جنگ ابھی جاری ہے تحریر: بیرگیر بلوچ

بدھ 25 نومبر, 2015

نظریہ سوچ و یقین کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہوا۔ دشمن کی سفاکیعت ظلم کی داستان بچپن سے ہی والدین کی زبانی گزے جنگوں کی بربیت میں پائی۔ داستان سناتے سناتے جو نمی ان کے آنکھون میں اتر تی تھی وہی قطرح نفرت بن کر دشمن کے لیے شروع سے دل میں جگہ کر گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کاروان کے مسافروں کا ساتھی بنا۔ ۔ یہان کچھ نہے انجانے چھرے مگر اپناپن آنکھوں سے جھلک تا تھا۔ دنیا کے بھیڑ میں چند اپنے جواپنوں سے بڑکر تھے۔کچھ سیکھا تو یہ کے اب یہ بقاء کی جنگ ہیں۔ چلنا آخر تک ہوگا۔ نہیں تو سب فناہ۔ اس دوران تحریک پچھلے تحروکوں سے کامیاب دور میں تھا۔ اسی دور میں کچھ اور دوست کاروان کا حصہ بنے۔ نہی جوش نہی سوچ و کتابوں کا بنڈؒل لیے مثالیں چڑنے لگے۔ ان کے در ملکی مثال اکثر فٹ ہوتے تھے ہمارے سرزمیں پر کچھ نہ پڑنے کا افسوس سے زیادہ ان کو سننے کا خوشی تھا۔ کے والد کے پرانے تجربے تھے جو یہاں تک لائے اب تعلیم یافتہ دوستوں کا کاروان ہماری چوٹی سی کمک منزل تک نہ پونچھے بھی نزدیک تک جاہینگے۔ چن چن کر جنہیں لائے تھے وہ اپنے دور کے باکمال تھے۔ ان ہی باکمال دوستوں کے ساتھ کچھ درد بھری یادیں ہیں کچھ گھٹن معزی اور کچھ تلخ حال۔ اُس دوران جب کبھی بی ایس او کے مجالس میں[سد سلام سرمچاراں] سن کر سینہ چوڑا ہوتا تھا کہ ہمارے قوم نے ہمیں قبول کر لیا تھا۔ جو جتنا بڑا تعریف پیش کرتا اتنا ہی قریب ہوا کرتا تھا۔ تب ہم وار کرتے تھے بستر نرم ہوا کرتا تھا۔ دیوالوں پے نام پڑٹے تھے۔ ریلوں میں پکار سنتے تھے۔جلسوں میں۔ثناء ہوتی تھی ہم بھی سینا جوڑا کرتے تھے۔ اندرونی مجالس میں قسمیں ہونے لگی۔ دشمن کو نیست کرنے کی باتیں ہونے لگی۔ خاک ماتے پے لگا کر مرمٹنے کے قول ہونے لگے۔ کبھی فرمائش ہونے لگا۔ میرے قبر پے بیرک چڑانا۔ تو کبھی آخری گولی تک کا ساتھ اپنے حق میں لکھا گیا۔ وقت یونہی چلتا رہا انجان گلیوں سے وار ہوتا رہا۔ دشمن پریشان ہم مشغول اور سفر جاری رہا پھر وقت کا پھیا پلٹا۔ دشمن نے دیسی خریدے کچھ کام اسکا بھی بنا۔ اب مرحلہ بدل کر نیا بنا یہان وار دشمن بھی کرنے لگا۔ ایک ایک کر کے دیواں کے کرداروں کو اٹھانے لگا گم گار لاشین ملنے لگے۔ درختوں پے پھندے جھولنے لگے۔مرگاپ میں مسخ پائے گئے۔ویرانوں میں ہاتھ بندھے پڑے۔گھروں کو بھی جلایا گیا۔ سپائیوں کا تعقب ہونے لگا۔ اس منہ کے مڑنے پے بہت چوٹ کھائے۔مسکراتے چھرے بچھڑ گئے۔ دیوان میں انکاجگا خالی رہا۔درد خود میں دفن کرنے لگے اس حالت کو بھی قبول کر لیا۔ کچھ کرنا ہیں تو آگے بڑنا ہیں یہ سوچ کے خود میں ہی اس درد کو بانٹنے لگے کہ کچھ تو کم ہوجائے۔ بس اک حوصلہ تھا کہ دشمن نے بھی طاقت مان لیا تب ہی تو مقابلے پے اترا ہیں۔اب ثابت کرنے کا دور ہیں۔ اب کچھ کرنے کا دور ہیں۔ اب وہ قول پورا کرنا ہیں۔ آخری گولی تک لڑنا ہیں۔ یا تو لڑتے لڑتے مرنا ہیں بس ایک پھر سے کر گزرنے کے انتظار میں تھے۔ سالوں سے درد سینے میں دفنائے رکھے تھے کے پھر سے موقع پالینگے۔ اسی انتظار میں ساتھی اور بھی محو سفر بنے آخر کار درویش نے اسکی شروعات کرہی لی۔ علان پھر سے ہوا کے جنگ ابھی جاری ہیں مگر اب کے بار بوج بھاری تھا کم تعداد زیادہ کام دشمن کا مدمقابل کھڑا ہونا نہی حکمت عملی نیا طریقہ۔ زمہداری زیادہ ہی اٹھانا تھا۔ ۔شہید امیر دن رات ایک کرنے لگا دوستوں کو برابر کرنے میں۔ دوست کمر باندئے اتر گئے میدان پھر سے لگ گھی اب یہ تھا کہ وہ اسی تہش سے مارتا رہا ہم بھی مقابل لڑتے رئے۔ اسی سوچ کے ساتھ کے اب روک گئے تو چلنا مشکل ہوگا۔ اسی سوچ شکور، حئی۔(نثار) حق نواز، امیر جان سمت کہی دوست قربان ہوتے گئے اس لیے کے باقی سنگتون کو منزل تک زندہ رکھا جا سکے۔ اب کے بار دشمن کے پہلے چالوں کو دیکھ کر ہر اسٹیج پے سنگتوں نے احتیات برتنے لگے۔جس سے دشمن اپنے حدود سے آگے نہ پونچ سکا۔ یہ ایک خوش آندہ تھا۔ نہے دوست اس سوچ کے ساتھ آئے تھے کے شہر میں پرانے دوستوں سے کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ ان کے ہنر کو اپنا کر ہم بھی بہتر کر پاینگے۔ مگر یہاں اندر اندر جو پک رہا تھا وہ کچھ اور تھا۔ ہم میں سے ہی کچھ گزرے وقت و حالت سے پکا یقین کر چکے تھے کے اس راہ میں موت انتظارء راہ بیٹا ہیں۔۔ شاید کے پہلے جانتے تھے۔ اور آئے بھی اسی جزبے کے ساتھ اب لڑنا ہیں یا مرنا۔مگر جب طارق کا مسخ چھرا۔علی شیر کا جلتا بدن۔رحمت اللہ شاہیں کے زخم سے چور جسم کو دیکھ کر اس موت سے ڈرنے لگے تھے جو انہیں بہت پہلے مار چکا تھا۔ انسان کی موت تب ہی ہوتی ہیں جب وہ حوش ایک غلام سماج میں سمبال کر اسے اپنا تا ہیں۔ یہان بھی یہی ہوا وہی دوست جو ساتھ میں قول قسم کرتے تھے کے اب ساتھ ہیں تو آخر تک نہیں تو خدا بے غیرت نہ بنائے۔ یہ دوست جو کہتے تھے کہ ان شہیدون کا خون قرض ہیں ہم پر۔ یہی تھے جنہیں سننے کو جی چاہتا کہ یہ دوست کچھ کتابی باتیں زیادہ جانتے ہیں۔ مگر یہ کتابیں ان کے نظر میں دوسروں پے لاگو ہوتے تھے، ان کے جو الفاظ تھے یہ انکے خود کے لیے نہیں تھے۔ان کے جودشمن کو نیست نابود کرنے کا قول تھا وہ کسی اور کے لیے سوچ کر بولا کرتے تھے۔ کیونکہ ان میں سے اگر ایک لفظ بھی یہ خود کو سامنے رکھ کر یمانداری سے کہتے تو ان کا نظریہ کبھی نہیں بدلتا۔ دوستوں کے گرتے لاشوں سے عزیز انہیں اپنے خون کے رشتے کا بھائی عزیز نہیں ہوتا۔ چیخ پکار کرتے بولان کے پہاڑوں میں دم توڑنے والے بلوچ ماں کو اپنا مانتے تو اس خوف ناک موت کے سامنے اسے زندگی کی ہر شہ بے معنی لگتا۔ تم نے اگر بہنوں کے اجڑتے عزت کو اپنے ننگ کی پامالی سمجا ہوتا تو اپنے زات میں کبھی گم نہیں ہوتے۔ تم نے سنگت کے شہادت پے جو آنسو بہائے تھے۔اب وہ سب منافقت ناٹک لگتے ہیں۔ کیونکہ ان آنسوں کے خوشک ہوتے ہی تم نے راہ ایسے دلا کے اب خوشی کے لمحوں میں بھی معیصر نہیں ہو۔۔ یاد رکھو سفر جاری ہیں۔ اور یہ جاری رئیگا یاد ہیں مجھے یہ سفر ساتھ شروع کیا تھا۔ اآس مسکراتے پہلے ملاقات سے اس آخری فکر تک کے اب آگے کیا کرنا ہیں ساتھ تھے ہم۔ سب اسی کشمکش میں تھے کہ ان حالات میں سنگتوں کی کمی کام کا زیادہ ہونا بوج بہاری اٹھانے کے لیے ہمارے کمزور کاندئے۔ مگر چلنا تو ہیں۔ ایک دوسرے کا آثرا بننا ہیں۔ ایک دوسرے کا کمک ہونا ہیں۔مگر اس ہی لمحہ جب کچھ کھونے کے پوزیشن میں نہیں ہیں دوستوں سے سنا کرتے تھے تب ہی زندہ حیات تم کھو گئے۔تمھیں تمارے زات نے کھونے پے مجبور کیا۔ تمھیں تمارے ایک کے گھر نے آواران میں خاک ہوتے گھروں سے آنکھیں بند کرنے پے مجبور کیا۔ تمھیں تمارے اولاد کے پیار نے اندھا کر دیا جو تم نے اس لاش سے منہ موڑا جو حیات کے آخری لمحہ میں اس امید پے فناہ ہوا کے تم ہو۔تمہیں اس باپ نے مجبور کیا جو خود اس غلامی کو سہی کر تمھیں اک غلام بنایا اور آج پھر تمھیں اسی کے لیے غلامی کی موت قبول کر لیے۔ شاید نہیں یہ سب ان کے لیے نہیں تھا یہ سب تمارے لیے تھا جو انسان ایک قوم کا نہیں ہوا وہ کسی کا نہیں ہو سکتا یہ سب تم نے اپنے خود کے لیے کیا۔ تمھیں تمارا زات برتر لگا۔اس ننگ سے جس کے لیے قربان ہوئے شہزادے دور کے۔ تمھیں یاد ہیں نا اس سفر میں ایک ساتھ تھے۔ اس میں اور بھی کافی دوست تھے جن میں سے کچھ اس آخری گولی تک لڑے جو انکے بندوق میں بھری تھی۔ یاد ہی ہوگا تمھیں ان کا خون آلودا کھلی آنکیھں مجھے یاد ہیں وہ سب ان میں وہ آخری امید کہ ہمارے بعد چلتا رئے شمعوں کا کاروان۔ تمھیں یاد ہیں درویش کا پیغام مجھے یاد ہیں اسکا مسکراتا چھرا اسکے باتیں ہمیں دیا ہوا زمہداری ۔ہان مانتا ہوں کمزور کاندئے ہیں۔ زندہ انسان دعوہ بھی نہیں کرسکتا۔مگر ایمان و دعا ہیں کے تم جیسا بے زمیر بھگوڑا ہونے سے پہلے موت ہی آجائے۔چایے جتنا بے رحم ہو۔ ہان یہ تہ نہیں کرسکتا کب کہاں دشمن کے گولی سینہ چیر کر نکل جائے۔یہ میرا اپنا خواہش ہیں جو میں لڑتے کر قربان ہوجاوں۔ مگر کہے بھی نہیں سکتا کے یہ کمزور بدن دشمن کے عزیت کو کتنا سہ پائیگا۔اس کے عزیت خانون میں کتنا ٹوٹ جائے گا۔مگر یہ تہے ہیں کے وہاں سے زندہ نہیں لوٹونگا۔ وہاں سے ایک اور راستا ملتا ہیں جو ان تک لیجائے گا جو پہلے بچڑ گئے تھے۔ ابھی تو سفر جاری ہیں۔یہ جاری رئیگا تب تک جب تک ان تاریک راہوں کا سویرہ نہیں ہوتا۔اس میں روکھ کر افسوس کرنے کی گنجائش نہیں۔اس میں سہناپڑتا ہیں تعکے اس قول تک چلے جس پے فدا ہر سنگت ہوا ہیں۔ ان سنگتوں کے جدائی نے کہی بار آنسوں کا انبار کیا ہیں۔ ان کے یادوں نے محفل میں خاموشی تاری کی ہیں۔ مگر ان کے فیصلے نے ایک امید ایک حوصلہ بخشا ہیں اور میرے زیست کا سامان بھی یہی ہیں۔ افسوس تو تم پے ہوتا ہیں جو تم نے انکے تپتی ریت پر پڑی لاش سے منہ موڑ کر آسودگی میں گم ہوگے۔تم نے زمیرداروں کے دوستی میں بے زمیر بنے کا راستا چنا۔تم نے ننگ آبرو پے مٹنے سے پہلے اسے ہی مٹا دیا۔ تم نے جو گام اٹھایا وہ ایسا لگا جب پکارتی چادر بچاتی بھن سے منہ موڑ دو۔ شاید میں کچھ زیادہ بول دوں۔ مگر یقین جانو میرا تم سے زاتی کوئی رنجش نہیں۔تمھیں سے تو ترک تعلق تب ہوا تھا جب تم نے توق غلامی پھر سے پہنا تھا۔ اس کے بعد میں نے تمھیں اپنا اپنے قوم کا نہیں مانا جب تم میرے نہیں تو گلہ بھی میرا کیسا۔تو یہ الفاظ بھی میرے نہیں ہیں۔یہ مجھے لکھوایا جا رہا ہیں۔ قلم میرے ہاتھ میں مگر لفظوں کا چناو میرا نہیں۔ یہ مجھ سے التجا کر رئے ہیں کے جو ہم کھیں وہی لکھو۔ یہ میں نہیں تو کوں ہیں یہ الفاظ دیوان میں بیٹے اس ساتھی کے ہیں جو مشکل کو آسان بنانے کے لیے دوران مشن ہم سے جدا ہوا۔یہ الفاظ اس شہید کے ہیں جو آخری گولی اس سوچ کے ساتھ خود میں بہاتا ہیں کے تمارے راز دشمن کو نہ ملے۔یقین مانو میں گلہ نہیں کر رہا میرے لیے تم کون ہو کیا ہو کوئی فرق نہیں مجھے۔ مگر تم بے زمیر ہو اس ماں کے آنکھوں میں مین نے دیکھا جو لخت جگر کے لاش کو پاکر۔ اس خوشی میں غم بھول جاتا ہیں کے تم محاز پے ہو۔ یہ تومتیں یہ لانتیں میں ہرگز نہیں کر سکتا یہ تو اس بہن کی ہیں جس نے امیدء سحر تم سے لگائی تھی۔ یہ لغوری کے تعنوں سے بھی میں لا تعلق ہوں یہ تو اس باپ کا ہیں جس نے اپنے جوان کو کاندھا دیا تھا۔ میرا ان میں کچھ نہیں، میں ان میں سے کسی سے متفق بھی نہیں۔ کیونکہ میں جانتا ہو تم نے کس سے دغا کیا ہیں۔ جو ہو نہ سکا مادر وطن کا، اس کے لئے کیا قیمت ماں کے آنسوں کی،کیا پروا بہن کے امید کی کیا مشکل اس باپ سے ملے لقب کا۔ان سے تم جیسے لغور بے زمیر بے غیرت کا کوئی واسطہ نہیں کیونکہ یہ تمارے اپنے نہیں۔ یہ ان کے ہیں جن کا زمیر زندا ہیں۔یہ انکے ہیں جن کا غیرت انہیں آسودا ہونے کا درس نہیں دیتا۔ یہ انکے ہیں جو فناہ ہونے کا ہنر جانتے ہیں ۔ یہ انکے ہیں جو تاریک راہوں میں قربان ہو گئے۔ انکے لوگ وہ ہیں جو زندان میں بھی انکا درد کاٹتے رئے۔ تمھیں کیا لینا ان باتوں سے تمھیں تو نہ بہن کی پروا نہ ماں کی لاج نہ باپ کا فکر نہ کھر کی ننگ سے سروکار۔۔ میں اگر کہنا چاہتا ہوں تو اتنا کہنا چاہتا ہوں کے بند کرو اپنا یہ بے ھودا باتیں۔ یہ جو تم خود کے حق میں دلیل دیتے ہو اس لمحے بہت زلیل لگتے ہو۔تم سے بہتر تو وہ کتا ہیں جسے انجانے میں لوگ وفادار تو کہتے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0