جنیوا میں فری بلوچستان مہم اور پاکستان کا ردعمل :ہمگام رپورٹ

منگل 19 ستمبر, 2017

جنیوا میں فری بلوچستان مہم شروع ہوا جہاں پر مختلف جگہوں پر فری بلوچستان کے بینرز لگے ہوئے ہیں جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور آزاد بلوچستان کے حوالے سے سوئس اور دنیا سے احتجاج کیا گیا ہے جس عمل نے سفارتی حوالے سے پاکستان کے لیے بہت زیادہ مشکلات پیدا کیا ہوا ہے اس کے رد عمل میں پاکستان نے دو دفع سوئس سفیر کو اسلام آباد طلب کرکے احتجاج کیا کہ وہ بلوچ قومی فوج بی ایل اے کے خلاف ایکشن لیں اور فری بلوچستان کی مہم کو روکنے میں کردار ادا کریں اور یہ بھی کہا کہ بی ایل اے پر برطانیہ اور امریکہ نے پابندی عائد کیا ہوا ہے جبکہ حقیقت میں برطانیہ نے بی ایل اے کے سربراہ ہونے کی وجہ سے حیربیار مری کوپاکستان کے کہنے کے مطابق گرفتار کیا لیکن اسکے خلاف کوئی کیس ثابت نہیں ہوا اور پاکستانی ہر فوجی جنرل جب بھی برطانیہ گیا تو اس نے حیربیار مری کی گرفتاری اور اسکے نقل وعمل کو محدود کرنے کے لیے برطانیہ پر دباوُ برقرار رکھا لیکن انھیں کامیابی نہیں ہوا اب براہمدگ بگٹی کی بھی مہم سے پاکستانی ریاست پریشان ہوا ہے اور اس عمل کو بی ایل اے سے جوڑ کر اسکو بھی دباوُ میں لانے کے لیے ہربہ استعمال کررہا ہے لیکن اس عمل سے بلوچ قومی تحریک کی سفارتی سطح پر کامیابی ہوئی ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0