جرمنی: مہاجرین کی آمد کے خلاف مظاہرے، متعدد مظاہرین زخمی

اتوار 23 اگست, 2015

ڈریسڈن (ویب ڈیسک)جرمن وزیر داخلہ تھامس ڈے میزیئر نے تارکینِ وطن کے رہائشی مراکز پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پناہ کے متلاشیوں کے خلاف نفرت، تشدد اور اُن کی توہین میں اضافے کے رجحانات جرمنی کے ’وقار کے منافی اور ناشائستہ‘ ہیں۔جرمن اخبار ’بِلڈ اَم زونٹاگ‘ سے باتیں کرتے ہوئے ڈے میزیئر نے کہا کہ ان حملوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا:’’جس کسی نے بھی یہ کام کیا ہے، ریاست اُس کے ساتھ سختی سے نمٹے گی۔‘‘ڈے میزیئر کے مطابق پناہ کے متلاشی کسی ایسے فرد کا بھی، جسے ایک روز بعد جبری طور پر اُس کے وطن واپس بھیجا جانا ہو، یہ حق بنتا ہے کہ اُس کے ساتھ موزوں اور منصفانہ برتاؤ کیا جائے اور اُسے امن کے ساتھ رہنے کا موقع دیا جائے۔دریں اثناء جرمن صوبے سیکسنی کے شہر ہائڈیناؤ میں مجموعی طور پر چھ سو تارکینِ وطن کے لیے قائم کیے گئے ہنگامی رہائشی مرکز کے سامنے ہنگاموں اور پولیس کے ساتھ دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے تصادم کا سلسلہ گزشتہ رات بھی جاری رہا، جس کے نتیجے میں پولیس کے دو سپاہی زخمی ہو گئے۔ یہ بات اتوار کو پولیس کی ایک ترجمان نے ڈریسڈن میں بتائی ہے تاہم اُنہوں نے ایسی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ آیا کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے یا اُن کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کو بھی، جب تارکینِ وطن کا پہلا قافلہ بسوں میں ہائڈیناؤ پہنچا تھا، دائیں بازو کے عناصر نے ہنگامہ بپا کیا تھا۔ تب ابتدا میں مظاہرین کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی، جو بعد میں کم ہو کر چھ سو کے قریب رہ گئی۔ انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کو کالی مرچوں کا اسپرے بھی استعمال کرنا پڑا۔ اس موقع پر ہونے والے تصادم میں پولیس کے اکتیس سپاہی زخمی ہو گئے تھے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0