تیرہ نومبر کو شہدا کی یاد میں پروگراموں کا انعقاد کریں۔ بی ایس او آزاد

اتوار 9 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بی ایس او آزادکے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری ہونے والے بیان میں کہا کہ 13نومبر یوم شہدائے بلوچستان ہمیں ان شہدء کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے بلوچ سرزمین کی آزادی اور بلوچ قوم کے روشن مستقبل کے لیے اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کیابی ایس اوآزاد اپنے تمام شہداء کو سرخ سلام پیش کرتاہے اور تمام زون کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 13نومبر کو شہداء کی یاد میں زونل سطح پرپر وگر ام کا انعقاد کریں شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کریں اور تمام کارکن بڑھ چڑھ کر عوام کو شہدء کی قربانی اور ان کے شہادت کے مقصد کے بارے میں معلومات فراہم کریں اس کے علاوہ 3روزہ ہڑتال کو کامیاب کرنے کے لیے عوام کو وسیع پیمانے پر آگاہی دیں۔ ترجمان نے کہا کہ بی ایس او آزادنے پاکستانی زندانوں میں قید لاپتہ بلوچ اسیران کی بازیابی کے لیے 11،12,13نومبرکو بلو چستان میں بلو چوں اغو اء نما گر فتا ری کے خلاف اور اقوام متحد ہ خاموشی اور انکو متو جہ کرنے کیلئے بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال کی کال دی ہے۔ اور اس کال کا مقصد یہ بھی ہے کہ 13نومبر کی شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان 19ہزار لاپتہ بلوچ اسیران کی بازیابی کے لیے عالمی دنیا تک اپنی آواز کو پہنچانا ہے۔اور پاکستانی مظالم کی طرف ان کو متوجہ کرنا ہے۔ جو روز باروز اپنی وحشت و بربریت میں اضافہ کرتے ہوئے بلوچ شہداء کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔ صرف پچھلے کچھ دن میں مختلف جگہوں سے درجن کے قریب بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں دریافت ہوئی ہیں۔ بی ایس او آزادکا مقصد شہداء کے دن کوقومی جذبے کے تحت منا تا ہے۔ بلکہ شہداء کے مشن کو پایہ تکمیل تک لے جانے کے لیے جہد کرنے والے ہزاروں بلوچ اسیران کی بازیابی کے لیے دنیا کی توجہ حاصل کرنا ہے اس وقت پاکستانی زندان میں بی ایس او آزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ، ذاکر مجید بلوچ، سمیع مینگل، ڈاکٹر دین محمد، بانک زرینہ بلوچ، غفور بلوچ، رمضان بلوچ سمیت ہزاروں بلوچ نوجوان، بچے، بوڑھے اور خواتین مقید ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بی ایس او آزادبلوچ عوام کی طاقت پر یقین قامل رکھتی ہے اور عوام نے ہمیشہ سے بی ایس او آزاد کی ہر کال پر دل و جان سے عمل کیا ہے۔ اور 11,12,13نومبر کو پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال کے موقع پر بھی ہم امید کرتے ہیں کہ عوام 3دن اپنے کاروبار کو بند رکھیں گے اور ثابت کریں گے کہ وہ شہداء اور لاپتہ بلوچ اسیران کے حقیقی وارث ہیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے یکجا ہو کر اس ہڑتال کو کامیاب کریں اس ہڑتال کو کامیاب کر کے دنیا کو لاپتہ اسیران کے مسئلے کی حساسیت کے بارے میں آگاہ کرنا ہے کہ ہم اپنے سیاسی کارکنوں کو پاکستان کے ہاتھوں اغواء اور لاپتہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے، اور نہ ہی بلوچ نسل کشی کے لیے پاکستان کو کھلی چھوٹ ملنی چاہیے۔ اور ہمین متحد ہو کر دنیا پر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ بلوچ مسئلے کا واحد حل آزادی ہے جو بلوچ قوم کا مشترکہ فیصلہ ہے۔

 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0