خطے میں بلوچوں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا : افغانستان

منگل 1 ستمبر, 2015

کابل (رپورٹر ) 31 اگست2015 کو افغانستان کے وزارت سرحدات و اقوام قبائل کی طرف سے پشتون بلوچ یکجہتی کا دن بڑے اہتمام کیساتھ منا یا گیا جسمیں ملکی اعلیٰ حکام کے علاوہ بیرونی ممالک سے بھی کئی وفود نے شرکت کی ۔افغانستان میں یہ دن ایک لمبے عرصے سے منایا جارہا ہے لیکن اس میں پہلی بار جو بڑی تبدیلی نظر آتی ہے وہ یہ کہ اسمیں بلوچ آزادی پسندوں کو نہ صرف اظہارخیال کا موقع دیا گیا بلکہ اسٹیج سے کئی بار بلوچوں کے تحریک آزادی بارے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا گیا اوربلوچ آزادی پسند قومی رہنما حیر بیار مری کے پیغام کو خاص اہمیت کیساتھ وزیر موصوف کے تقریر کے بعد جگہ دی گئی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر سرحدات و اقوام قبائل محمد گلاب منگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ و پشتون دو برادر اقوام ہیں جو صدیوں سے بھائی چارے اور باہمی احترام کیساتھ رہتے آئے ہیں آج اُنھیں کسی بھی وقت سے زیادہ ایک دوسرے کے قریب اور ایکدوسرے کے درد کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔اِسی خیال کے مدنظر ہم ہمیشہ یہ دن مناتے اور ایک دوسرے کیلئے نیک جذبات کے اظہار کااعادہ کرتے ہیں ۔ان دونوں قوموں کے رشتے ہمارا اثاثہ ہیں جو ہمارے نسلوں کی امانت ہے جسے نسل در نسل مزید مضبوط کرکے اُنکی نگہداشت کرنا ہے ۔افغانستان اس وقت ہر طرف سے شعلوں کی لپیٹ میں ہے اور ہمیں سب نے ملکر اس آگ کو ٹھنڈا کرنا ہے ۔امن افغانستان کے لوگوں کی اولین ترجیع ہے جس کیلئے ریجن میں ہمارے بھائی بلوچوں کے اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تقریب میں بلوچ آزادی پسند رہنما حیر بیار مری کا پیغام بلوچ دانشور حفیظ حسن آبادی نے پڑھ کر سنایا ۔بلوچ لیڈر نے اپنے پیغام میں بلوچ پشتون ہمبستگی کا مختصر تاریخی پس منظر کے اس چیز پر زور دیاتھا کہ افغان (پشتون ) و بلوچوں کا دشمن مشترک ہے اور وہ اُنکے قومی وجود سے انکاری اُن کا نام و نشان مٹانے کے درپے ہے دہشتگرد کے نام بلوچوں کی بلوچستان میں نسل کشی ہو رہی تو پشتونوں کی پاکستان اور یہاں افغانستان میں قتل عام جاری ہے ۔حیربیار مری کے پیغام میں خاص طور پر اس چیز پر زور دیا گیا تھا کہ خطے کی امن،ترقی ومعاشی استحکام کیلئے آزاد بلوچستان لازمی ہے ۔کیونکہ آزاد بلوچ ریاست کبھی بھی کسی دہشتگرد کو اجازت نہیں دے گی کہ وہ افغانستان میں خونریزی کیلئے اُس کے سرزمین کو استعمال کرسکے۔اگر افغان دوست افغانستان اور خطے میں واقعی امن کا خواہاں ہیں تو اُنھیں بلوچ کی اہمیت کا ادراک کرکے آزاد بلوچستان کے تحریک کا بھر پور حمایت کرنا ہوگا۔ممتاز بلوچ دانشور عبدالستار پردلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں بلوچوں کیلئے بھائی کا اصطلاح استعمال کیا جاتا ہے لیکن بلوچوں کی پاکستان و ایران کے ہاتھوں نسل کُشی پر وہ صدا احتجاج سنائی نہیں دے رہی جس کی ضرورت ہے بلوچ دانشور نے کہا کہ اس وقت بلوچوں کی ہزاروں لاشیں بے گور و کفن میدانوں میں پھینکے جاچکے ہیں بیس ہزار سے زائد نوجوان ،بوڑھے ،بچے جن میں خواتین بھی شامل ہیں ماورائے عدالت اُٹھا کر غائب کئے جاچکے ہیں بلوچ اپنی ناتوانی میں در در کھٹکھٹا چکے ہیں لیکن اُنکی آواز بین القوامی اداروں تک مناسب انداز سے پہنچ نہیں پارہی افغان دوستوں سے ہم یہ اُمید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ڈپلومیٹک چینلز سے بلوچوں پر ڈھائے مظالم کا آواز بین القوامی فورمز پر بلند کرکے حقیقی بھائی ہونے کا ثبوت دیں گے۔ماضی میں جب ایوب خان نے بلوچوں پر مظالم ڈھائے تو افغان رہنماداود خان نے ہر کئی اہم بین القوامی فورمز میں دنیا کے سامنے پاکستانی ریاستی دہشتگردی پر سوال اُٹھا کر پاکستانی حاکموں کو یہ احساس دلایا کہ افغان بلوچوں کی نسل کُشی پر خاموش تماشائی نہیں بنے گا ۔آج ہمیں کسی بھی وقت سے زیادہ ایک ایسے توانا آواز کی ضرورت ہے جو بلوچ قومی مسلہ اور اُس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں موثر احتجاج کرسکے ۔افغان میڈیا اور افغان حکومت اس ضمن میں آگے آئیں اور ہمیں یہ احساس دلائیں کہ ہم یہاں یک و تنہا نہیں جنہیں ایران لٹکائے اور پاکستان گولیوں سے چھلنی کردے اورہمسایہ، عالمی قوتیں اور بین القوامی انسانی حقوق کے ادارے تماشائی بنے رہیں ۔ تقریب سے جنرل ذوالفقار بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں خالی نعروں اور ہوئی وعدوں کا قائل نہیں افغان دوست جب ہمیں دوست اور بھائی کہتے ہیں تو وہ یہ اس رشتے کو اپنے عمل سے دکھائیں کوئٹہ اور پشاور سے آئے ہوئے پشتون بھائی کسی سے بھی بہتر جانتے ہیں کہ وہ جس ریاست کی مضبوطی کا گن گاتے ہیں اُسی ریاست نے افغانستان کو خاک و خون سے نہلایا ہے وہ افغانستان کو اپنا وطن کہتے ہیں لیکن دوسری طرف اس وطن کی بربادی کے درپے ریاست کے دست و بازو ہیں ۔بلوچوں کو کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں بلکہ جو اپنے آپ کو دوست کہتا ہے وہ بلوچوں کا ساتھ دے کیونکہ بلوچ اس وقت اُس قوت کے خلاف برسر پیکار ہے جس نیو بلوچ پشتون نسل کُشی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا ہے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ بلوچ نے عملی قدم اُٹھا کر اپنے عظیم مقصد کیلئے قربانی دے رہاہے جب کہ کچھ لو گ ابھی زبانی جمع خرچ پر کام چلا رہے ہیں ۔ جس طر ح کہ پہلے کہا گیا بلوچ اس وقت اپنی نہیں بلکہ پوری ریجن سے دہشتگردی وظلم و نانصافی کے خلاف برسرپیکار ہے۔
تقریب سے ممتاز دانشور و شاعروسابق وفاقی وزیر سلیمان لائق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر افغانستان ایک کثیر القومی ریاست ہے یہاں بلوچ و پشتون کے ساتھ دیگر اقوام بھی رہتی ہیں ہمیں ایسے موقعوں پر انھیں اپنے پروگراموں میں خاص طور پر شریک کرنا چائیے جہاں تک پشتون و بلوچ یکجہتی کا تعلق ہے وہ وقت و حالات و نئے بین القوامی سیاست کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے ہمیں نہیں بھولنا چائیے کہ بلوچ کو قتل کرنے والا اور افغانستان کو غارت کرنے والا پاکستان نے جس نے ہمسائے کے گھر میں آگ لگا کر یہ سوچا ہے کہ وہ آرام سے بیٹھے گا لیکن یہ اُسکی بھول ہے ا ور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس آگ کے شعلے اب وہاں بھی بلند ہوکر اسکی بنیادوں کو ہلا چکے ہیں ۔ پاکستان ہمارے لئے دشمن ہے جبکہ انگریز کا بچہ ہے ۔آپ نے کہا کہ میں اپنی حکومتی پالیسی میں عدم مداخلت کا حامی ہوں لیکن بحیثیت ایک بزرگ کے اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ پاکستان سے دوستی کی کوششیں جس طرح ماضی میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں مستقبل میں بھی اس کے امکانات دکھائی نہیں دیتے کہ وہ ہمارے ہاں خانہ سوزی سے دستبردار ہوگا لہذا موجودہ حکومت اپنے دوست و دشمن میں شناخت کرکے اپنی پالسی تشکیل دے جو افغانوں کے گھروں میں امن و خوشحالی لاسکے۔اس راہ میں ہمارے بلوچ بھائیوں کی بڑی اہمیت ہے اُمید ہے پشتون و بلوچ تاریخی رشتوں کے تناظر میں اس اہمیت کو بجا طورپر ہر پالیسی میں مدنظر رکھا جائیگا۔تقریب سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا تقریب کے دوسرے حصے میں مشاعرہ کا اہتمام کیاگیا تھا جبکہ آخری حصے میں مہمانوں کو عشایہ دیا گیا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0