داعش کی بلوچستان میں ممکنہ رونمائی اوردنیاکیلئے خطرے کی نئی گھنٹی .حفیظ حسن آبادی

منگل 21 اکتوبر, 2014

عراق و شام میں داعش کی رونمائی نے پہلے سے بیقرار دنیا کو ایک نئی عذاب سے دوچار کرتے ہوئے کئی بڑی قوتوں کو اپنے علاقائی و بین القوامی پالیسیز کو نئے سرے سے مرتب کرنے مجبور کیا ہے ۔اگر دوچار سال قبل امریکی لیڈر فخر سے کہتے تھے کہ ہم نے دنیا کے کئی حصوں میں جنگیں لڑکروہاں آزادو نئی جمہوری نظام کا آغاز کیاہے تو آج اُنھیں ضرور احساس ہوگا کہ ایسا کہہ کر اُنھوں نے بڑی جلدبازی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اُن کی گذشتہ دس بارہ سالوں کے تمام اقدامات کا منفی نتیجہ نکلا ہے۔وہ بھاری جانی ومالی نقصانات اُٹھانے کے باوجود نہ افغانستان میں ایک مستحکم اور پائیدار امن لاسکے ،نہ عراق میں صدام کو ہٹا کر وہاں کے عوام کو ریلیف دے سکے ،نہ کرنل قذافی کے بعد لیبیا نے سُکھ کا سانس لیا ہے نہ یمن سے القاعدہ کی بیخ کنی کی جاسکی نہ مصر میں فرعونیت کا خاتمہ کرکے جمہوریت کی دال بیل ڈال سکے نہ شام میں بشرالاسد حکومت گرانے کی کوشش میں مخالفین کو کیل کانٹوں سے لیس کرکے کچھ حاصل کرسکے اور نہ ہی پاکستان کو حقیقی معنوں میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا ہمنوا بنانے کے مشن میں کامیابی حاصل کی۔
اب ان سب کی خاکستر سے اُبھرتا داعش جوبظاہرپاکستان (خاصکر بلوچستان) ،افغانستان ،ہند و روس سے بہت دور ہے لیکن مستقبل قریب میں ان ممالک سمیت پورے خطے میں بڑی بے چینیوں کا سبب بن سکتاہے۔
ہم چونکہ معاملات کو واقعات کی کڑی ملاکے دیکھنے کے ساتھ اُس کے پیچھے محرکات کا سبب بنے رحجان سے بالکل بھی بے خبر نہیں رہتے بلکہ ہمارا اصل توجہ کا مرکز ہمیشہ بنیادی تصور و رحجان ہی ہوتا ہے اس لئے ہم اس پدہدہ کوایک نئی تحریک کیساتھ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی پے در پے غلطیوں کا وہ خمیازہ سمجھتے ہیں ہے جسے اُن کے ساتھ پورے خطے کونہ چاہتے ہوئے بھی بھگتنا پڑے گا۔
داعش عراق شام میں کیا کررہاہے اور اس سے دنیا کس ہیجانی کیفیت سے دوچار ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن اُن کے رنگ میں ڈھلتے جو واقعات گذشتہ چند مہینوں سے بلوچستان میں ہورہے ہیں اُن سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں پہلے سے موجود مسائل میں نئی الجھنیں آئیں گی ۔اس رحجان کا آغاز پنجگور میں اسکولوں کی بندش ،خواتین پر تیزاب پھینکنے سے شروع ہوا جو بعدازاں مکران کے کئی علاقوں خاص کر پیدارک میں لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ اُنکے گھروں کوجلانا اور بزور بندوق لوگوں کودرجنوں کے حساب سے اُٹھا کرلے جانا جیسے واقعات رونما ہوئے۔ اِسی طرح مشکے آوارں میں زگری بلوچوں کے زگر خانوں میں گھس کراندھا دھندفائرنگ کرکے لوگوں کو شہیداور زخمی کیا گیااور آج مکران اور کراچی کے بلوچ علاقوں میں اکثر ابوبکربغدادی اور داعش کے حق میں دیواروں پر چاکنگ دیکھی جاسکتی ہے۔
بلوچ قوم کیلئے یہ بات لمحہ فکریہ توہے ہی کیونکہ آگ تو اُسی کے زمین پر جل رہی ہے اور اُسکی تپش بھی سب سے پہلے اُسی کے بدن کو جلادے گی لیکن دنیا خاصکر افغانستان امریکہ ہندوستان اور روس کو بھی اس میں ضمن تماشائی بننا بہت بھاری پڑسکتا ہے ۔پاکستان سیکولر اور میانہ رو بلوچ قوم کے خلاف ایک ایسی قوت کی پشت پناہی کررہی ہے جس نے آج دیگر خطوں میں پوری دنیا کے قراروسکون کو غارت کیا ہے ۔ بلوچ تحریک آزادی کو دبانے ریاست اس رحجان کی حوصلہ افزائی کررہی ۔جو جنگ وہ بلوچ سے دھونس دھمکی،لالچ و خوف دلاکر نہ جیت سکی اب وہ اسلام کے مقدس نام کو ہمیشہ کی طرح ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر ابھار کر اُس کے زریعے حاصل کرنا چاہتی ہے اُسے بلوچ تحریک آزادی کونیست و نابود کرنے کی تڑپ میں اس چیز سے کوئی غرض نہیں کہ اسکے ایفکٹ سے زیادہ سائڈ ایفکٹ خود اس کے اور دنیا کیلئے بھیانک ہوں گے ۔ اِسی خطرکو بھانپتے ہوئے پاکستانی انسانی حقوق کے چیرمین محترمہ زارا یوسف نے گذشتہ دنوں اپنے کوئٹہ کے پریس کانفرنس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھاکہ بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں انتہاپسندی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے جسکے مستقبل میں خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔
پاکستانی حکام نے اُنکی ایسی تشویش کو سُنی ان سُنی کردی ۔پاکستان اپنے اس عمل سے کئی دیگرمفادات کیساتھ چھ اہم فاہدئے حاصل کرنا چاہتی ہے پہلہ بلوچ آزادی کے تصور کے سامنے اسلام کے تصور کو مورچہ زن کرے دوسرا بلوچ مسلح تنظیموں کو مصروف رکھکر یہاں سرمایہ کاری کیلئے کسی نہ کسی طرح ماحول بناسکے تاکہ سرمایہ آئے اور اُسی سرمایہ سے بلوچ کو دبایا جاسکے تیسرا وزیرستان کیساتھ ساتھ بلوچستان میں بھی شدت پسندوں کے ٹھکانے بنائے جاسکیں تاکہ اگر بین القوامی دباؤ سے شدت پسندوں کو وزیرستان میں رکھنا مشکل اور افغانستان میں بھی زیادہ آسانیاں نہ ہوں تو اُنھیں یہاں ’’آباد کیمپوں‘‘ میں منتقل کیا جاسکے چوتھا ان شدت پسندوں کو افغانستان آنے جانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔اب یہ کھلا راز بھی سب پر کھل چکاہے کہ دوھزار چودہ کے بعد پاکستان نئی قوت اور نئی شدت کیساتھ افغانستان میں دراندازیوں اور خرابکاریوں کی حوصلہ افزائی کرے گا تاکہ جو کچھ دنیا نے یہاں بہتری کیلئے کیا ہے سب کا سب ملیا میٹ کیا جا سکے ۔پاکستانی حکام کب کے یہ جان چکے ہیں کہ اُنکے بد اعمالیوں کے کارن اس نئے افغانستان میں پاکستان کیلئے کچھ بھی نہیں ہے اور ایسا افغانستان پاکستان کو کبھی بھی منظور نہیں ہوگا ۔ پانچواں اور دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ اسلام کے نام پر ان شدت پسندوں پر اگر پاکستان بیس روپے خرچ کرے گا باقی اَسی روپے عرب ممالک کے شدت پسندوں کے ڈونر خود خرچ کریں گے جس طرح افغان جنگ پاکستان عربوں اور امریکہ کے پیسوں سے اُنہی کے خلاف انتہا پسند پیدا کرتے ہوئے ’’لڑا‘‘ یہاں بھی اسلام کے نام پر اسلامی ممالک سے پیسے بٹور کر اِسلام کے بدنامی کا باعث اور پوری دنیا کے امن کو غارت کرنے کا سبب بننے والے عناصر کو مضبوط کرے گا۔چھٹا اور سب سے خطرناک منصوبہ یہ کہ اگرریاست وہاں اسلامی شدت پسندوں کی موجودگی اور اور اُنکی بربریت کو رجسٹر کرانے کامیاب ہوتاہے تو اس کے بہانے وہاں ضرب عصب جیسے بڑے فوجی آپریشن کی راہ ہموار ہوگی جسکی آڑ میں دنیا سے وہاں بمباری و آپریشن کرنے کی براہ راست اجاز ت مل جائیگی وہاں بھی اصل شدت پسند عین وقت پر کہیں اور منتقل کرائے جائیں گے اُن کے بدلے بلوچ آزادی پسندلوگ اور عام بلوچ جنہیں ریاست آزادی پسندوں کا ہمدرد سمجھتا ہے آپریشن کی زد میں آئیں گے اور بلوچ تحریک آزادی کو کچلنے میں مدد ملے گی ۔
یہاں ہمیں یہ کہنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں کہ اگرجیوپولیٹیکل حوالے سے اہم ترین مقام بلوچستان میں داعش جیسی قوت اُبھرتی ہے تو اُسکے پھیلاؤ اور شدت کے اثرات قرب و جوار میں کیا ہوں گے اور دنیا کو اُسے روکنے میں کتنی بربادیوں کو دیکھنااور سہنا ہوگا اوراس کیلئے کتنے وسائل آگ میں جھونکنے پڑیں گے؟ اسکا ٹھیک و مطلق جواب کوئی نہیں دے سکتا لیکن ایک بات طے ہے کہ اُس کی تباہ کاریاں اور اُسکے نقصانات کسی کے بھی وہم و گمان سے زیادہ خطرناک و خونین ہوں گے ۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کینسر کا تدارک ممکن ہے ؟۔توہماری نظرمیں اس کے روک تھام کا راز صرف اور صرف بلوچ آزادی کے توانا ہونے میں مضمر ہے ۔آج داعش کے سامنے کردوں کی استقامت اور منظم جنگ نے یہ ثابت کیا کہ ایسے اجنبیوں کے خلاف صرف اور صرف وہ لوگ لڑنے کی سکت رکھتے ہیں جو نہ صرف مذہبی تعصبات سے پاک ہوں بلکہ وہ اپنی آزادی کو ہرچیز سے مقدم سمجھتے ہیں۔اس خطے میں کرد اور بلوچ دو ایسی قومیں ہیں جو فطری طور پر مذہبی جنونیت سے بہت دور اور استعماریت کے خلاف صدیوں سے لڑتے آرہے ہیں ۔ امریکہ ،یورپ اور مہذب دنیا جس طرح آج کردوں کے بہادری کا معترف اور اُن کے مدد کو ضرور ی سمجھتا ہے اگر وہ کم از کم آٹھ دس سال قبل یہی رویہ رکھتے اور کردوں کو جدید اسلحہ سے لیس کرتے تو آج دنیامیں کئی ایسے مشکلات پیدا ہی نہیں ہوتے جنہوں نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
دنیااپنے وسیع تر مفادات کیلئے بلوچ تحریک آزادی بارے دوٹھوک موقف اپنانے کی ضرورت پرغور کرے۔ دنیا کے حمایت کی صورت میں بلوچ اپنے بقا کی جنگ کوجیتنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے جو درحقیقت نہ صرف اُنکی جیت ہوگی بلکہ پوری انسانیت اور انسانیت دوست قوتوں کی فتح ہوگی۔ دوسری طرف بلوچ آزادی پسند قوتوں کو اپنے آپ کو اس قابل بنانا ہے کہ دنیا اُن پر اعتماد کرسکے جو صورت اس وقت بلوچ آزادی پسند قیادت کی ہے وہ کسی طرح بھی قابل رشک نہیں اُنھیں چاپلوسوں نے گھیر کر اصل ہدف سے ہٹا کر ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے تاکہ اُن کا دائرہ سُکڑ کرمحدود ہوجائے اور لیڈرتنہا ہوکراُنہی کے رحم و کرم کے حوالے ہو ۔ جو جتنا بڑا ہے اُسکے ٹیم کی لاپروائیاں اُتنی ہی بڑی اور غیر زمہ داریاں اُتنی ہی زیادہ ہیں وہ لوگ جو تین چار سال قبل کسی طرح بھی تحریک کے اندر خرابی پیداکرنے جانے نہیں پارہے تھے آج وہی داخل ہوکر پراگندگی وبداعتمادی پھیلاکر پہلے سے موجود ٹیم ورک کو غارت کرنے کامیاب ہوئے ہیں۔جس سے بظاہر سب حرکت کررہے ہیں لیکن اُن کے حرکتوں کا برکت کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اُنکی آنکھیں بند کرکے اُنھیں ایک مخصوص دائرے میں گھمایا جارہا ہے ۔ ایک قومی جنگ ایک سال کے قلیل مدت میں کسی کی پراکسی وار کی شکل کرتا جارہا ہے جہاں قومی آزادی کے بجائے ہر کمانڈر اپنے دائرہ اثر کے فکر میں لگا محسوس ہوتا ہے۔ہمیں ایمان کی حد تک یقین ہے بلوچ قوم آج بھی کسی کی پراکسی وار نہیں بلکہ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ وہ اس سے بالکل بے نیاز ہے کہ کون لیڈر اور کون کمانڈر ہے جبکہ متاسفانہ آج جو کچھ ہورہا وہ یہی کہ اُسے یہ احساس دلایا جائے کہ لیڈر و کمانڈر مقصد سے زیادہ ہیں ۔اُن کے پیروکاروں کی طرف سے ایسا کوشش سب کیلئے مہلک تجربہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اُسکی ہمدردیاں حاصل کرنے اُسے اصل مقصد سے ہٹاتے ہیں اور جس دن وہ اُس مقصد سے ہٹ گیا تو پھر ضروری بھی نہیں وہ اُس کا ساتھ دے جو اُسے اپنی بہتری کے فسانے سُنا رہا تھا۔یہ بات انتہائی کرب کیساتھ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح دنیا بلوچ قومی تحریک آزادی بارے یکسو ہونے دشواری کا شکار ہے بلوچ قیادت بھی اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کرنے کامیاب نہیں ہوپارہا ہے جس سے اُس کے تحریک کو ایک حقیقی تحریک آزادی سمجھ کراُس کے ساتھ کھل کر اعتماد کیساتھ بات کیا جاسکے۔گوکہ وقت کم ہے مگر سب کے پاس معروضی حالات کو سمجھنے،درست فیصلہ کرنے اور اپنے اصلاح کاوقت موجودہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0