حیربیار مری بلوچ قوم کی ایک کرشماتی لیڈر،تحریر :سعید بلوچ


کرشماتی رہنما خود پر دسترس کا مالک ، ایک وژن اور قوم کو لیڈ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے رہنماء انتہائی با اعتماد، اعلیٰ ظرف کے مالک، جدید خیالات سے لیس، حالات پر قابو رکھنے والا، خود کی نگرانی پر یقین رکھنے والا، موثر پیغام رساں اور لوگوں کو مطمئن کرنے کے گر سے سرشار ہوتے ہیں۔
حیربیار مری میں وہ سارے خاصیت ہیں جو ایک کرشماتی رہنماء میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں خود اعتمادی ،ایک مثالی سوچ، اکیلے کھڑے ہونے کی اعتماد ،سخت فیصلے لینے کی ہمت اور دوسروں تک اپنی بات پہنچانے اور انہیں قائل کرنے کا تجربہ ہے ۔وہ اپنے کردار میں برابری اور ارادوں میں دیانت داری کی وجہ سے ابھر کر سامنے آئے ہیں ان کی یہی اہلیت انہیں قوم کی رہنمائی کے قابل بنایا ہے۔ حیربیار مری نے خود کو حقیقی اور اصول پرست انسان کے طور پر ثابت کیا ہے ۔انہوں نے بلوچ قوم میں امید اور ایک بڑی متاثر کن سوچ کو برقراررکھا ہے۔ وہ جن خاصیت کے مالک ہیں وہ اسے بلوچستان میں دوسرے لیڈروں سے ممتاز بناتا ہے۔
وہ 4 اگست 1968 کو بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں نواب خیر بخش مری (مرحوم) کے گھر پیدا ہوئے۔وہ نواب صاحب کے پانچویں صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ بلوچستان میں حاصل کی، 80 کی دہائی میں انھیں اپنے خاندان کے ہمراہ کابل (افغانستان) ہجرت کرنا پڑا جہاں انھوں نے اپنی اعلی تعلیم حاصل کی۔مزید اعلی تعلیم کے حصول کیلئے حصول کے انھیں روس جاناپڑا۔ جہاں انہوں نے صحافت (جرنل ازم )پڑھی۔ اس اثنا میں انہوں نے کئی دفعہ ہلمند (افغانستان) کا تواتر کے ساتھ دورے کرتا رہا جہاں وہ بلوچ مہاجرین جو پاکستانی ظلم و بربریت سے تنگ آکر پناہ گزین کی زندگی گزاررہے تھے۔ وہ اپنے لوگوں کے قریب رہ کر ان کے مشکلات اور ان پر ہوئے مظالم کے درد ناک داستان سنا کرتا تھا جو بلوچ مہاجرین نے 70ء کی دہائی میں بلوچستان میں سامنا کیا تھا ، یہ وہ وقت تھا جب انھوں نے باقاعدہ اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ تاکہ وہ اپنی جدوجہد سے بلوچ آزادی کی تحریک کو بلوچستان سے باہر پہنچاسکے ۔
90 کی دہائی میں سنگت حیربیار افغانستان سے بلوچستان لوٹے اور بلوچ آزادی تحریک کے کاموں کو تیزی سے شروع کردیا ۔انھوں نے اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ اسٹٹدی سرکلز بنائے تاکہ وہ بلوچ جوانوں کو ان کے حق آزادی کے بارے میں تعلیم دے سکے۔ 1997 کے صوبائی انتخابات میں حیربیار مری نے کثرت سے ووٹ لے کر اپنے مخالفین پر کامیابی حاصل کی اور صوبائی وزیر برائے روڈ اینڈ مواصلات بن گئے۔ انتخابات لڑنے کی وجہ یہی تھی تاکہ بلوچستان کی آزادی کی آواز کو بلوچستان کے کونے کونے تک پہنچایا جاسکے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وزارت کی حلف برداری کے دوران پاکستان کی وفاداری کا حلف لینے کی بجائے اپنے قوم و وطن سے وفاداری جیسے الفاظ دہراکر پاکستان کی وفاداری کو ٹھکرایا۔
حیربیار مری بلوچ وزراء میں پہلے وزیر تھے جنہوں نے 28 مئی 1998کو پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکوں پر احتجاج کیا۔ چاغی راسکو پر کئے گئے ان ایٹمی تجربات کی وجہ سے بلوچستان بھر میں پیھپڑوں، جگر، جلد کی بیماریاں، خون میں کینسر ، ٹا ئیفائڈ اور یرقان، بلڈ پریشر، آنکھ، گلے کی بیماریوں کے علاوہ ماوں کے پیٹ میں جنم لینے والے نومولود بچے بھی ایٹمی تابکاری شعاعوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
حیربیار مری نوجوانی سے ہی حب الوطنی کے جذبے سے سرشار رہے ہے جب وہ روس میں زیر تعلیم تھے وہاں بھی بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ کے نام کی بیجز، سٹیکرز بنا کر اپنے ہم جماعتوں، اساتذہ اور دوستوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ انہوں نے خود کو کبھی پاکستانی نہیں کہا جبکہ پاکستانی مظالم سے دنیا کو آگاہی دیتے تھے، اسی اثناء میں وہ بلوچ کاز کے ساتھ مصمم ارادے کے ساتھ منسلک رہے۔
بلوچ رہنما حیربیار مری 90ء کی دہائی میں بلوچستان سے باہر چلے گئے، انہوں نے یورپ کا سفر کیا پھر برطانیہ میں سیاسی پناہ لی۔ اسی دوران سابق پاکستانی فوجی آمر جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ سن 2000 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس نواز مری کو کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ ممکنہ طور پر اس قتل کے پیچھے پاکستان کی خفیہ ایجسنی آئی- ایس- آئی کا ہاتھ تھا۔لیکن اس قتل کے الزام میں نواب خیر بخش مری ان کے صاحبزادوں کے علاوہ سینکڑوں مری بلوچوں کو نامزد کیا گیا۔ سینکڑوں مری بلوچوں کو گرفتار کرکے کوئٹہ کے ٹارچر سیلوں میں اذیتیں دی گئی۔ بیرون ملک قیام کے دوران بلوچ رہنما نے موثر انداز میں بلوچ قومی کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ انہیں مشرف حکومت کی ایما پر برطانوی حکومت کے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ وہ اپنے قریبی رفیق فیض بلوچ کے ہمراہ چار دسمبر 2007 کو لندن میں گرفتار کرکے انتہائی حساس جیل بلمرش میں منتقل کردیئے گئے۔ وہ پہلے بلوچ رہنما ہے جو بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی پاداش میں بیرون ملک پابند سلاسل رکھے گئے۔ فروری 2008 کو حیربیار اور فیض بلوچ کو لندن کی عدالت میں جیوری نے بے گناہ پا کر باعزت بری کرنے کے احکامات جاری کیئے ۔ سنگت حیربیار اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنے کا نام ہے، وہ آزاد بلوچستان کی یک نکاتی ایجنڈے سے ہٹ کر مذاکرات نہیں چاہتے۔
حیربیار مری وسیح بلوچ قومی مفادات کو کو پس پشت ڈال کر کبھی بھی سودے بازی نہیں کی، وہ اصول پرست انسان ہیں، انہوں نے خونی اور خاندانی رشتوں پر ہمیشہ اصولوں کو ترجیح دی ہیں۔ ان کی شفقت، مخلصی اور دو ٹوک موقف ان کی اصل طاقت ثابت ہوئے ہے۔ وہ دشمن کی طاقت اور استطاعت سے بخوبی ادراک رکھتے ہیں انہیں اپنے بلوچ قوم کی ہمت، حوصلے اور دشمن سے مقابلے کرنے کی طاقت کا بھی بخوبی علم ہے۔ وہ اپنے دل و دماغ اور پالیسیوں کو زمینی سطح پر رکھ کر دشمن کے جبر سے اپنی قوم کی دفاع کی جہد میں مصروف ہے۔ حیربیار بلوچ سرزمین کی آزادی سے ہٹ کر دشمن سے کبھی بھی درمیانے راستے اختیار کرنے کے حامی نہیں رہے۔ ان کی اس حقیقت پسندانہ سیاست اور پالیسیوں نے بلوچ قومی تحریک کو قومی مفادات کی حفاظت میں کافی حد تک کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔
میرے نقطہ نظر سے یوسف عزیز مگسی بلوچ کے بعد حیربیار مری واحد لیڈر ہے جو ایک نواب، اور سرداری گھرانے سے تعلق کے باوجود خود کو بلوچ تحریک آزادی کے عام بلوچ کارکن قرار دےچکے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لیڈر تمام مخصوص مذاہب، سیاستی نقطہ نظر، قومیت سے ہٹ کر قومی آزادی اور مخصوص مقاصد کا ترجمان ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی خواہشات، اور معاملات کو چھوڑ کر بلوچ قومی لیڈر شپ کی شکل میں قوم کی رہنمائی کی جو ہر بلوچ کی آواز ہے۔

حیربیار مری کی قابل قدر کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے بلوچ قوم کو یہ بتادیا کہ سوشلزم بلوچ قومی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نیشنلزم ہی بلوچ قومی تحریک اور نظریے کی کامیابی ہے۔ اسی سیاسی موقف کی وجہ سے بلوچستان کے کچھ سیاسی حلقوں میں ان پر تنقید بھی ہوئی لیکن وہ اپنے اس موقف پر ڈٹے رہے۔ آج حالات صحیح ٹریک پر آتے نظر آرہے ہیں کیونکہ کل جو لوگ حیربیار مری کے موقف سے اختلاف رکھتے تھے آج اس حقیقت کو جان چکے ہیں کہ بلوچ قومی مسئلے کا حل سوشلزم میں نہیں بلکہ نیشنلزم میں ہے۔

ان کی ایک اور اہم قابل تحسین کام یہ ہے انہوں نے اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر بلوچستان لبریشن چارٹر کا اجراء کیا جو بلوچ تحریک آزادی میں قومی سطح اور تاریخی حوالے سے قومی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جس میں مستقبل کے بلوچستان بابت ایک روڈ میپ دی گئی ہے جو بلوچ قوم کے ساتھ ایک معاہدے کی یاد دلاتی ہے۔ اس دستاویز کو سامنے رکھ کر ہم بلوچ قوم کو یہ باور دلاسکتے ہیں کہ آنے والا بلوچستان ایک جمہوری، انصاف پسند اور اپنے لوگوں کی آزادی کی قدر کرنے والی ملک بننے جارہی ہے۔ اس دستاویز کے ذریعے ہم عالمی برادری کو بھی یہ بتا سکتے ہیں کہ آنے والا بلوچستان آئین کی پاسدار، سیکولر، جمہوری نظام پر قائم ہوگا جہاں انصاف اور برابری ہوگی۔
بلوچستان لبریشن چارٹر کو انہوں نے بلوچستان کے سب ہی رہنماوں اور سیاسی پارٹیوں تک پہنچایا جن میں نواب خیربخش مری (مرحوم)، ڈاکٹر اللہ نظر، بی این ایم، بی آر پی، بی ایس او (آزاد)، خان آف قلات سلیمان داود، اخترمینگل اور دیگر شامل ہیں۔ اس اہم دستاویز مذکورہ رہنماوں اور پارٹیوں کو دینے کا مقصد بھی یہی تھا تاکہ وہ اس میں اپنے آراء اور سفارشات شامل کرسکیں۔ اخترمینگل کے علاوہ ابتدا میں درج بالا تمام نے اسے ایک مثبت اقدام قرار دیا لیکن بعد میں بد قسمتی سے پارٹیوں کے اندر کچھ مفاد پرست اور انا کے مارے لوگوں نے اس چارٹر کا حصہ بننے سے اجتناب کیا لیکن حیربیار مری نے کسی کی پرواہ کئے بغیربلوچستان لبریشن چارٹر کو بلوچ قوم کے سامنے پیش کرکے بلوچ عوام کی آراء طلب کی۔ چارٹر کو عوام کے اندر پیش کئے جانے کے بعد بلوچ عوام کی جانب سے بڑے پیمانے پر اسے سراہا گیا اور لوگوں نے اس کے اجراء کی تعریف کی۔

حیربیار مری سفارت کاری اور رابطہ کاری میں کافی تجربہ رکھتے ہیں ان کی بلوچ تحریک کی سفارتی سطح پر ترجمانی نے انہیں عالمی سطح پر غیر معمولی کردار کے انسان قرار دیا ہے ۔
ایک آدمی تب تک ایک لیڈر نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ سفارت کاری کے گر سے واقف نہ ہو، سفارت کاری کے ماہر انسان قومی مفادات اور پالیسیوں کو مد نظر رکھ کر ہی مذاکرت کرتا ہے تاکہ تمام تضادات کو حل کیا جاسکے۔ ایک سفارت کار اپنی تجربات اور اچھے انتظامی خصوصیات کی وجہ سے عالمی سطح پر حل طلب مسائل کو سامنے رکھ کر چلتے ہیں تاکہ منفی تاثر سے بچا جاسکے۔ حیربیار ایک اچھے منتظم اور سفارت کار کی خصوصیات رکھتے ہیں۔
انہوں نے بہت سے امریکن رکن کانگریس سے ملاقات ، اپنی ماہرانہ سفارتی کاری اور سیاسی تجربے سے انہیں بلوچ تحریک آزادی کی جہد کی حمایت پر راضی کیا۔ یہ ان کی سفارتی جہد کا ثمر ہے کہ امریکی رکن کانگریس کے ایک گروپ نے امریکی ایوان میں بلوچستان کی آزادی سے متعلق ایک قرارداد پیش کی جہاں انہوں نے بلوچستان کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ حیربیارمری کی زبردست عالمی سفارتی کاری نے دنیا کو قائل کرنے میں پیش رفت حاصل کی جہاں یہ پیغام دیا گیا کہ دنیا کے مفادات آزاد بلوچستان کے حصول میں جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی اس غیر معمولی ثمر آور جہد ہی نے انہیں ایک کرشماتی لیڈر کے طور پر پیش کیا ہیں۔
بلوچ قوم اپنے قومی رہنما پر فخر محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی طویل جہدوجہد اور مصمم ارادوں سے یہ ثابت کردیا کہ وہ بلوچ قوم کے لئے ایک حوصلہ افزاء امید کی کرن اور جرات مند لیڈر ہیں۔ انہوں نے ہر وقت اصولوں کی پاسداری کی، وہ بلوچ تحریک آزادی کی بہترین نمونہ ہیں، مخلص، خود کو وقف کرنے والا، دور اندیش اور اپنی مقصد پر ڈٹے رہنے والے انسان ہیں۔ ان کی پروقار اور دوستانہ مزاج موجودہ بلوچ تحریک آزادی کو اچھے انداز میں ساتھ لیکر چلنے کے لئے انتہائی اہم کردار اداکررہی ہے۔