درد بھری راتیں :تحریر : جلال بلوچ

منگل 11 جولائی, 2017

چاند رات کی رونقیں اپنی عروج پر تھی
گل رنگ، راسکو و دیگر ہوٹلوں کے سامنے لوگ کثیر تعداد میں دنیا و عالم کے غموں سے بے خبر اپنی خوش گپیوں میں مگن  تھے ______
بازار میں عید کی تیاریوں میں مصروف لوگ رات دیر تک پھرتے رہے، مٹھائی کی دکھانیں لوگوں سے بھرے پڑے تھے۔ ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی، ہر گھر میں لزیز پکوانوں کی مہک تھی
مختلف پٹاخوں کی آوازوں میں بچوں کی خوشی واضح ہورہی تھے, حسین ہاتھوں پر مہندی کے پرکشش ڈیزائن کشی ہورہی تھی
وہ تاریک رات ایک روشن دن کی مانند چمک رہی تھی چند مسجدوں کی سپیکروں سے کچھ زرخرید ملا قابض کی ترجمانی میں گلا پھاڑ رہے تھے مگر ان بے انتہا خوشیوں، قہقوں، اور روشن گھروں کے بیچ ایسی بھی گھر تھی جہاں صرف ایک ڈمم سی پیلی بلب کچے گھر کے سامنے لٹک رہی تھی جسکی مختصر سی روشنی ایک عجب سی منظر پیش کر رہی تھی
چارپائی پر بیھٹا ایک عمر رسیدہ باپ جسکے ماتھے پر دکھوں کی لاتعداد لکیریں واضح ہورہی تھیں، ایک بیمار ماں جسکی نظریں گھر کی زنگ آلود گیٹ پر ٹکی ہوئی تھیں، جاہ نماز پر  لمبی سی تسبیح کے نگہنوں سے اللہ اللہ کا نام لیکر زکر کرتی تھی دو بہنیوں  جن کے ہاتھ مہندی سے محروم تھی گھر میں  پراسراریت اور ماتم جیسی خاموشی چاہی ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے درد و غم کی ایک وسیع و غریض پہاڑ اس گھر پہ گری تھی۔ ہمسایوں کی شور وغل سے انکے اندر چپا اکیلاپن ابھر کر انکھوں میں آنسو بن کر ٹپکتے
اچانک ایک بہن کی لبوں سے ایک ایسی دردناک سسکی نکلی کہ اسے دیکھ کر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں مگر لب ابھی تک خاموش تھے۔ آخر اس گھر میں ایسا سماء کیوں کر تھا۔ عید کا دن جیسے ہی قریب تر ہوتی جارہی تھی انکے غم میں اضافہ کیونکر ہورہا تھا، کیوں علاقے کی خوشی، رونقیں پٹاخوں کی آوازیں انہیں سلگتی انگاروں کی مانند جلا رہی تھی ؟؟؟؟
 در اصل چار مہینے قبل ایک سرچ آپریشن میں اس گھر کا چراغ اغواء ہوا تھا
اکثر ایسی حالت میں جب کچھ اپنے خوشیوں میں ایسے لوگوں کو بھول جاتے ہیں تو بے حد تکلیف ہوتی۔ وہ ماں یہی سوچ رہی تھی کہ یہ لوگ جو اس قدر مستیوں و خوشیوں میں مگن ہیں کیا یہ دن ان کیلئے کبھی نہیں آہیگا؟ کیا کبھی دشمن کی پلیت نظریں اور قدم ان کے گھروں پر نہیں پڑیں گی؟ کیا حالت جنگ میں اس قدر موج و مستی میں مدہوش ہونا صیح ہے؟ کیا ان مستیوں سے شہیدوں کے گھر والوں اور گمشدہ نوجوانوں کے لواحقین کی دل آزاری نہیں ہوگی ؟
 پچھلے ہی عید ان کا جگر گوشہ انکے ساتھ تھا نیز جو روایتی خوشیاں منائے جارہے تھے ان میں قابض فوج عوام سے چار قدم آگے تھے، اہلکاروں کی مصنوعی  یک جہتی کا ڈھونگ اور دشمن کرنل کیلے چاپلوسی ہر طرف اپنے عروج پر تھے، تو ان حالات میں وہ کس منہ سے خوشیاں مناتے ؟؟؟
ایک پل کیلئے تو سب ناامید ہوگئے تھے، بہنیں اپنے آنسو لیئے، اور ماں باپ اپنے منتظر بھیگی آنکھوں کے ساتھ سونے ہی والے تھے کہ اتنے میں ایک انتہاہی زوردار دھماکے سے پورا علاقہ گھونج اٹھا اسکے ساتھ ہی شدید فائرنگ شروع ہوگئی مختلف بندوقوں کی آوازوں سے زمین کانپ رہی تھی خوف کے آثار ہر دل کی دھڑکن بن کر زور زور سے دھڑک رہے تھے
چاند رات کی رونقیں  مانند پڑ گئیں، روشنیاں بھج گئی، سب لوگ گھروں تک میسور ہوگئے، ہر شخص کو جلد ہی یاد آگیا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ہمسایوں میں اور ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں کہ “ایف سی پر حملہ ہوا ہے”!!!
کچھ دیر کے بعد جب مکمل سناٹے میں پورا شہر ڈوبا ہوا تھا۔ اتنے میں گھر کی موبائل میں میسج کی گھنٹی بجی تو بوڑھے باپ نے عینک لگا کر میسج اوپن کیا تو لوکل نیوز والوں کا میسج تھا
“بریکنگ نیوز: خاران ایف سی کی گاڑی کے قریب دھماکا،گاڑی تباہ, متعدد اہلکار جاں بحق”
باپ نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ موبائل رکھ کر سر تکیئے پر رکھا اور بیوی سے فخریہ انداز میں مخاطب ہوا
“نہ ہم اکیلے تھے اور نہ ہی کبھی اکیلے ہونگے، اب اگر میرے بیٹے  کی لاش بھی اس گھر میں آجائے تو بھی مجھے دکھ نہیں ہوگا کیونکہ اسکے خون کے ہر بوند کا بدلا وطن کے یہ حقیقی فرزند دشمن کے چیتڑے اڑھا کر لینگے “
یہ سن کر سب گھر والے سکون کے ساتھ سوگئے
 صبح جب اٹھے تو عید سادگی کے ساتھ منائی جارہی تھی، جو ملا رات کو راشن کے لالچ میں پاکستان کے حق میں چلا رہا تھا اسے بھی ہوش آچکا تھا اور اب وہ بلوچ فرزندوں کی رہائی کی دعائیں مانگ رہا تھا ________!!!!!
ابھی تو ہم نے شروع کہاں کی ہے
قربانی کا اصل جلوہ ابھی باقی ہے
گن گن کے جو درد دیئے تم نے
ہر درد کا حساب ابھی باقی ہے
ہزاروں جان قربان عشق پر
ہم پہ آزادی کا عشق ابھی طاری ہے
جس جنگ کا مداوہ کوئی نہیں
وہ جنگ ابھی جاری ہے
image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0