تمپ میں فوجی دستوں کی آمد،آپریشن کا خدشہ ہے۔ بی ایس او آزاد

جمعرات 6 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلو چ اسٹو ڈنٹس آرگنا ئز یشن آزادکے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ آج صبح سے پاکستانی آرمی کے فوجی دستے تمپ پہنچنے شروع ہو گئے ہیں جن میں 25بڑے ٹرک، 200کے قریب چھوٹی گاڑیاں اور درجن کے برابر موٹر سائیکل شامل تھے جو بڑی تعداد میں تازہ دم فوجی اور اسلحہ سے لدے ہوئے تھے پاکستانی آرمی کے دستوں نے علاقے میں پہنچتے ہی عام آبادی پر فایرنگ شروع کر دی جس سے علاقے میں بڑے پیمانے پر کاروئی کرنے کا خدشہ ہے پاکستانی آرمی کی جانب سے بلوچ آبادیوں پر حملے اور بمباری اب روز کا معمول بن چکی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں بلوچ اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تمپ اور گرد و نواح میں فوجی لشکر جمع کرنے کا مقصد اس علاقے میں نہتے بلوچ قوم کی نسل کشی کرنا ہے اسلامی جذبے سے سرشار کہنے والے پاکستانی فوج کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ بلوچ آبادیوں پر چڑھ دوڑتی ہے اور معصوم لوگوں کی جان و مال کو تباہ کرنااس کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اسی لئے اس علاقے میں فوجی کاروائی کرنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر تبائی پھیلنے کا خدشہ ہے ہم اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کی تنظیموں سے ایک دفعہ پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی طرف سے بلوچوں پر کیے جانے والے ظلم و زیادتیوں کا نوٹس لے اور دہشت گردی کی آڑھ میں ملنے والی امداد کو پاکستان جس طرح بلوچ کی نسل کشی کے لیے استعمال کر رہا ہے، اس کی روک تھام کے لئے پاکستان کی امداد بند کی جائے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0