جبری گمشدگی کے خلاف کوئٹہ و کراچی، ریلی و مظاہرہ کیا جائے گا :بی ایچ آر او

ہفتہ 11 نومبر, 2017

کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے کارکن طیبہ بلوچ نے کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بی ایچ آر او لاپتہ انسانی حقوق کے بلوچ کارکن نواز عطاء اور کراچی سے اغواء ہونے والے دیگر آٹھ طلباء کی عدم بازیابی کے خلاف کراچی میں 19 نومبر کو احتجاجی ریلی اور 15نومبر کو کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا جا ئے گا، اس کے علاوہ اغواء کے ان واقعات کے خلاف عالمی سطح پر بھی آگاہی مہم چلائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن ایک غیر سیاسی تنظیم ہے، بلوچستان کے وہ مسائل جن کا تعلق انسانی حقوق کے حوالے سے ہے، ان کے متعلق ہم پریس ریلیز، رپورٹس، مطالبے اور دیگر مواد شائع کرتے رہتے ہیں ، جو کہ پاکستانی آئین اور عالمی انسانی قوانین کے عین مطابق ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہمیں سرگرمیاں جاری نہیں رکھنے دیا جارہا ہے، تنظیم کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری کی جبری گمشدگی اس غیر اعلانیہ پابندی کا ثبوت ہے۔ اور پریس کلب انتظامیہ نے سیکیورٹی اداروں کے خوف سے ہمیں پریس کانفرنس نہیں کرنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی ایچ آر او کی سرگرمیوں کا مقصد ان لوگوں کے حقوق بحال کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ جن سے ان کے قانونی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ وہ لوگ جو پاکستانی شہری ہونے کے باوجود اس آئین میں دئیے گئے حقوق سے محروم کیے جارہے ہیں، ان کے حقوق کی بحالی ہی ہماری جدوجہد کا محور ہے جو کہ کسی بھی زاویے سے آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ بلوچستان سے پہلے سے ہی ہزاروں افراد لاپتہ کیے جا چکے ہیں، ہزاروں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔ یہ سلسلہ سالوں سے چل رہا ہے اور اس میں مزید شدت لایا جارہا ہے۔ حالیہ دنوں کوئٹہ سے خواتین کی گرفتاری اور کراچی سے نواز عطاء اور دیگر کم عمر طلباء کی گرفتاری اسی سلسلے کی کھڑیاں ہیں۔ طیبہ بلوچ نے کہا کہ گزشتہ مہینے کی 28تاریخ کو کراچی سے نواز عطاء بلوچ کو دیگر 8طلباء سمیت مختلف گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کردیاگیا، نواز عطاء پنجگور کے علاقے گچک کا رہائشی ہے جو کہ پڑھنے کی غرض سے کراچی میں موجود تھا۔ یہ سلسلہ نیا نہیں کہ رات کی تاریکی میں چادر و چاردیواری کی تقدس کو پامال کرکے بلوچستان سے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے، یہ سلسلہ کراچی میں بھی چل رہا ہے۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ریاست کے قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں، وہ خود لوگوں کو جبراََ لاپتہ کررہے ہیں اور انہیں عدالتوں میں پیش نہیں کرتے ہیں۔ ہمیں ہی نہیں لاپتہ ہونے والے لوگوں کے کسی بھی خاندان کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا کہ عدالتیں ان کے پیاروں کو کیا سزا دیں گی، لیکن شرط یہ ہے کہ انہیں اپنی صفائی کا موقع دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی واقعے پر میڈیا کی خاموشی، انسانی حقوق کے تنظیموں کی خاموشی، لکھاریوں کی خاموشی یہ ثابت کررہی ہے کہ اجتماعی حوالے سے معاشرہ بے حس ہورہا ہے۔ کراچی واقعے کے بیشتر مغویان کی عمر 18سال سے کم ہے، ان میں 8سالہ آفتاب اور 13سالہ الفت ، 17سالہ فرھاد بھی شامل ہیں۔ ان بچوں کو بھی اب تک نہ کسی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کو بازیاب کیا جارہا ہے۔ نواز سمیت دوسرے بچوں کی اغواء نما گرفتاری ایک تاریخی جبر ہے، صحت مند معاشرے ایسی بربریت کے خلاف یک آواز ہوکر بولتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں جب تک تکلیف ذاتی نوعیت کا نہ ہو کوئی اسی محسوس ہی نہیں کرتا۔انہوں نے سندھ حکومت اور بلوچستان حکومت سے اپیل کی کہ کراچی سے اغواء ہونے والے بی ایچ آر او کے انفارمیشن سیکرٹری نواز عطاء، آفتاب، سجاد، راوت، الفت، فرھاد، عابد، عارف اور الیاس، اور کوئٹہ سے 30اکتوبر کو اغواء ہونے والے 16سالہ سمیع اللہ اور 16سالہ محمد یوسف کو فوراََ بازیاب کیا جائے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0