جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری


لندن (ہمگام نیوز) بلوچ قوم دوست رہنماء اور فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ حیر بیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میرے لئے خاندانی بندھن کی بجائے فکری و نظریاتی رشتے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لئے میرا مضبوط رشتہ اپنے فکری و نظریاتی دوستوں کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ جنگریز مری اور گزین مری پہلے بھی ہمارے فکری کاروان میں شامل نہیں تھےاور ان کے سیاسی رویوں سے ایسا لگتا ہے کہ آگے چل کر بھی وہ بلوچ قومی تحریک میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ میں نے 17، جون 2010 کے اپنے ایک اخباری بیان اور ازاں بعد اپنے ایک انٹرویو میں یہ واضح کردیا تھا کہ شروع دن سے گزین مری اور جنگریز مری نے قومی تحریک میں شامل ہونے کی بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیکر اپنے راستے الگ کر لئے تھے اور پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

اس طرح گزین مری دشمن ریاست کی گھناؤنی سازش و حکمت عملیوں کے تحت بلوچستان جاکر بلوچ قوم کو ورغلانے و دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے ۔

حیر بیار مری نے کہاکہ ہمیشہ سے مفاد پرست عناصر ہی ریاستی مقاصد کیلئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ خطے میں ایران اور پاکستان دونوں ہی ایسی ریاستیں ہیں جو اپنے مقاصد اور مفادات کیلئے ان عناصر کو استعمال کر رہےہیں۔ ایک جانب پاکستانی آئی ایس آئی اپنے مفادات اور گھناؤنی حکمت عملیوں کے تحت افغانستان، انڈیا اور دنیا بھر میں پراکسی کے طور پہ مذہبی شدت پسندوں کو عدم استحکام کیلئے استعمال کر رہا ہے اور دوسری جانب بلوچستان میں ریاستی ایجنٹوں کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے، اسی طرح آج پاکستانی فریب و دھوکہ دہی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ کس طرح پاکستان شروع سے اپنے ہی اتحادیوں کے ساتھ فریب اور دھوکہ دہی کررہا ہے۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکن مقتدر ادارے بلوچ قوم کی موقف کو تسلیم کررہے ہیں کہ پاکستان جیسے ریاست پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب ایران اپنے ریوولیشنری گارڈز اور پراکسیز کے ذریعے شام، لبنان، عراق، یمن اور عرب ممالک میں جنگی صورتحال کو ابھارنے اور توسیع پسندانہ و مسلکی عزائم کے سوچ کو ہوا دینے کے ساتھ بلوچ سرزمین پر پراکسی بننے والے عناصر کو استعمال کر رہا ہے۔

حیربیار مری نے کہا کہ مشہد میں شروع ہونے والے ایرانی مظاہرین نے بھی اس ایرانی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ایران کی خطے میں شروع کی گئی سرد جنگ کی حکمت عملی اور کارندوں (پراکسیز) کے ذریعے جلائی گئی چنگاری خطے میں خوفناک جنگی آگ بھڑکانے کا موجب بنے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ ہفتے ایران میں رجیم کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دروان بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کی طرف سے آزاد بلوچستان کا مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چاہے قابض ریاستیں بلوچ قوم کے خلاف جس قدر بھی طاقت کا استعمال کریں بلوچ اپنی آزادی پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب دنیا کو سنجیدگی سے پاکستان اور ایران کے حربوں کے نتیجے میں خطے میں جنم لینے والی انسانی المیہ اور معاشی، سیاسی و سماجی تبائی و بربادی کو پیش نظر رکھ کر محکوم اقوام اور جہموریت پسند حلقوں کی مدد کرنی ہوگی۔ عالمی برادری خصوصا امریکی مقتدرہ کو عالمی سیاسی و معاشی اعتبار سے تشکیل پانے والی صورتحال اور خطے میں نئی صف بندیوں کے تناظر میں بلوچ سرزمین کی جغرافیائی، معاشی اور دفاعی اہمیت کو پیش نظر رکھ کر بلوچ قومی تحریک آزادی کو اب سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ بلوچ سرزمین اپنی اسٹریٹجک اہمیت کی بناء پر نہ صرف عالمی سیاست سے وابستہ ہے، بلکہ بلوچ قوم ایرانی اور پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف اپنی آزادی کیلئے ان دونوں ریاستوں سے برسرپیکار ہیں۔ اس لئے دنیا کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ خطے میں دہشتگرد پاکستان اور ایرانی ریاست کے متبادل اور امن کی ضامن صرف ایک آزاد بلوچ ریاست ہوسکتی ہے۔