تیرہ نومبربلوچ شہداء سے تجدید عہد کا دن

اتوار 9 نومبر, 2014

   ہمگام اداریہ
جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاءاور مشرق وسطیٰ کے عین وسط میں ہونے اور اپنے مخصوص جغرافیہ کیا وجہ سے بلوچستان کا خطہ ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے ، اسی وجہ سے تاریخی طور پر ہر ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کی نظریں بلوچستان پر رہی ہیں ، صنعتی انقلاب سے پہلے عالمگیریت کے اثرات نا ہونے کی وجہ سے طاقت کی رسہ کشی صرف علاقائی طاقتوں کے بیچ میں رہتی تھی اسی لیئے بلوچستان پر قبضہ کی خواہش ایران ، افغانستان اور بھارت کے حکمرانوں کی رہی اسی لیئے اپنے اپنے دور میں سائرس اعظم ، چندر گپت موریا ، محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی وغیرہ نے بلوچستان پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کی ، صنعتی انقلاب کے بعد جب نوآبادیاتی نظام کا آغاز ہوا تو پھر بلوچستان کو پرتگالیوں اور انگریزوں کے بھی حملے اور قبضے سہنے پڑے لیکن پورے بلو چ تاریخ کے ہر دور میں اگر ہمیں ایک قدر مشترک ملتی ہے تو وہ ہے اپنے ذمین کا دفاع اور اس کے حفاظت و آزادی کیلئے اپنی جان قربان کرنا ۔ مزاحمت اور وطن سے محبت کا یہ جذبہ ہمیں بلوچستان پر 27مارچ 1948 میں پاکستانی قبضہ کے بعد بھی دِکھتا ہے ، پنجابی شاونسٹ ملک پاکستان نے بلوچستان پر برطانوی قبضے کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے صرف 7 ماہ کے آزادی کے بعد پھر سے بلوچستان پر قبضہ کرلیا ، پاکستانی قبضہ کے پہلے دن سے آج تک بلوچ نا اس ناجائز تسلط کو تسلیم کرتے ہیں اور نا کسی طور پر خود کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں اس لیئے پہلے دن سے آغا عبدالکریم خان نے بلوچستان کی جنگ آزادی شروع کردی جو مختلف مد و جزر سے گذرنے کے بعد آج بھی جاری ہے ۔ اس طویل جدوجہد کے دوران ہزاروں بلوچوں نے اپنی جانیں قربان کی اور ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی فوج نے لاپتہ کردیئے ہیں ۔ ان شہادتوں کا سلسلہ اتنا طویل ہے کہ آج یہ بلوچ نیشنلزم کی ایک مضبوط بنیاد بن چکے ہیں ۔
بلوچ قوم پرست سیاست میں بلوچ شہداءکا کردار اور ان کی قربانی ہمیشہ کلیدی رہا ہے ، تمام بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتیں ان شہداءکی برسیاں انتہائی احترام سے مناتی رہی ہیں اور ان میں بلوچ عوام کی شرکت بھی مثالی رہا ہے لیکن موجودہ بلوچ تحریک میں روزانہ کے بنیاد پر شہادتوں اور مستزادیہ 175 سالہ دور غلامی میں شہداءکی طویل فہرست نے یہ امر ناممکن بنادیا کہ تمام شہداءکی برسیاں یکساں منائی جاسکےں ، اس لیئے 2010 میں اس ضرورت کو بلوچ آزادی پسندوں نے محسوس کیا کہ دوسرے مہذب اقوام کی طرح بلوچ شہداءکیلئے ایک دن مخصوص کیا جائے اور اس دن کو ناصرف مقبوضہ بلوچستان بلکہ پورے دنیا میں جہاں بھی بلوچ آباد ہیں احترام و عقیدت کے ساتھ منائیں اس لیئے بالآخر 13 نومبر کے دن کو بلوچ شہداءسے منصوب کیا گیا اور گذشتہ چار سالوں سے یہ دن انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے یہ دن نا صرف بلوچ شہداءکے لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ مشترکہ طور پر اس دن کو منانا بلوچ قوم کی یکجہتی اور شہداءکے مقصد سے وابستگی کا اظہار بھی ہے ۔
13 نومبر کا دن بلوچ تاریخ میں ایک بہت اہم دن ہے ۔ اس دن برطانیہ کی فوج نے بلوچستان پر حملہ کرکے باقاعدہ قبضہ کیا تھا اور سینکڑوں سالوں سے آزاد و خود مختار بلوچستان پر اپنا تسلط جمالیا تھا لیکن اس دن کی اہمیت بلوچ مزاحمت کی وجہ سے اور زیادہ ہوجاتی ہے ۔ اس وقت کے بلوچ سربراہ مملکت خان محراب خان نے حملہ آور انگریزوں کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور برطانوی فوج سے لڑنے کا فیصلہ ان الفاظوں کے ساتھ کرلیا کہ ” میں یہ جنگ جیت تو نہیں سکتا لیکن اپنے وطن کیلئے جان تو قربان کرسکتا ہوں“ اس لڑائی میں خان محراب خان بلوچ عوام کے ساتھ ملکر لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ، یہ قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب وطن کے حفاظت اور اسکی آزادی کی بات آئے تو تمام بلوچ ایک ہوجاتے ہیں اور خواص و عوام کا تصور ختم ہوجاتا ہے ۔ یہ دن نا صرف بیرونی حملہ آوروں کے ہاتھوں شہادتوں کا آغاز تھا بلکہ یہ دن طبقات و درجات سے بالاتر ہوکر دشمن سے ایک ہوکر مقابلہ کرنے کا بھی اعلیٰ مثال تھا ۔ اسی تاریخی پس منظر کو دیکھ کر ہی 13 نومبر کا دن بلوچ شہداءکیلئے مختص کیا گیا اور ہر سال منایا جاتا ہے ۔ اس دن کی اہمیت اور شہداءکے قدر و منزلت کو تسلیم کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن چارٹر میں بھی ایک شق کی صورت میں اس دن کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ بعد از آزادی بلوچستان بھی 13 نومبر کا دن اسی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے اور آزاد و خوشحال بلوچستان کے شہداءکے مقصد سے تجدید عہد کیا جائے۔
بلوچستان میں روایتی طور پر 13 نومبر کا دن بلوچ شہداءکے لواحقین پر مشتمل کمیٹی بلوچ شہداءکمیٹی مناتی ہے اس سال بھی بلوچ شہداءکمیٹی نا صرف بلوچستان بھر میں بلکہ دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں بھی 13 نومبر کا دن منا رہا ہے جبکہ باقی کئی بلوچ آزادی پسند تنظیمیں بھی اس دن مختلف پروگراموں کا اہتمام کررہے ہیں اور تین جماعتی اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ نے اس دن شٹر ڈاون ہڑتال کی کال بھی دی ہوئی ہے ۔ ان بلوچ آزادی پسند جماعتوں نے تمام بلوچوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہداءکے یاد میں13 نومبر کے دن ہر جگہ اپنے طور پر بھی مختلف مجالس کا اہتمام کریں ، ان کی تصویریں ہر جگہ آویزاں کریں اوران کی یاد میں چراغاں کریں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0