جوہری توانائی کے عالمی ادارے کا ایران کی فوجی تنصیبات کا معائنہ

پیر 21 ستمبر, 2015

تہران(ہمگام نیوز) جوہری توانائی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو نے ایران میں پارچین کی فوجی تنصیبات کا دورہ کیا ہے۔ یوکیا امانو اتوار کے رز ایران پہنچے تھے۔

مغربی ممالک کی انٹیلی جنس ادارے اس بات پر شک کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ پارچین میں جوہری ہتھیاروں کے لیے تحقیق کا کام ہوا ہے۔

ایران نے اس کی تردید کی ہے اور وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

مغربی ممالک کے سفارتکاروں کی نظر میں یوکیا امانو کا یہ دورہ حال میں ایران کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے پر عمل کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

اس سے قبل عالمی معائنہ کاروں کو اس جگہ کے معائنے کے لیے صرف محدود رسائی حاصل تھی۔

لیکن نئے معاہدے کی روشنی میں جوہری ادارہ کے معائنہ کار ان تمام جوہری تنصیبات کا کا معائنہ کرسکتے ہیں جن کا ایران نے اعتراف کیا ہے اور وہ اس بات پر بھی نظر رکھیں گے کہ ایران بم بنانے کی غرض سے کوئی بھی جوہری مواد کسی خفیہ مقام پر تو منتقل نہیں کر رہا۔

ایران نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ معائنہ کار کسی بھی ایسی جگہ کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں انہیں جوہری مواد سے متعلق کوئی شک و شبہ ہو۔

ایران میں جوہری توانائی کے ادارہ سے وابستہ بہروز کمالوندی نے ایرانی خبر رساں ادارہ ارنا کو بتایا کہ اتوار کے روز یوکیا امانو نے پارچین کے ’متنازعہ حصوں‘ کا دورہ کیا ہے۔

آئی اے ای اے نے بھی اس دورہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یوکیا امانو عالمی جوہری ادارہ میں شعبہ نگرانی کے سربراہ ٹیرو ورجورانتا کے ساتھ وہاں گئے تھے۔

پارچین میں ایران کے جوہری پروگرام کے رول کے متعلق پہلی بار سنہ 2004 میں تشویش ظاہر کی گئی تھی۔

اس سے متعلق سنہ 2006 کی اپنی رپورٹ میں آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ جس عمارت کا انھوں نے دورہ کیا اس میں انھیں کوئی غیر معمولی سرگرمیوں کا سراغ نہیں ملا اور وہاں کے ماحولیاتی جائزے سے جو نمونے حاصل کیے گئے اس میں سے بھی وہاں پر کسی جوہری مواد کی موجودگی کا پتہ نہیں چلا۔

لیکن اس کے باوجود اس سے متعلق تشویشات کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ سنہ 2011 میں ادارے نے کہا تھا کہ اس نے پارچین میں بڑے پیمانے پر لینڈ سکیپنگ، مسماری اور نئی تعمیراتی سرگرمیاں دیکھی ہیں۔

اس کے بعد فروری 2012 میں ایران نے معائنہ کاروں کو اس مقام تک جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

گذشتہ جولائی میں چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے ساتھ جو معاہدہ ہوا ہے اس میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا جس کے بدلے میں اس پر عائد پابندیاں ختم کرنے کو کہا گیا ہے۔

امریکہ میں حکومت کا کہنا ہے اس معاہدے سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے باز رکھا جا سکے گا لیکن ریپیبلکن پارٹی اس معاہدے کی مخالف ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0