تحریک آزادی کو نیشنلزم کی اصولوں پر منظم کرنے کی کوشش کو تیز کیا جائے، ایڈوکیٹ انور بلوچ

منگل 15 ستمبر, 2015

سویئزرلیڈ(ہمگام نیوز) بلوچ سیاسی رہنما محمد انور بلوچ ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچ سیاست پر شروع سے سردار اور نوابوں نے قبضہ کرکے بلوچ قوم کو قبضہ گیر ریاست کے ہاتھوں غلام بنانے میں قلیدی کردار ادا کیا ہے جو سلسلہ تا حال جاری ہے اور بلوچ یکجہتی کے خلاف بقاعدہ نظریاتی بنیاد پر جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ بلوچ قومی آزادی کے منکر اور ریاست کے طرفداری میں بلوچ قومی تاریخ اور بلوچ کلچر کے پرواہ کئے بغیر اپنے گروہی مفادات اور انفرادی حکمرانی کی خاطر نیشنلزم اور آزادی کے خلاف کھلم کھلا بلوچ نسل کشی اور بلوچ معدنی وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں ریاست کے ساتھ ایک دوسرے کے حریف بنے ہوئے ہیں ۔ بلوچ قوم کو اپنی قومی بقاء اور آزاد ریاست کیلئے دونوں قبضہ گیروں کے خلاف شعوری جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بلوچستان کی قبضہ کے بعد بلوچ قومی سیاست پر نظر ڈالا جائے تو سردار اور نواب قومی لیڈر اور بقاء اور خیر خواہی کے دعویدار ہونے کے بوجود قومی دشمن کے خلاف کبھی متحد نہیں رہے ۔ قومی مفادات اور معاملات میں ہمیشہ آپس میں باہمی اختلافات پیدا کر کے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو کر دشمن کو قبضہ جمانے میں موقع فراہم کرکے فائدہ پہنچاتے رہے ہیں اور بلوچ قومی وسائل سے ریاست روز بروز سیاسی ،معاشی اور دفاعی حوالے سے طاقتور بنکر اور بلوچ قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جھگڑتا رہا اور سردار و نواب اپنے آقا کی فرمانبرداری اور تعبیداری میں سرخم کئے ہوئے اپنا وفاداری نبانے میں سرخ روح ہونے کا القابات اور انعامات حاصل کرنے میں فخر محسوس کرتے چلے آ رہے ہیں ماضی قریب میں انہی سردار اور نوابوں نے شہید نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد جرگہ کرکے خان قلات کو بلوچستان کی آزادی کی مقدمہ لڑنے کیلئے باہر بھیج کر جلاوطنی اختیار کرنے پر متفقہ رضامندی کا اظہار کیا تھا لیکن جب ریاست نے اُن کے اِس اقدام خوف محسوس کیا تو فورا سردار اور نوابوں کو گلے لگا کر مال اور منصف سے نواز کر خان قلات کو دوبارہ بلانے پر رضامند کر دیا تاکہ اُنہی کی لاٹی اُنہی کی سر پربلوچستان کی قبضہ اور بلوچ قوم کی غلامی کو ایک دائمی مہر ثبت کیا جائے اور بلوچ قومی تحریک آزادی کو پراکسی وار،دہشت گردی یاکہ شرپسندی کا نام دے کر عالمی برادری کو مطمئن کیا جائے اور وفاداری کے بدلے وسائل کی لوٹ مار اور منصف کا سمجھوتا اور مزید حصہ داری کیلئے جرگہ میں گفت و شنیدجو چائے لے جانے کی بنیاد پر دونوں حریف متفق رہے ہیں ان حالات سے نوابزادہ براہمدغ بگٹی بھی متاثر ہو کر اپنے ماضی کے انٹریو اور بیانات کہ آزادی سے کم مذاکرات نہیں ہوگی بھول گئے اور ھزاروں بلوچ فرزندوں کی شہادتاور سیکنڈوں آسیروں کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے بغیر ایجنڈا کے مذاکراتی عمل میں شریک ہونے میں رضامندی اختیار کر لی۔ بلوچیءَ گوشاں آپ چہ بنہنزا لُردیں ۔ ان حالات و واقعات سے بلوچ قوم کو سبق حاصل کرنا اور ہوش کے ناخن لینا چائے کیونکہ یہ لوگ بلوچستان اور بلوچ قوم کے خیرخواہ پہلے تھے اور نہ ہی اب ہیں لہذا ان سردار اور نوابوں کی سر براہی پر انحصار کئے بغیر قومی سیاست اور قومی تحریک آزادی کو نیشنلزم کی اصولوں پر منظم کرنے کی کوشش کو تیز کیا جائے ، طبقاتی وگروہی اور روایتی سیاست کے خلاف جمہوری سیاست کو ترجیح دے کر ساسی سوچ کو بدل ڈالیں ۔ بلوچ سیاسی معاشرے میں نیشنلرم کے قیام کیلئے سرداری لیڈر شپ کو ختم کرنے اور قومی جمہوری لیڈر شپ کے قیام کو ممکن بنانے کیلئے بنیادی طور پر جدوجہد کر نے کیلئے بلوچ قوم کے ہر مکتبہ فکر اور خصوصا تعلیم یافتہ اور دانشوروں آگے آنا چاھئے وگرنہ یہ انحصار اور اعتبار ماضی کی طرح تحریک کو بہاکر لے جائے گی اور بلوچستان کی دائمی قبضہ اور بلوچ قوم ابدی غلامی میں رہے گی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0