حالیہ بحران میں تمام بلوچ رہنماوں اور قدآور شخصیات کو عملاََ کردار ادا کرنا ہوگا۔ بی این ایل ایف

اتوار 26 اکتوبر, 2014

بلوچ قومی یکجہتی اور دشمن ریاست کے ہتھکنڈوں کی ناکامی کو مدنظررکھتے ہوئے بی ایل اے اور یو بی اے کی قیادت کو چاہیئے کہ دوراندیشانہ فیصلہ کریں جس سے بلوچ قومی تحریک کو ذرہ برابر نقصان نہ پہنچے۔
کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل لبریشن فرنٹ کے ترجمان نوہان بلوچ نے بلوچ قومی تحریک میں پائی جانے والی حالیہ بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم بشمول بلوچ قومی تحریک اس امر کا کسی بھی صورت متحمل نہیں ہوسکتا کہ ہم آپسی چپقلش و سیاسی اختلافات کو جواز بناکر ایک دوسرے کے سامنے مورچہ زن ہوکر کھڑے ہوجائیں۔بلوچ سیاسی پارٹیوں اور مسلح تنظیموں کے درمیان پالیسیوں اور طریقہ کار کو لیکر بالکل چند نقاط پر اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن اس کا قطعاََ یہ مقصد نہیں کہ دشمن ریاست کو جواز فراہم کرکے اس کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ خود ہمارے ان اختلافات کو دیکھ کر ہمیں کریش کرنے کی کوشش کرے۔بلوچ قومی سیاست کو لیکرحالیہ چند سالوں میں بلوچ عوام کے اندر پہلے سے اک بے چینی اور اضطراب پائی جاتی ہے اس سے پہلے کہ ہماری غلط پالیسیوں اور اختلافات کی وجہ سے ریاست فائدہ اٹھائے بی ایل اے اور یو بی اے کی قیادت کو چاہیئے کہ وہ ان مسائل کو دوراندیشانہ طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں اور اس ضمن میں بی این ایل ایف سمیت تمام بلوچ رہنماہان اور قدآور شخصیات کو عملاََ کردار ادا کرنا ہوگا۔کیونکہ بلوچ قوم کسی بھی صورت آپسی لڑائی اور ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہونے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بلوچ قومی تحریک برائے آزادی میں بی ایل اے کی ایک مضبوط حیثیت ہے اور بی ایل اے بلوچ مسلح تنظیموں میں مدر تنظیم بھی کہلائی جاتی ہے اسی لئے انہیں یو بی اے سمیت بلوچ سماج میں ایسا کوئی عمل نہیں کرنا چاہیئے جس سے بلوچ قومی تحریک ناکامی کا منہ دیکھے ۔ہماری بارہا یہ کوشش رہی ہے کہ بلوچ قومی مفادات اور ان کی بہتری کے لئے بلوچ سماج میں مساوات پر مبنی معاشی اور سماجی نظام کا قیام عمل میں آئے اور اسی مقصد کے لئے ہماری عظیم تر جدوجہد منزل کی حصول تک جاری رہیگی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0