جناب! آہستہ آہستہ حضور! آہستہ آہستہ

بدھ 8 اکتوبر, 2014

جناب! آہستہ آہستہ  حضور! آہستہ آہستہ

تحریر: نودبندگ بلوچ

آج کل ہمارے نابغہ رہبران ہوں یا بے لوث و متحرک کارکنان یا پھر کہنہ مشق دانشوران سب کے حواس پر تنقید ایک آسیب کی طرح ایسے سوار ہوگئی ہے کہ لگتا ہے سب نومیت کے عالم میں ہیں اور سالوں سے جو خوف ، خواہش یا لالچ بناوٹ کے دبیز چادروں میں انہوں نے چھپایا ہوا تھا وہ غیر ارادی طور پر بس ان کے عمل یا زبان سے ادا ہوتا جارہا ہے اور اس ادائیگی و اظہار پر وہ قدرت ہی کھو چکے ہیں۔ سالوں سے ہم اپنے خودی سے ہی انکاری رہے ہیں ، ہمارے اندر کی نا اہلیاں ، کمزوریاں ، کمیاں وغیرہ جو بدرجہ اتم ہم میں موجود تھیں ہم نے انہیں تسلیم کرنے کے بجائے اس رائے پر یقین کیا جو ہمارے بارے میں رکھی جارہی تھی ، حقیقت کو خود پہچاننے کے باوجود ہم صرف پرچھائ پر اکتفاء کررہے تھے ، اصلیت سے ہم بلد تھے لیکن ہمارے بارے میں جو رائے تھی وہ اصلیت سے زیادہ خوبصورت تھی اسلیئے ہم عکس پر وجود کا گمان کرکے چلے ، اب تنقید کہو یا کسی بھی کتاب سے کوئی بھی موزوں لفظ اس کیلئے ڈھونڈ کر لے آو لیکن اس عمل نے اس عکس پر حملہ کرکے اس پاش پاش کردیا ہے اور اندر سے حقیقی شکستہ شخصیت سامنے لے آیا ہے ، اب یہ جو ہلچل ہے ، یہ جو تذبذب ہے ، یہ جو تلملاہٹ ہے ، یہ جو غصہ ہے اور یہ جو کراہت انگیز ردعمل ہیں سب اپنے اصلیت کو چھپائے رکھنے کی کوشش ہے ، یہ سب خود کو اور ہم سب کو اسی عکس پر یقین بنائے رکھنے کی سعی ہے جس نے حقیقت کو چھپائے رکھا تھا ۔

رہبران کو ہم نے کسی دیومالائی قصے کے ہیرو کی سی حیثیت دی ہوئ تھی ، کسی کو خدائی اوتار بخشا ہوا تھا ، ایک سنگت کہتا ہے کہ تحریک کے ابتدائی دنوں میں مجھے پتہ چلا کہ دور دور سے کئ لوگ مرحوم بابا مری کے پاس دم کرانے تک جاتے تھے ان کا ایمان تھا کہ ان کے دم درود کا اثر فوراً ہوجاتا ہے ، میں سوچتا ہوں بابا اتنے خداداد صلاحیتوں کے گر مالک تھے پھر آج تک وہ ہمارے رہنمائی کیلئے ایک چھوٹی سی کتاب تک کیوں نا لکھ سکے ، کافی عرصہ پہلے کی بات ہے جب میرے یقین کا سائبان سچائ کے تپش سے محفوظ تھا تو ایک بار بابا سے ملاقات کے بعد ذہن میں خیال آیا کہ بابا نے ایسی کوئ بھی حکمت کی بات نہیں کہی جو ہم جیسے ادنیٰ سیاسی کارکنوں کے سمجھ میں نہیں آرہا ہو یا پہلے سے علم میں نہیں تھا پھر وہی باتیں جب بابا کرے تو اقوال زرین بن جاتے ہیں اور ہم کریں تو فضولیت آخر کیوں ، پھر جلدی سے نعوذباللہ کرکے ان وسواسوں کو اپنے ذہن سے نکال دیا اور یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کے ان کے سادگی میں بھی حکمت ہے ، ڈاکٹر اللہ نظر ایک ایسے ہیرو تھے جس میں ذات ، لالچ ، خوف ، خواہش کا رمق بھر شائبہ نہیں تھا، وہ سراپا بے لوثی اور قربانی کا مورت تھے ، پہلی بار کسی اپنے نے ہی بہت سے ایسے معاملات میں اپنی چشم دید گواہی پیش کی جو اس عکس کے برعکس تھا راقم کا ردعمل انتہائی غصے میں اسے جھوٹا کہنا ہی ٹہرا ، یہی رائے سب کے سب طرہ داروں کیلئے ہم رکھتے تھے حالانکہ یہ تک ہم سوچ نا پائے کہ بلوچ سماج میں طرہ داری ایک وراثت کا نام ہے یا کیفیت کا ، یہ تک نا سمجھ پائے کہ برابری کی بلوچ جنگ میں ایک شوان کے سفر کا آغاز کارکن سے اور طرہ دار کے سفر کا آغاز لیڈری سے کیوں ہوتا ہے ، لیکن کیا ہوا یہ سب عکس تھا پرچھائیاں تھیں جو حقیقت کی تیز روشنی میں ایسے غائب ہوگئے پتہ ہی نہیں چلا ، اب حالت یہ ہے کہ سب بضد ہیں کہ اسی پرچھائ پر یقین رکھو اور وجود کو نہیں جانچو ، حتیٰ کے رہبر بھی اپنے اندر جھانکنے کی کوشش نہیں کرتے انکا بھی سارا غصہ یہی ہے کہ کچھ شریروں کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ ہمارے باطن کھول کر سامنے لے آئیں ، نہیں یہ باطن ہمارا نہیں بلکہ ہم تو وہی عکس ہیں ، ہم تو وہی رائے ہیں ، ہم تو وہی خیال ہیں ۔ اپنے اندر کو جاننے کے باوجود وہ تسلیم نہیں کررہا اور نا ہی یہ چاہتا ہے کہ آپ تسلیم کرو کیونکہ اندر تو نا اہلی ، لالچ ، اور بغض کا تعفن ہے ۔ جب کھرا کھوٹا الگ الگ ہوگا تو پھر حقیقت دکھے گی پرچھائ میں جن کا قد 12 فٹ لگ رہا تھا حقیقت میں تو وہ سب بونے ہیں ، وہ تو سورج کی روشنی پیچھے سے پڑرہی تھی اب کے جب سر پر چمک رہی ہے تو بونوں کا اصل کاٹھ ظاھر ہورہا ہے اور ہم تھے کہ نظریں صرف پرچھائ پر گاڑھے ہوئے تھے ۔

مبارک ہو ہم نے پہلا اسٹیج پار کرلیا ، مبارک ہو ہم دوسرے اسٹیج میں ہیں ، مبارک ہو اب تیسرا اور آخری اسٹیج آگیا ہے ، ہمارا وہ لیڈر فیڈل کاسترو کا چہیتا ہے ، وہ تو بلوچ چی گویرا ہے اور وہ ، وہ تو ہمارا نیلسن منڈیلا ہے ، دیکھو دنیا کے فلانے ملک کے فلانے تحریک کے فلانے لیڈر نے ایسا ایسا کیا اور وہ کامیاب ہوگئے ہم بھی اسی طرح کررہے ہیں کامیابی قدم چومے گی ، نہیں تم پاگل ہو اس کتاب کے فلانے پنے پر یہ لکھا تھا کہ ایسے حالت میں ایسا ایسا ہونا چاہئے اور تم ویسا نہیں کررہے ہو ، اور ہم کہتے ہیں جی واجہ آپ تو عقل ہو ، علم ہو ، دانش ہو ، ایک بار بھی عالم ، دانش ور اور تجزیہ نگار کے معنی سمجھے بغیر ہم نے ہر اس شخص کو واجہ بنایا جو بس تواتر سے صفحے سیاہ کرنے لگا اور جھوٹی تسلیوں اور تعریفوں کے ایسے پل باندھنے لگا کے دل کرتا تھا آنکھیں بند کرکے بس ان پر چلا جائے ۔ اس طرح ہمارے پاس دانشوروں کی وافر مقدار جمع ہوگئ ، لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ صرف وہ لکھ رہے تھے اور وہ بول رہے تھے جو میں اور آپ سننا چاہتے تھے ، کیونکہ انکا کہا سننے والوں کو پسند آرہا تھا اس لیئے وہ بھی راتوں رات براق کی سواری کرکے عرش نشین ہوگئے ۔ کیا دانش کا تقاضہ یہی تھا ، کیا یہی امورِ دانشوری ہوتے ہیں ؟ کیا آج تک انہوں نے حالات کی صحیح تشریح کی ؟ کیا آج تک انہوں نے تحریک میں غلط اور صحیح کو الگ الگ کرکے ہمیں دکھایا ؟ کیا آج تک انہوں نے مستقبل کا کوئ خاکہ پیش کیا یا آج دورِ سیاسی جمود میں ان کے زنبیل میں کوئ ایسا جادو چھپا ہے جسے ہمیں عنایت کرکے روانی پیدا کریں ؟ کچھ نہیں ہے کچھ بھی نہیں صرف دھوکہ ہیں ، پرچھائیاں ہیں۔ ایک سنگت سے میں نے پوچھا کہ اس نے کیوں لکھنا شروع کیا ، اس نے کہا “صرف غصے کی وجہ سے ، حالانکہ میرے لیئے لکھنا جنگی محاذ پر لڑنے سے کئی گنا زیادہ مشکل ہے لیکن جب میں نے محسوس کیا کہ جو بولنا چاہئے وہ بولا نہیں جارہا جو لکھنا چاہئے وہ لکھا نہیں جارہا اور جو سمجھانا چاہئے وہ سمجھایا نہیں جارہا تو پھر اس مصلحت پسندی اور نا اہلی پر غصے میں ، میں نے قلم اٹھایا ” ، یعنی یہاں بھی ہم صرف ایک دھوکے میں تھے حقیقت یہ ہے کہ دانشوری کے بناوٹی چادر کے پشت میں صرف نا اہل یا مصلحت پسند چھپے بیٹھے ہیں۔ اب جب عالم مجبوری میں حقائق کی ہلکی سی پچھکاری سے بے ترتیب الفاظوں میں چند صفحے سیاہ کردیئے گئے تو ان کہنہ مشق دانشوروں کے دانشوری پر بھی سوال اٹھ گیا ، یہاں بھی معاملہ وہی عکس اور پرچھائ کا ہے ، ہم صرف پرچھائ دیکھ رہے تھے اور ان کو بھی دِکھانے میں کوئ عار محسوس نہیں ہورہا تھا ، اب کسی طور یہ ثابت کرنے کیلئے کہ ہم ہی عقل و دانش کا منبع ہے عجیب مزاج دِکھنے کو مل رہے ہیں ، چند دن پہلے ایک کہنہ مشق کا لکھا پڑھا کہہ رہا تھا نہیں جناب کتاب و انٹرنیٹ کے رو سے تو آپ کا تنقید ، تنقید ہی نہیں اصل میں تنقید کا یہ تشریح ہے اور اسکے دو قسم ہیں ایک کو تنقید برائے تنقید اور دوسرے کو تنقید برائے تعمیر کہتے ہیں اور تنقید برائے تعمیر میں وضو کرکے سفید کپڑے پہن کر ، سر پر جالی والی سفید ٹوپی پہن کر ، ناخن برابر تراش کر ، دونوں پاوں توازن کے ساتھ جوڑ کر ہاتھ تعظیم میں باندھ کر کہا جاتا ہے کہ ” حضور والا یہاں آپ صحیح نہیں کررہے ” وہ مان لے تو انکا احسان اور نا مانے تو اسی تعظیم سے پیٹ حضور والا کی طرف کیئے بغیر آداب بجا لاتے ہوئے جھک کر جس دروازے سے آئے تھے اسی سے چلے جائیں ” یعنی اگر میں شاعر کے زبان میں بیان کروں تو ” وہ بیدردی سے سر کاٹے امیر اور میں کہوں ان سےحضور! آہستہ آہستہ جناب! آہستہ آہستہ ” یہ باتیں صرف مذکورہ کہنہ مشق دانشور پر موقوف نہیں سب کے سب ایسے ایسے تنقیدی تھیوریوں اور قواعد و ضوابط کے ساتھ آتے ہیں ہم جیسے جاہلوں کی عقل گھوم کررہ جاتے ہے ، یہ انواع و اقسام کے تشریحیں دیکھ کر اور ان تشریحوں کو خود کو اہل کرم کے کسوٹی پر نا اہل پاکر کل پرسوں کے خبریں یاد آگئیں کہ پاکستانی عدالتوں نے ایک بدمعاش گلو بٹ کو عدم ثبوت کے بنا پر با عزت بری کیا ہے ، میں حیران ہوا وہ کیسے ؟ وہ تو ٹی وی پر براہ راست یہ ڈنڈا ماری کررہا تھا ، اب تو روز اسکے عکس دیکھ کر ہم اکتا گئے ہیں لیکن وہ منصفوں کو کیوں نہیں دکھا ، پھر پتہ چلا کے پاکستان کے قانون کے مطابق ویڈیو یا ریکارڈنگ ثبوت کے دائرے میں نہیں آتے اس لیئے وہ عدم ثبوت کے بنا پر رہا ہوگیا ، اب ہمارے دانشوران اور لیڈران کے معیار اور کتابوں کے قوانین کے مطابق یہ تنقید تنقید ہی نہیں بھلے حقائق کچھ بھی ہوں اس لیئے یہاں بھی گلو بٹ کو رہا ہونا چاہئے ۔ بس انکے بات کا ماخذ اور منبع ایک ہی ہوتا ہے کہ ” یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں” سب فضول میں آئے ہوئے ہیں ، عقل ، دانش میں ہوں یعنی کسی بھی طور یہ ثابت ہو کہ وہ جو پرچھائ تھی جس پر آپ یقین رکھتے تھے اصل میں اسی پر ہی یقین کیئے جاو ، ہشیار نا بائیں دیکھو نا دائیں ، میں تو صرف اتنا کہوں جناب والا میں ہوجاوں یا یہ دوسرے آشفتہ سر ، دیوانے سب کے سب جاھل ہیں ، ہم اپنے کم علمی اور کوتاہ بینی کو تسلیم کرتے ہیں اور آپ سے التجاء کرتے ہیں کہ آپ تو سراپا ان قواعد و ضوابط اور دنیا سے آگاہ ہیں یہ ذمہ آپ کیوں نہیں اٹھاتے ؟ یہ تو تھی ہی آپکی ذمہ داری ، لیکن سب جھوٹ ہے ، لغو ہے ، دھوکہ ہے حقیقت یہ ہے کہ کہنہ مشق دانشوران اسی دوڑ میں ہیں کہ بڑی بڑی باتوں ، خوشنما خوابوں اور سنسنی خیز انکشافات کا تخت بناکر ہمارے ذہنوں پر پردہ ڈال کر بیٹھیں ، اصل میں صرف نااہل ہیں ، حقائق کے دوڑ میں دوڑ ہی نہیں سکتے اسلیئے اس دوڑ کو ہی غیر قانونی قرار دو ، در حقیقت ہم سب جاھل ہیں اور وہ اپنی جہالت کو چھپاتے ہیں ۔

رہی بات کارکنوں کی وہ تو اسی مثالیہ غار کی طرح سیاہ دیوار پر پرچھائیوں کو تک رہے ہیں ، وہاں انہیں سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں ، وہاں آزادی قریب ہے ، وہاں حالات قابو میں ہے وہاں لیڈران اساطیری کردار کے مالک ہیں ، بے عیب ہیں ، وہاں ہم حاوی ہیں ، وہاں دشمن شکست کھارہا ہے ، وہاں عقل ، خرد اور دانائ کے منبع دانشوروں کی بہتات ہے وہ کیوں ہلنا چاہیں گے ، ایک تو وہ ہلنا نہیں چاہتے دوسرا ہمارے رہبروں نے اپنے قوت اور دانشوروں نے اپنی دانش کے جادو سے ان کے پیروں میں موٹی موٹی زنجیریں باندھی ہوئی ہیں کہ کسی طور وہ ہل بھی نا سکیں ، انہیں جب جھنجھوڑ کر جگاو گے ، ان بھاری زنجیروں کو پیروں سے نکالو گے تو ردعمل تو آئے گا ہی ، اسی لیئے وہ ناراض ہیں ، لڑرہے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں ، سب کچھ کرتے ہیں تاکہ انہیں کوئ ہلائے نہیں ، لیکن طاقت تو تم ہو نا ، تمہارے ہلے بغیر کچھ نہیں ہوگا ، جب تک تم سچائ کے روشنی سے اپنی آنکھوں کو خیرہ نہیں کرو گے کچھ بھی نہیں ہوگا ، تمہاری مرضی ہو یا نا ہو لیکن تمہارے لیئے ، ہمارے لیئے ہم سب کیلئے تمہیں ہلنا پڑے گا ۔

مجھے بالکل نہیں پتہ کہ تنقید کیا ہے ، اسکی کتنی قسمیں ہیں اور کس طرح کی جاتی ہے ، میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ غلط کو غلط کہنا ہے اور صحیح کو صحیح ، صحیح اور غلط کو الگ الگ خانوں میں رکھنا ہے ، انکو اس حد تک واضح کرنا ہے کہ دور سے ہی دیکھنے سے پتہ چل جائے کہ کونسی چیز کیا ہے ، تاکہ جو غلطی میں نے کی ، جو غلطی ہم نے کی ، جو غلطی ہمارے پورے نسل نے کی وہ غلطیاں دوبارہ ہمارے آنے والی نسلیں نا کریں ، اگلی بار جب وہ بلوچ جسے اسکا باپ ادھار لیکر پڑھا رہا ہو وہ یہ فیصلہ کرے کہ نہیں میرے ارمان ، میرے باپ کے خوابوں ، ماں کے تمناوں اور زندگی سے زیادہ اہم قوم اور اسکا مستقبل ہے تو اسے وہ راستہ مل جائے جس کا وہ حقدار ہے ، اس کی صلاحیت ، قربانی ، جذبات کسی لیڈر کے قد ، کسی پارٹی کے تعداد ، کسی کے ذاتی مفاد کے نظر نا ہوجائیں ، جب اب کے بار وہ سب کچھ چھوڑ کر آجائے تو قومی تحریک آزادی کے رستے پر اسے وہ ملے جو اسے ملنا چاہئے ۔ یہ تو بس ایک عمل ہے چیزوں کو شفاف کرنے کا عمل ، میرے محترم دانشواران ، میرے ہر دلعزیز لیڈران ذرا موٹی موٹی کتابیں اٹھاوں اور انہیں چھان کر مجھے بتاو کے اس عمل کو تنقید کہا جاتا ہے یا نہیں اگر کہا جائے تو ٹھیک نہیں تو اسے آپ کچھ بھی نام دے دو ، اسے بغاوت کہو ، اسے ہرزہ سرائ کہو ، اسے غداری کہو یا گستاخی مجھے ہر نام اور ہر تشریح منظور ہے ، مجھے آپ کا دیا ہر نام قبول ہے ، ہر تمغہ سینہ پر سجانے کو تیار ہوں اور ہر ٹھپہ سر آنکھوں پر ، میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کے دیومالائ کردار پرومی تھیوس سے لیکر سقراط تک ، سقراط سے لیکر عیسیٰ تک ، عیسیٰ سے لیکر برونو تک ، برونو سے لیکر آج تک جس نے تنقید کی ، جسے نے کھرے اور کھوٹے کو الگ کرنے کی کوشش کی ، جس نے صحیح اور غلط کو الگ الگ پہچان دینے کی سعی کی ، جس نے بھی واجب اور غیر واجب کو الگ خانوں میں منقسم کرنے کی جسارت کی ، انہیں کسی نے بھی صحیح نہیں کہا ،انہیں کسی نے بھی برداشت نہیں کیا ، وہ کبھی بھی اپنے وقت کے معیارات پر پورا نہیں اترے ۔ آپ مجھے تنقید کے دس ہزار طریقے اور قسمیں گنوائیں لیکن میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ جب یہ تنقید عملی طور پر شروع ہو تو بڑے سے بڑے داناوں ، بڑے سے بڑے بردباروں ، بڑے سے بڑے صابروں ، بڑے سے بڑے انقلابیوں کی قوت برداشت جواب دیتی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ وہ تنقید جو تعظیم اور تحمل سے ہو اور جس کا جواب بھی تعظیم اور تحمل سے ملے وہ عملی طور پر دنیا میں وجود ہی نہیں رکھتا ، ورنہ مجھے بتائیں کس نے اپنی تاج پیار سے سمجھانے سے اپنے مرضی سے اتار دیا ہے ، ورنہ آپ مجھے ایک مثال دیکر بتائیں کے جس طرح کی تنقید آپ اپنے مزاج گرامی کے مناسب سے موزوں قرار دیتے ہیں وہ کب اور کہاں ہوئ ہے۔ باوضو حالتِ استقامت میں ادب کے ساتھ آپکے اصولوں کے مطابق تنقید کرکے صرف بولا جاسکتا ہے ، بدلا نہیں ، یہ ایک اٹل حقیقت ہے وہ تنقید جو بدلنے کیلئے ہو ، جو الگ الگ کرنے کیلئے ہو ، جو سب کو انکی اصل پہچان دینے کیلئے ہو نا کسی کو پسند آیا ہے اور نا آئے گا ۔ کسی حادثے ، اتفاق یا دھوکے سے اقتدار پانے والے بادشاہ کو کیا کوئ پیار سے یہ سمجھا کر کہ آپ اسکے حقدار نہیں ، اقتدار سے دستبردار کرواسکا ہے ؟

مجھے وہ کہتا ہے کہ اس تنقید نے نقصان دیا ، میں پوچھتا ہوں کیا نقصان دیا ؟ جھوٹ نا بولیں اور وہم نا پالیں اور سوچیں کہ کیا آج تک ریاست کو عملی طور پر ایک بھی فائدہ ہوا ہے ؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ہمارے بیچ دراڑیں آگئیں ، میں کہتا ہوں کہ ہمارے بیچ دراڑیں کب نہیں تھیں ؟ دراڑ ظآھر ہو زیادہ خطرناک ہے یا پھر چھپے دراڑ ؟ وہ کہتا ہے لوگ مایوس ہورہے ہیں ، میں کہتا ہوں کہ لوگوں کے مایوسی کو چھوڑو ، وہ اس سے زیادہ تب مایوس ہوئے تھے جب انکے ہر دلعزیز لیڈر اختر مینگل اور ڈاکٹر حئی کو آپ نے الگ خانے میں رکھا تھا ، یہ دیکھو کہ ہم آخر ایسے کیوں ہیں کہ اصلیت سامنے آنے سے لوگوں کو مایوسی ہو ؟ وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ پھر آخر فائدہ کیا ہوا ؟ میں کہتا ہوں کے یہ کیا کم فائدہ ہے کہ ہر سیاسی کارکن اپنے سیاسی مسائل پر بات کرتا ہے ، اپنے کمزوریوں کو پہچانتا ہے ، خود کو بہتر کرنے کیلئے سوچتا ہے ، کیا کسی دھوکے میں رہے بغیر خود کی اصلیت جاننا بہت بڑی کامیابی نہیں ؟ کیا یہ کم فائدہ ہے کہ آہستہ آہستہ سب کی اصلیت سامنے آرہی ہے ، کیا یہ کم فائدہ ہے جو جس معیار کا ہے اسی حساب سے الگ الگ خانوں میں سامنے آرہا ہے ، کیا یہ کم فائدہ ہے کہ آپ دھوکے میں نہیں ، اب کھرا کھوٹا سب الگ ہورہا ہے ، کل کم از کم جو بھی ہماری طرف آئے گا وہ جس طرح کا ہوا وہ اسی طرح کے لوگوں کے پاس جائے گا ، اگر مفاد پرست ہوا تو مفاد پرستوں کو پہچان کر انکی طرف جائے گا ، گروہیت اور انفرادیت کا شوقین ہوا تو اسے اپنے جماعت کی پہچان آسانی سے ہوگی اور اگر کوئ صرف قوم ، آزادی اور تحریک کیلئے آنا چاہا تو اسے بھی اسی طرح کے لوگ مل جائیں گے ، کوئ مفاد پرست مخلصوں میں نہیں گھسے گا اور کوئ مخلص مفاد پرستوں میں نہیں پھنسے گا ، آپ سب چھوڑیں صرف اتنا سوچیں کہ بالفرض آپ کے لیڈر صحیح کہتے ہیں ہم غدار ہیں ، ایجنٹ ہیں ، فسادی ہیں ، ردانقلابی ہیں جو بھی برا ذہن میں آئے کہیں ہم وہ ہیں لیکن کیا یہ فائدہ نہیں کہ کم از کم ہم اپنے اصل رنگ میں آپ کے سامنے ہیں ۔

مجھے نابغہ روزگار ، کہنہ مشق دانشوروں اور لیڈروں کے معیار کے مطابق تنقید نہیں آتی اور نا مجھے اس کے قسمیں اور ذیلی شاخیں یاد ہیں اور نا ہی میں جاننا چاہوں گا لیکن میں صرف اتنا جانتا ہوں ، اس عمل کو آپ تنقید کہیں یا کچھ اور کہیں لیکن اس سے جھوٹی پرچھائیاں چھوٹ رہی ہیں ، سب کی حقیقت سامنے آرہی ہے ، کھرا اور کھوٹا الگ الگ ہورہا ہے ، غلط اور صحیح کی پہچان ہورہی ہے اور ہم صرف یہی چاہ رہے ہیں کہ دیوقامت سائے کو نہیں دیکھو وجود کو دیکھو ہوسکتا ہے وہ لمبے لمبے سائے بونوں کے ہوں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0