جالڑی، سانگان اور گریشہ میں ریاست نے سول آبادیوں کو نشانہ بنایا، بی ایس ایف

پیر 21 ستمبر, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں جالڑی سانگان اور گریشہ میں آپریشن زمینی و فضائی کاروائیوں کو ریاست کی بھو کھلاہٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دنوں ریاستی فورسز کی جانب سے گریشہ اور جالڑی و سانگاں میں وسیع پیمانے پر جارحانہ کاروائیوں کا دائرہ کار میں شدت لاکر ریاست کی جانب سے سول آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ گریشہ میں بلوچ سیاسی جہد کار کمال بلوچ کو شہید کیا گیا اور جالڑی و سانگان میں گھروں اور شہری آبادیوں پر فضائی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ متعدد گھروں کو جلانے سمیت بلوچ کسانوں کے سات کے قریب ٹریکٹر ز اور تین سو بوری گندم کو نذر آتش کردیا گیا ترجمان نے کہاکہ ترجمان نے کہاکہ ریاست بلوچستان میں اپنی ناکام عملداری اور آزادی کی جدوجہدچھپانے کے لئے کاؤنٹر انسر جنسی کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے روایتی حربوں کے زریعہ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو توڑنے کی کوشش کرر ہے ہیں سیکریڑی داخلہ کا آٹھ ہزار بلوچ فرزندوں کی حراستی گرفتاری کا اعتراف ریاست کے ان پروپیگنڈوں کا پردہ چاک کردیا ہے جو کہ ریاست کی جانب سے بارہا کہاجارہاتھا کہ کوئی بھی بلوچ لاپتہ نہیں لیکن ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزند ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں لاپتہ بلوچوں کی اعداد و شمار کے حوالہ سے ریاست بلوچ موقف کے برعکس دنیا کو گمراہ کرنے کی متعدد کوششیں کی اور ان کے اغواء نما گرفتاری کا زمہ لینے کے بجائے دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے مجرمانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہاکہ وہ یا تو پہاڑوں میں ہیں یا بیرون ملک چلے گئے ہیں لیکن بلوچ سفارتی موقف نے ریاست کے گمراہ کن دروغ گوئیوں سے پردہ ہٹاکر تما م حقائق اور ثبوت کے ساتھ اقوام متحدہ اور انسان دوست قوتوں کو باور کرایا کہ تمام بلوچ لاپتہ فرزند ریاستی اداروں کے تحویل میں ہیں جس کے بعد سے ریاست پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد سے ریاست اپنی نئی نام نہادڈاکٹرائن پالیسی کے تحت نہ صرف سول آبادیوں کو نشانہ بنارہاہے بلکہ بلوچ دوست سیاست سے وابسطہ افراد کو لاشیں پھینکنے کے لئے خلقوں اور قصبوں میں آپریشن کو جواز بنا کر ان کی لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع کی ہے ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ زمینی حقائق جاننے کے بعد ریاست کے خلاف کسی پس و پیش کے بغیر فورری کاروائی کا نوٹس جاری کرکے اپنی اثر رسوخ استعمال کرکے بلوچ وطن کو مقبوضہ اور متنازعہ خطہ قرار دے کربیرونی ممالک کو اس بات کی پابند کریں کہ بلوچستان کی آزادی تک بلوچ وطن سے متعلق کسی قسم کی معائدہ یا لین دین نہ کریں ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے تمام حقائق اور جانکاری کے باوجود اگر اسی طرح خاموشی برقرا رہی تو ان سے بلو چ قوم کا اعتماد اٹھ جائیگااور اس کی بے جاء خاموشی کو اس کی جانبداری اور رضامندی سمجھا جائے گا

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0