جرمنی میں سات ہزارسال پرانی اجتماعی قبردریافت کرلی گئی

منگل 18 اگست, 2015

برلن (ویب ڈیسک)جرمنی میں سات ہزارسال پرانی ایک اجتماعی قبردریافت ہوئی ہے جس سے زمانہ قبل از تاریخ میں وسطی یورپ میں پائے جانے والے پرتشدد تصادم کے بارے میں مزید شواہد ملے ۔ اجتماعی قبر سے 26 افراد کے انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے ہیںیہ انسانی ڈھانچے وسطی جرمنی کے علاقے شونیک۔کیلینستادٹن سے ملے ہیں۔اجتماعی قبر سے ملنے والے ڈھانچوں کی کھوپڑیوں پر زخم کے نشانات ہیں۔ کچھ کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جس سے یہ بھی اخد کیا جا سکتا ہے کہ ان افراد پر تشدد کیا گیا تھا۔سائنسدانوں نے پی این اے ایس جرنل کو بتایا کہ ان ڈھانچوں کی صورتحال سے جدید زمانہ پتھر کے دوران پھیلنے والی تشدد کی کارروائیاں ظاہر ہوتی ہیں اسی طرح کے اجتماعی قبریں اس سے پہلے جرمنی کے علاقے ٹالہیم اور آسٹریا میں اسپارن اور شلیٹز کے مقام پر دریافت ہوئی تھیں۔ان افراد کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ کھیتی باڑی سے منسلک تھے جن کے برتن سازی کے انداز نے یورپ میں لینیئر پوٹری کلچر کو پروان چڑھایا، جسے جرمن زبان میں ایل کہ بی کلچر بھی کہا جاتا ہے۔گروہ نے آثار قدیمہ کا بیش قیمت خزانہ اپنے پیچھے چھوڑا کرسچین میئر اور ان کے ساتھیوں کے خیال میں ایسی صورتحال میں اجتماعی قبروں کا ملنا انتہائی غیرمعمولی ہے اس دور کے ان افراد کو عموماً باقاعدہ تقریب کے ساتھ دفن کیا جاتا تھا بائیں کروٹ پر اور ان کے ساتھ قیمتی اشیا بھی دفن کی جاتی تھیں تاہم حالیہ ملنے والی اجتماعی قبر میں لاشوں کو بے ترتیب انداز میں دفن کیا گیا اور ان کے ارد گرد ہر قسم کے بیکار چیزیں بھی پائی گئی ہیں۔شونیک۔کیلینستادٹن میں ایک سڑک کے دوران پہلی بار ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی تھی جس میں دس افراد کے ڈھانچے ملے تھے جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ ان کو جب دفن کیا گیا تو ان کی عمر چھ سال سے زیادہ نہیں تھیں اس کے علاوہ ہڈیوں پر تشدد کے نشانات اور بڑی تعداد میں تیر بھی ان ڈھانچوں کے درمیان ملے ہیں۔ہتھیاروں کی موجودگی کو ان افراد کی موت سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر میئر کے مطابق ہم ابھی نہیں جانتے کہ اس وقت کیا ہوا ہوگا، تاہم ہمارے خیال میں متعدد کھیتی باڑی سے منسلک گروہ ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے تھے۔یونیورسٹی آف مینز کے محقق کرسچین میئر کے مطابق اس سے قبل دریافت ہونے والے دو مقامات پر ہمیں تشدد کے شواہد ملے اور یہ تینوں مقامات ایل کے بی کلچر کے اختتام پر منتج ہوتے ہیں، چنانچہ میرے خیال میں اس وقت ضرور کوئی اہم تبدیلی رونما ہورہی ہوگی کرسچین میئر نے بتایا کہ ضرور کچھ ایسا ہوا تھا جس کی وجہ سے کھیتی باڑی کرنے والے گروہوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوااس میں سب اہم پہلو یہ ہے کہ تقریباً دوتہائی ڈھانچوں کی پنڈلیوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں انہوں نے کہاکہ ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ جب ان کی ٹانگیں توڑی گئیں تو وہ زندہ تھے یا مردہ حالت میں کیونکہ اگر مرنے کے بعد لاش کو مسخ کیا جائے تو تب بھی ہڈیاں ویسی ہی دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم یہ امر قابل فہم ہے کہ ان پر تشدد کیا گیا

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0