ترکی میں کرد نواز وکیل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا

ہفتہ 28 نومبر, 2015

استنبول(ہمگام نیوز) ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیار باقر میں کرد وکیل طاہر ایلچی کو نامعلوم مسلح شخص نے سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ انھیں اس سے قبل کالعدم کرد تنظیم’ پی کے کے‘ کے حق میں بیان دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ’سنیچر کو بار ایسوسی ایشن کے صدر طاہر ایلچی کو دیار باقر میں میڈیا سے بات کرنے کے بعد سر میں گولی ماری ماری گئی۔

یاد رہے کہ طاہر ایلچی نے کالعدم کرد تنظیم’ کردش ورکرز پارٹی‘ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ شدت پسند تنظیم نہیں ہے، جس کے بعد ان پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

سنہ 1984 میں پی کے کے اور ترک سکیورٹی فورسز کے درمیان شروع ہونے والے تنازعے جس میں اب تک تقریباً 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں کہ پی کے کے اور ترک سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ جولائی میں ختم ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایک مرتبہ پھر سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کرد نواز جماعت کے مقامی اہلکار عمر تاستان کے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’جیسے ہی طاہر ایلچی کی میڈیا سے بات چیت ختم ہوئی تو وہاں موجود ہجوم پر گولیوں کی بارش کر دی گئی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’طاہر ایلچی کو سر میں ایک گولی لگی جس سے وہ ہلاک ہوگئے جبکہ 11 مزید افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔‘

اس وقعے کے فوراً بعد ترکی کے صدر طیب اردوغان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’دیار باقر میں ہونے والے اس حملے میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔‘

صدر ارودغان نے کہا کہ ’اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترکی کا شدت پسندی کے خلاف لڑنے کا عظم صحیح ہے۔‘

دیار باقر کے گورنر نے اس واقعے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0