خفیہ ایجنسیاں بلوچ قومی تحریک آزادی کا زور توڑنے کمزور کرنے کیلئے پوری منصوبہ بندی کر رہے ہیں، بی ایل ایف پالیسی بیان

جمعہ 31 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے پارٹی کی پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی خفیہ ادارہ بدنام زمانہ خفیہ ایجنسیاں بلوچ قومی تحریک آزادی کا زور توڑنے اور اسے اندر سے کمزور کرنے کیلئے پوری منصوبہ بندی کے تحت بلوچ معاشرہ کے اندر مصنوعی طریقوں سے مذہبی انتہا پسندی وفر قہ واریت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے ، خفیہ ایجنسیاں اپنی تربیت یافتہ ایجنٹوں کی کمان میں متعدد عسکری گروہ تشکیل دیکر انہیں مختلف فرقہ پرست جہادی تنظیموں کے نام پر فوجی تربیت ، فنڈ ، پناہ گاہیں اور آپریشنل سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔ کیچ کے علاقے پیدارک میں سردار رعزیز عمرانی اور اُس کے بیٹے میران کے کمان میں ایک ایسے ہی عسکری گروہ کا کیمپ موجود ہے ، یہ گروہ خفیہ ایجنسیاں کی ایما پر ذکری فرقہ کے خلاف جہا د کے نام پر بلوچ عوام ، آزادی پسند ، بلوچ آزادی پسند کارکنوں و سرمچاروں کے خلاف عسکری کارروائیوں میں ملوث ہے ۔ اس کے علاوہ پنجگور میں تعلیمی اداروں کو دھمکانے و دشت میں تعلیمی اداروں کو نذر آتش ، کولواہ میں ذکری عباد ت گاہ پر حملہ، گریشہ میں ذکری زائرین پر حملہ ، کیچ، پنجگور ، کولواہ ، گریشہ ،جھاؤ و دیگر علاقوں میں داعش (خفیہ ایجنسیاں ) کی شاخوں تحفظ حدوداللہ ، جنداللہ ، انصارالاسلام ، الجہاد ، لشکرِ اسلام ، الفرقان الاسلام اور آواران میں لشکر طیبہ کے نام سے فرقہ وارانہ نفرتوں سے لبریز لٹریچر و پمفلٹ کی تقسیم اور وال چاکنگ جیسی سرگرمیوں کے پیچھے خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ذکرو نمازکی بنیاد پر بلوچ قوم کو تقسیم اور آپس میں دست و گریبان کرنے ، عسکری کارروائیاں کرنے اور فرقہ وارانہ نفرتیں پھیلانے میں ملوث خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کے خلاف ہر محاذ پر بلوچ عوام ، تحریک آزادی اور سیاسی کارکنوں کا دفاع کرنے کیلئے بی ایل ایف پوری طرح پُر عزم ہے ،بلوچ قوم اور تحریک آزادی کے خلاف اس مکروہ سازش کا پردہ چاک کرنے کا مقصد بلوچ عوام اور عالمی رائے عامہ کو باخبر کرنا ہے، تاکہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر بلوچ قوم کو تقسیم اور آپس میں دست و گریباں کرنے اور نفرتیں پھیلانے والے خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کے خلاف بی ایل ایف کی کارروائیوں کو کوئی دوسرا رنگ نہیں دی جا سکے،ہم بلوچ علماء کرام سے بھی دوخواست کرتے ہیں کہ خفیہ ایجنسیوں کے اس مکروہ سازش اور بلوچ نسل کشی پر خاموش رہنے کے بجائے اپنا قومی اور دینی فرض ادا کرتے ہوئے فرقہ وارانہ نفرت ، انتہا پسندی اور عسکری کارروائیوں کی کھل کر مذمت کریں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0