جن سے کئی افراد زخمی ہوئے اانٹرنیشنل ایمنسٹی انسانی حقوق کے تنظیموں ،ایشین ہیومن رائٹس اور اقوام متحدہ سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسطرح کے غیر انسانی عمل کو روکنے کیلئے اپنی خاموشی کو تھوڑ کر بلوچستان کے حالات پر غور کریں اور کردار اد اکرکے انسانیت کو زندہ رکھیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0