روایتی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہیں۔بی ایس او آزاد

جمعہ 26 ستمبر, 2014

حب (ہمگام نیوز)بی ایس او آزاد حب زون کا جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل صدر منعقد ہوا۔ اجلاس میں مہمان خاص بلاک کمیٹی کے ممبران تھے جبکہ یونٹ اے، یونٹ بی اور گرلز یونٹ کے تمام ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پانچ ایجنڈے زیر بحث لائے گئے، سب سے پہلے حب زون کے جنرل سیکٹری نے سیکٹری رپورٹ پیش کیا اور اس پر ممبران نے بحث کیا۔ اس کے بعد تنظیمی امور کے ایجنڈے پر ممبران نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کے تسلسل اور دشمن کی طرف سے نئی حکمت عملیوں کے ساتھ جاریت میں اضافے کے بعد روائتی طرز جدوجہد جلسے،ریلیوں،احتجاجی مظاہروں، بھوک ہڑتالی کمپوں کے انعقاد کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر ایسے ذرائے اور طریقے اپناکر جدوجہدبہتر حکمت عملی کے ساتھ جاری رکھیں جس سے نہ صرف قومی سوچ کو وسعت ملے بلکہ دشمن کی حکمت عملیوں کو کاؤنٹر کرنے کے ساتھ ساتھ نقضانات سے بچا جا سکے۔ تنظیم میں موجود آئینی بحران کو حل کئے بغیر اور تنظیم کو غیرجانبدار موقف دیئے بغیر تنظیم کو منظم و فعال کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی روایتی سیاسی سرگرمیوں اور اخباری بیانات کے زریعے حقائق کو چھپایا جا سکتا ہے بلکہ اس سے مزید معالات خراب ہونگے اور تنظیم کے ساتھ ساتھ تحریک کو بھی شدید نقصانات کا سامنا ہوگا۔ بی ایس او آزاد کا مقصد کسی گروہ کی تشہیر کرنا نہیں اور نہ ہی یہ کسی ’’ازم‘‘ کے لئے بنائی گئی ہے، یہ ایک جمہوری تنظیم ہے جس میں تمام فیصلے جمہوری طریقے سے تحریکی مفادات کو مد نظر رکھ کر کیئے جانے چائیے۔ سیاسی صورت حال پر بحث کرتے ہوئے ممبران نے کہا کہ ہمیں دوسرے ممالک کے حوالے سے غیر حقیقی راویئے اور غیر ضروری بیان بازی سے گریز کرنا چایئے، ہماری کوشش یہ ہونی چایئے کہ ہم بلوچ قومی مفادات کو اس طرح پیش کریں کہ یہ عالمی طاقتوں کو اُن کے مفادات لگیں نہ کہ ہم کسی سیاسی نظام کی خاطر قومی مفادات کا قتل کریں اور بیکار میں اپنے لئے دشمن پیدا کریں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا جو غیر ذمہ دارانہ سیاسی روش ہم نے داخلی سطح پر اپنایا ہوا ہے خارجی سطح پر اس کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ بلوچ کاز کو ناقابل تلافی نقصانات سے دو چار کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ آج جس طرح یوکرائین اپنے قومی مفادات کو عالمی مفادات ظاہر کر کے روس کے خلاف رائے عامہ ہموار کر رہی ہے اور دوسری طرف کریمیہ روس سے مکمل سپورٹ حاصل کر تا ہے، قومی مفادات کی سیاست کا ترجمان ہے۔ ایک ہم ہیں جو بلوچستان میں عالمی مفادات کی باتیں توکرتے ہیں مگر سرمایہ داروں کو خود سے اپنا دشمن قرار دے کر اُن مواقوں کو اپنے لئے شجراء ممنوعہ بنا لیتے ہے جبکہ مذہبی دہشتگردی کے سرغنا دشمن نے اپنی حکمت عملی سے اُن ہی مفادات کو کیش کرتے ہوئے کمیونسٹ اور شوسلسٹ ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر بلوچ وسائل کا استحصال جاری رکھا ہوا ہے جس طرح کردوں نے بغیر یہ سوچے کہ کل صدام حسین اور امریکہ کے تعلقات کیا تھے آج قومی مفادات کے حصول کے لئے معروضی حالات کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی امداد کو قبول کیا اور ایک طرف ہم ہے جو پاکستانی پالتو مذہبی مہروں کو داعش کا نام دے کر نہ صرف دشمن کی گناہوں کو غیر دانشتہ طور پر چھپا رہے ہیں بلکہ پاکستان کو یہ موقع بھی فرہم کر رہے ہیں کہ وہ اب داعش کا نام استعمال کر کے امریکہ سے مزید امداد حاصل کر سکے اور بلوچوں کی نسل کشی میں اضافہ کرے۔ جس طرح دشمن مختلف شکل میں بلوچ قوم پر حملہ آور ہو رہی ہے ہمیں چائیے کہ ہم اس کو صرف اور صرف ایک دشمن سمجھ کر ان کا مقابلہ کریں نہ کہ ان کو وہ نام دیں جو دشمن چاہتا ہے۔ اس کے بعد سوال و جواب کے ایجنڈے کے دوران ممبران نے اپنے سوالات کیئے اور ان کے جوابات دیئے گئے۔ پھر کابینہ کو تحلیل کر کے الیکشن کمیٹی بنائی گئی جس نے الیکشن کا انعقاد کیا اور نئی کمیٹی بنائی گئی جس میں ممبران کو ذمہ داریاں دی گئی۔ آخر میں آئندہ کا لائحہ عمل کے ایجنڈے میں فیصلے کئے گئے اور بلاک کمیٹی کے تحت کام جاری رکھتے ہوئے تنظیمی بحران کے حل کے حوالے سے کوششیں تیز کرنے اور بی ایس او کو اس کی اصل حیثیت میں دوبارہ بحال کرنے کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا اعہدہ کیا گیا اور ممبران نے کہا کہ اب روایتی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے منزل کے حصول تک انقلابی اصولوں کے مطابق جدوجہد کرتے رہیں گے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0