ترکی کے طیاروں کی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری

جمعہ 24 جولائی, 2015

استنبول(ہمگام نیوز) ترکی نے اپنے ایک فضائی اڈے سے امریکہ کے لڑاکا طیاروں کو شام کے اندر داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

ترکی نے کہا ہے کہ اس نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جس سے اس شدت پسند تنظیم کے خلاف جنگ میں ترکی کا کردار مزید وسیع ہو گیا ہے۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ترک فضائیہ کے تین ایف سولہ طیاروں نے جمعہ کی صبح، سرحد کے قریب شام کے صوبے کیلیس میں اہداف پر بمباری کی۔

بیان میں کہا گیا کہ لڑاکا طیاروں نے داعش کے تین اہداف پر بم گرائے جن میں شدت پسندوں کے دو مرکزی دفاتر بھی شامل ہیں۔

ان کارروائیوں کا فیصلہ جمعرات کو وزیراعظم اوغلو کی زیر صدارت سکیورٹی کے اعلی حکام کے ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

جمعہ کو ہی ترک ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ پولیس نے داعش اور کرد جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر چھاپا مار کارروائیاں کی ہیں۔ استنبول میں تقریباً پانچ ہزار سکیورٹی اہلکار نے کم ازکم 100 مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ ان اہلکاروں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل تھی۔ تاحال ان میں ہونے والی گرفتاریوں کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

شام میں ترک فضائیہ کے حملے ان خبروں کے ایک دن بعد کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ صدر رجب طیب اردوان نے امریکہ کے لڑاکا طیاروں کو شام کے اندر داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے ترکی کا انجرلک فضائی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

ترکی کے روزنامے ’حریت‘، امریکی اخبارات ’وال سٹریٹ جرنل‘ اور ’نیو یارک ٹائمز‘ نے خبروں میں کہا تھا کہ معاہدے کا فیصلہ بدھ کو اردوان اور صدر براک اوباما کے درمیان ایک ٹیلی فون کال کے دوران کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا وہ ’ آپریشنل سیکورٹی خدشات‘ کے باعث انجرلک کے بارے میں کیے گئے سوالات کا براہ راست جواب نہیں دے سکیں گے۔

مگر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے داعش شدت پسندوں کے خلاف جنگی کارروائیوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ ’’عراق میں امن و استحکام اور شام میں جاری جنگ کے سیاسی حل کی کوششوں کو تیز کیا جا سکے۔‘‘

وائٹ ہاؤس کے بیان میں انجرلک کا نام نہیں لیا گیا مگر اس میں کہا گیا کہ اوباما اور اردوان نے ’’(داعش میں شمولیت کے لیے) غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد روکنے اور ترکی کی شام کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے تعاون بڑھانے کی کوششوں پر بات چیت کی۔‘‘

امریکی فوج طویل عرصہ سے انجرلک اڈے پر فعال ہے مگر ترکی نے اس کے داعش کے خلاف حملوں میں استعمال پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

یہ فضائی اڈا شام میں داعش کے گڑھ رقہ سے تقریباً 400 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس سے قبل امریکی جہاز عراقی اڈے سے 1,900 کلومیٹر سفر طے کر کے شام کے اندر بمباری کرتے تھے۔ اب یہ فاصلہ بہت حد تک کم ہو جائے گا۔

’حریت‘ نے کہا کہ حملوں کے لیے انجرلک کے استعمال پر عمومی اتفاق رائے جولائی کے اوائل میں طے پا گیا تھا۔ امریکہ کی قیادت میں فضائی اتحاد نے عراق اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر ہزاروں فضائی حملے کیے ہیں اور کہا ہے کہ اس سے شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے میں کچھ کامیابی ملی ہے۔ مگر داعش اب بھی شمالی اور مغربی عراق اور ترکی کی سرحد کے قریب شمالی شام کے کئی علاقوں پر قابض ہے۔

جمعرات کو داعش کے جنگجوؤں اور ترکی کو فوج کے درمیان سرحد پر جھڑپ میں کم از کم ایک ترک فوجی ہلاک ہو گیا۔

پیر کو ترکی کے شہر سوروچ میں ایک مہلک خودکش حملے میں بتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن کی اکثریت ان سرگرم نوجوانوں پر مشتمل تھی جو شام میں ایک امدادی مشن کی تیاری کر رہے تھے۔ اس کے بعد ترک حکومت نے پہلی مرتبہ داعش پر اس حملے کا الزام عائد کیا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0