تنظیم کے نام پر منعقدہ خودساختہ کونسل سیشن کی کوئی حیثیت نہیں ۔ بی ایس او آزاد

ہفتہ 28 نومبر, 2015

 کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی آرگنائزنگ باڑی کے جاری کردہ بیان میں چند متنازعہ افراد کی جانب سے بی ایس او کا قومی کونسل سیشن منعقد کرنے کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بی ایس او آزاد کے نام کو استعمال کرتے ہوئے چند متنازعہ افراد گزشتہ دو سالوں سے خود کو میڈیا میں زندہ رکھے ہوئے ہیں جن کا نہ ہی بی ایس او آزاد کے آئین و اداروں سے کوئی وابستگی ہے اور نہ ہی بلوچ طلبہ اور عوام میں ان کا کوئی وجود ہے بلوچ نوجوانوں کی قربانیوں اور بی ایس او آزاد کے قومی اور بین الاقوامی ساکھ کو استعمال کرتے ہوئے شخصی نمائش پر مبنی سرگرمیوں کے زریعے مزکورہ متنازعہ افراد نہ صرف بلوچ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ بی ایس او جسے انقلابی ادارے کا استحصال کرتے ہوئے اپنے شخصی نمود و نماش کی ایجنڈے کو پورہ کررہے ہیں ۔ آرگنائزنگ باڑی کی جانب سے مزید کہا گیا کہ مزکورہ تنازعہ گروہ 2012میں منعقدہ متنازعہ کونسل سیشن کے بعد پیدا ہونے والے بحرانی حالات کی پیداوار ہے انہی افراد نے متنازعہ کونسل سیشن کے بعد تنظیم کے اداروں اور آئین کو پامال کرتے ہوئے مخلص کارکنوں کو تنظیم سے بے دخل کرنے کیلئے اپنے شب و روز ایک کیئے اورسینکڑوں کارکنوں و عہدیداروں کو بے دخل کرنے اور باقی رہ جانے والے سنجیدہ کارکنوں کی زندگیوں کو خطرات میں دکھیلنے کے بعد اپنے ایجنڈے میں عارضی طور پر کامیاب ہوئے۔موجودہ بے بنیاد اور خیالی کونسل سیشن درحقیقت انہی متنازعہ افراد کے ایجنڈوں کے تکمیل ہے جو گزشتہ دو سالوں سے متنازعہ مہم جوئیوں ، اخباری بیانات اور فوٹو سیشن کے آسرے پر اپنے مردہ سیاست کو زندہ رکھے ہوئے تھے اور اب اسی سیاست کو ایک حقیقت ثابت کرنے کی کوششوں میں چند افراد کو جمع کر کے اس پر بی ایس او کے تاریخی عمل کاتھڑکا لگاکر خود کو آئینی چادر میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ موجودہ بے بنیاد کونسل سیشن کی حیثیت ان بے بنیاد اجلاسوں سے مختلف نہیں جو مزکورہ گروہ گزشتہ دو سالوں سے منعقد کرتی آرہی جن کا نہ بی ایس او آزاد سے اور نہ ہی بلوچ قومی آزادی کی جد وجہد سے کوئی واستہ رہا ہے بلکہ چند اشخاص کی میڈیا میں موجودگی کو ثابت کرناہی ان نام نہاد اجلاسوں کا مقصد اور متمع نظر رہا ہے جو کہ مزکورہ گروہ بلوچ عوام اور بیر ون ملک رہنے والے بلوچ فرزندہ کے حمایت حاصل کرنے کیلئے باقائدگی سے سوشل میڈیا میں دیتے رہے ہیں ۔اب بھی اسی طرح کا ایک بے بنیاد مجمع اکھٹا کرتے ہوئے چند تصاویر اور اخباری بیانات یا پریس کانفرس کے زریعے عوام کے سامنے ایک فریب رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے تا کے چند مسترد شدہ متنازعہ افراد بلوچ عوام کو یہ دکھا سکیں کہ ان کی ناکام سیاست بی ایس او آزاد کے تحت ہو رہی ہے اور یہ متنازعہ افراد ایک انقلابی تنظیم کے رہنما ہیں اور اس طرح بی ایس او کو قومی ادارہ بنانے والے ان ہزاروں انقلابی فرزندوں کی قربانیوں کو اپنی پست ایجنڈوں کی تکمیل کیلئے استعمال کر سکیں ۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مزکورہ متنازعہ گروہ اپنی ناکامیوں کو سامنا اول روز سے کرتی آرہی ہے جنہیں چھپانے کیلئے نہ صرف نمائشی حربوں کا سہارہ لیا جاتارہا ہے بلکہ قومی تحریک میں مجموعی طور پر منفی رویوں اور نمائشی سیاست کو فروغ دے کر اپنے ناکامیوں کو کامیابیاں ثابت کرنے کی احمقانہ کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن بی ایس او کی تاریخ گواہ ہے ایسے سینکڑوں متنازعہ افراد اٹھے ہیں اور تاریخ کی دھول میں کھو گئے اور ایسے کئی نمائشی کونسل سیشنز آج تاریخ کے جبر کے سامنے ایسے غائب ہوئے ہیں کہ ان کے منعقد کرنے والے اور ان کے منتخب کیئے ہوئے کردارتاریخ کے صفوں پر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ اگر چند لوگوں کو یہی خوش گمانی ہے کہ وہ قومی تحریک اور قومی ادروں کے انتشار کو بھڑاوادے کر اس انتشار کو اپنی شخصیت کی تشہیر کیلئے استعمال کرلینگے تو یہ ان کیلئے شاید کسی بڑی حکمت عملی کی اہمیت رکھتا ہوگا لیکن قومی آزادی کے تاریخی عمل میں ایسے خوش فہمیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں جبکہ ان کے برعکس جو قوتیں قومی تحریک کے انقلابی لائحہ عمل پر یقین رکھتے ہیں اور قومی نجات کے عمل کے راہ راست پر رہنے اورانقلابی اداروں کے قیام اور مضبوطی کی جد وجہد کرتی ہیں ان کی کامیابی یقینی ہے جسے تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے آج قومی تحریک کے کٹھن دور میں اس طرح کے نمائشی کرداروں نے اپنے تمام تر توانائیاں انتشار اور منفی سیاست کیلئے صرف کیئے ہوئے ہیں لیکن وہ جہدکار جنہوں نے نمائشی سیاست سمیت قومی آزادی کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے والے کوششوں کے سامنے مزاحمت کی ہے وہ گزشتہ ادوار کی نسبت آ ج زیادہ مضبوط ہیں اور قومی جد و جہد میں اپنی راہیں سدھارنے اور منفی سیاست سے الگ ہونے کے قابل ہو چکی ہیں ۔ آرگنائزنگ باڑی کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں بی ایس او آزاد کے حقیقی کارکنان اس طرح کے متنازعہ گروہوں کے نمائشی سیاست کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اخباری بیان بازی سے گریز کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں البتہ مزکورہ گروہ کی جانب سے جس طرح کونسل سیشن جیسے آئین ساز ادارے کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ بی ایس او آزاد کو متنازعہ افراد کے زریعے ختم کرنے کی ایک مزموم کوشش ہے جس کے متعلق حقائق سے عوام کو گاہ کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں اگرچہ مزکورہ متنازعہ گروہ کی جانب سے جاری کیئے گئے بے بنیاد، کھوکلے اور دسیوں بار دہرائے ہوئے بیانات خود اس بے بنیاد کونسل سیشن اور ان متنازعہ کرداروں کی حقیقت کو واضح کرنے کیلئے کافی ہیں البتہ مزکورہ گروہ نے بلوچ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے جن جن حقائق کو مسخ کیا ہے،جس طرح بے بنیاد و پرتضاد باتیں بناکر اورجو دیگر حربے آزمائے ہیں ان کے متعلق آئندہ چند دنوں میں بلوچ عوام کے سامنے واضح حقیقت رکھ دی جائے گی بی ایس او آزاد کے مخلص کارکنان اس حقیقت پر مطمئن ہیں کہ جس طرح 1960سے لیگر 2009تک ایسے دسیوں کونسل سیشنزتاریخی میں بے بنیاد ثابت ہوچکے ہیں مزکورہ بے بنیاد کونسل سیشن کا حال بھی مختلف نہ ہوگا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0