تیونس: صدارتی محافظوں کی بس پر حملہ، 12 ہلاک

بدھ 25 نومبر, 2015

تیونس ( ویب ڈیسک) تیونس کے دارالحکومت میں صدارتی گارڈز کی بس پر ہونے والے بم حملے کے نتیجے میں 12 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’بس پر سوار بیشتر ایجنٹس ہلاک ہوگئے‘۔

سرکاری حکام کا کہنا تھاکہ حملہ‘ دارالحکومت کے علاقے محمدوی ایونیو میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔

تیونس کے صدر محمد الباجي قائد السبسي نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دارالحکومت میں ایک روز کیلئے کرفیو لگانے کا حکم جاری کیا۔

محمد الباجي قائد السبسي نے واقعہ کے بعد اپنا سوئیزر لینڈ کا دورہ منسوخ کردیا.

سرکاری ٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے صدر کا کہنا تھا کہ ’اس دکھ اور ایک بڑے سانحہ کے موقع پر میں قانون کے مطابق ملک میں 30 روز کے لیے ایمرجنسی اور دارالحکومت میں (مقامی وقت کے مطابق) شام 9 سے صبح 5 تک کرفیو کے نفاذ کا اعلان کرتا ہوں‘۔

کرفیو کے حوالے سے صدارتی ترجمان نے بتایا کہ کسی بھی نئے حکم تک کرفیو جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ فوری طور پر حملے کی ذمہ داری کسی بھی تنظیم یا گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔

یہ خیال رہے کہ تیونس میں 2011 میں آنے والے انقلاب کے بعد سے ملک کی صورت حال کشیدہ ہے۔

بم دھاکے کے بعد تیونس کے وزیراعظم اور وزیرداخلہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0