جنگ نیم پختہ انسانوں کو پاگل بھی بنادیتی ہے درجنوں مثال تاریخ میں موجود ہیں۔ماما قدیر بلوچ

بدھ 5 نومبر, 2014

لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1781دن ہوگئے
کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1781دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بی این ایم منگچر ہنکین کا ایک وفد لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ستمبر 2014بھی گذشتہ مہینوں کی طرح سرزمین بلوچ پر فرزندوں کے لہو کی لالی پھیلاتے ہوئے شروع ہوا اور اسی رفتار سے ستمبر کا سورج لہو لہان انقلابی فرزندوں کی لہو سے غروب ہوا اگست کے آخری دنوں اور ستمبر کی طلوع ہوتی ہوئی سورج کیساتھ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قابض ریاست کی تباہ کن بمباری سے تباہی مچائی جس میں دو کمسن بچوں سمیت کئی فرزندوں کو شہید کیا گیا اور کئی کو اغواء کیا گیا انہوں نے مزید کہاکہ توتک اجتماعی قبروں سے سینکڑوں لاشوں کی برآمدگی کے بعد شاید ریاست نے اپنی حکمت عملی بدل کر ہزاروں لاپتہ بلوچ فرزنددوں کی لاشوں کو اسی طرح ایک ایک دو دو کرکے ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے آج بلوچ دھرتی کی ہر انچ فرزندوں کی قربانی کا گواہ ہے تو دوسری جانب حکومت کی طرف سے خفیہ ایجنیوں کی ترجمانی کرنا کہ بلوچستان میں سب ٹھیک ہے یہاں کوئی آپریشن واغواء مسخ شدہ لاشیں نہیں مل رہی سارا سلسلہ بند ہوگیا ہے تو کیا فورسز کے جنگی جہازوں کی بمباری تمپ ڈیرہ بگٹی کو ہلو کاہان آواران پنجگور میں بمباری سے چار سالہ کمسن بچوں سے لیکر سولہ سالہ طلباء بانک شہناز سے لیکر پیرانہ سال بزرگوں کو شہید کررہے ہیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ اورنے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہ دراصل جنگ نیم پختہ انسانوں کو پاگل بھی بنادیتی ہے جس کی درجنوں مثال تاریخ میں موجود ہیں اگرچہ ریاست بلوچ قوم کی منظم نسل کشی کررہی ہے اور اس پیمانے کی نسل کشی اور جارحیت کو روکنے کیلئے عالمی دنیا ابھی تک کوئی قابل ذکر اور موثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0