دستار,تحریر:سیم زہری

اتوار 13 اگست, 2017

اطلاع ہے کہ… سردار محمد علی خان جتک کے بعد سردار اسد خان جتک کے بڑے فرزند سردار شکر خان جتک کو بانزوئی سمیت جتک قبیلے کے وڈیروں نے چیف آف جتک منتخب کردیا.
چند دن پہلے نواب ثناءاللہ خان نے سردار محمد علی خان کی دستار بندی کی تھی مگر اس دستار بندی میں بانزوزئی قبیلہ کے کسی فرد نے حصہ نہیں لیا. اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ بانزوزئی قبیلہ نے اس بات کو واضح کر دیا تھا کہ بڑے بیٹے ہونے کے ناطے سرداری میر شکر خان کو ملنی چاہئے.

مخمصے کی کوئی بات نہیں، کیونکہ یہ سرداروں، حاکموں بادشاہوں کا وطیرہ ہے کہ وہ بہت لالچی ہوتے ہیں. کچھ بھی پسند کر لیتے ہیں، پھر اسے اپنا کے دم لیتے ہیں. کسی کو دیوار میں چننا ہو یا ملک بدر کرنا ہو. کسی لیت و لعل سے کام لیے بغیر کام تمام کرتے ہیں. ان کے لیے اقتدار ہی اصل سرمایہ ہے تبھی تو یہ لوگ اقتدار حاصل کرنے کے لیے اپنے باپ بھائی کا قتل بھی کر گزرتے ہیں. مغل بادشاہوں کی تاریخ دیکھیں، عربوں کی تاریخ دیکھیں بلوچستان میں خان قلات کی تاریخ دیکھیں.دور نہ جائیں خود زرکزئی کی تاریخ دیکھیں تو اس کے پس منظر اپنے ہی بھائی کے خون سے لت پت ملے گی. سردار ثناءاللہ نے اپنے بھائی رسول بخش کو قتل کرکے سرداری کا تاج اپنے سر رکھا. پھر رسول بخش کا بیٹا عنایت نے کچھ زہریوں کو اپنے زیر عتاب رکھنے کے لیے دستار حاصل کیا. اس سے پہلے خود رسول بخش نے یوسف کا کام تمام کیا. ابھی چند دن پہلے میر علی نواز کے دو بیٹے آپس میں لڑ پڑے ایک نے دوسرے کو آٹھ گولیاں سینے میں داغ دیں. یہ سب اسی اقتدار، ہوس، لالچ دوسرے کا مال ہڑپنا (جو کہ وراثت میں ملی ہے) کا نتیجہ ہے.

میں نے اس سے پہلے بھی بلوچستان میں قبائلی سسٹم کے متعلق کچھ عرض کیا تھا کہ بلوچ سوسائٹی میں ہر قبیلہ اپنے اندر سے ایک لائق فائق شخص کا انتخاب کرتا تھا جس کی سب اہم صلاحیتوں میں اس کی غیرت مند اور بہادر ہونا اولین شرائط تھے. پھر اگر آگے جاکر یہی سردار اپنی صلاحیتوں سے بیگانہ ہوتا تو اسے یہی قبیلہ ایک بار پھر بیٹھ کر فیصلہ کرتا اور صاحب کو اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑتا.

اس کے بعد انگریزی دور آیا تو حاکم وقت کے اثرات ہماری سوسائٹی سمیت ہمارے قبائلی سیٹ اپ پر بھی پڑے سب سے پہلے لارڈ سنڈیمن نے تمام سرداروں کو اس بات پر باور کرایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی غریب کا بیٹا آ کر سرداری کے منصب پر بیٹھ جائے لہٰذا سردار کا بیٹا ہی سردار بنے گا. یہیں سے یہ روایت چل پڑی سرداریت موروثیت میں بدل گئی. ابھی سردار کا بیٹا ہی سردار بنے گا چاہے وہ کتنا ہی نالائق و بزدل کیوں نہ ہو.

اب دور بدل گیا انگریزی حاکمیت اس کے کالے غلام پنجابی کے حوالے ہوئی. پنجابی دور نے ہمارے قبائلی نظام کو مزید بگاڑ دیا. اب ہر قبیلے کے دو یا دو سے زائد سردار ہیں. جیسے سردار عطا اللہ مینگل، سردار اختر مینگل، سردار اسد مینگل، دو عدد نواب شاہوانی، سردار (نواب) ثنا اللہ زہری، سردار عنایت زہری، سردار اسد خان جتک، سردار شیر محمد جتک. اب سردار علی محمد جتک، سردار شکر خان جتک وغیرہ. یہ سب پاکستان کا کرم ہے کہ ایک ہی گھر میں دو دو تین تین سردار ہیں اور کچھ ڈبل ٹائٹل لیے بھی پھرتے ہیں. مستقبل قریب میں اس قسم کے مزید واردات ہونے والے ہیں لہٰذا اپنے ذہن تیار رکھیں.

آئیے زرا غور کرتے ہیں کہ ان سب کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں؟ کیا یہ عوام کی خدمت سے اتنے سرشار ہیں کہ اپنے نام کے ساتھ ڈبل ڈبل ٹائٹل لگاتے ہیں تاکہ لوگوں کو بروقت سہولت فراہم ہو یا کوئی قوت ہے جو انہیں ایسے کرنے پر آمادہ کرتی ہے تاکہ بلوچ قوم کو مزید تقسیم کر کے اس کی طاقت کو ختم کم سے کم کیا جا سکے. جہاں تک مشاہدے کی بات ہے تو پنجابی اسٹبلشمنٹ کو تین سرداروں کے علاوہ باقی ستر سرداروں (بقول ان کے) سے کوئی پریشانی ہی نہیں. اب اگر یہی ستر سردار دوگنا ہو کر ایک سو چالیس بن جائیں بھی فائدہ اُسی کا ہے. مقصد لوگوں کو مزید گھسیٹ کر اس کے سامنے پیش کرنا ہے تو یہ کام سردار آسانی سے اور خوش اسلوبی سے کر رہے ہیں. یعنی اس تقسیم میں پنجابی کا براہ راست ہاتھ شامل ہے تاکہ اگر کوئی ایک جال سے نکل کر بچ جائے تو دوسرے میں پھنس جائے. جدھر جائے گھوم پھر کے واپس اس کے پاس آئے. دوسری اہم وجہ یہ کہ اگر دو سردار آپس میں لڑ پڑتے ہیں تو بھی فائدہ پنجابی کو ملتا ہے کہ بلوچ آپس میں لڑ رہے ہیں، مر رہے ہیں. ان کو مارنا اصل میں پنجابی فوج کی زمہ داری تھی لیکن اب یہ کام ہم خود کریں گے. مطلب دونوں طرف سے نقصان بلوچ کا. اس کے ساتھ ساتھ قبائلی جنگوں کو ہوا دینے کے پیچھے بھی یہی عوامل کارفرما ہیں. انہی قبائلی لڑاکاؤں کو دو مختلف ہاتھوں سے سپورٹ کرکے ایک دوسرے سے لڑاتا ہے جب یہ کچھ عرصہ بعد تھوڑا بہت ٹرینڈ ہو جاتے ہیں تو ان دونوں گروہوں کو بلوچ جہد کاروں کے آگے کھڑا کر دیتا ہے. اس کی تازہ مثال آپ کو دے سکتا ہوں جمالزئی قبیلہ کو آپس میں لڑانے کے بعد اب یہی لوگ بلوچ سرمچاروں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں.
دشت گوران سناڑی مینگل تنازع کافی سال چلنے کے بعد اب حبیب اللہ سناڑی اور قمبر خان مینگل مشترکہ بلوچ جہد کاروں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں. مرداشئی قبیلے کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے. غرض جتنے بھی قبائلی جھگڑے، مسئلے ہیں وہ تمام آئی ایس آئی کی پیدا کردہ ہیں اور ایک منصوبے کے تحت ان کی پرورش کی جا رہی ہے.
خدا نہ کرے کل کو آپ بھی اسی صف میں کھڑے ہو جائیں. اس لیے زہری کے تمام قبائل خصوصاً نوجوانوں سے گزارش ہے کہ سرکار اور سردار کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہو جائیں اور بھول کر بھی آپسی تکراروں کو ہوا نہ دیں. اس کا انجام بھیانک ہے.

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0