دشت میں جاری آپریشن کی مذمت کرتے ہیں، بی ایس او آزاد

اتوار 23 اگست, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بی ایس او آزاد کے مرکزی ترجمان نے دشت کے مختلف علاقوں میں پچھلے تین دنوں سے جاری فوجی کاروائیوں اور ان کے نتیجے میں عام لوگوں کی بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دشت کڈان، مکسر، جان محمد بازار اور مختلف علاقوں میں پچھلے تین دنوں سے جاری کاروائیوں میں فورسز نے شکیل بلوچ کو شہید ، آدم ولد بہرام نامی نوجوان کو گرفتاری کے بعد گولیاں مار کر شدید زخمی حالت میں چھوڑ دیاجبکہ متعدد بلوچ فرزند زخمی و کئی اغواء کے بعد لاپتہ کیے جا چکے ہیں۔ حسبِ روایت فورسز نے لوٹ مار کے بعد کئی گھروں کو جلا دیا ہے، گھروں کو جلانے اور نہتے لوگوں پر بمباری کا سلسلہ آج تیسرے روز بھی شدت سے جاری رہا۔انہوں نے کہا کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے نام پر بننے والی سڑکوں، ریلوے لائن، اور چائنا کی فوجی منصوبوں کو بلوچستان میں پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ریاستی فورسز و نام نہاد پارلیمانی پارٹیاں بلوچ قوم کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی اور دیگر پاکستانی پارلیمانی جماعتیں اس طرح کی خونی کاروائیوں میں فوج کی رہنمائی کررہی ہیں۔ تاکہ بلوچ قوم کے آزادی کی آواز کو بزور طاقت دبا کر چائنا و دیگر توسیع پسندانہ ممالک کی کمپنیوں کے ہاتھوں بلوچستان کے وسائل کو سستے داموں بیچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام نے کبھی بھی غلامی کو تسلیم نہیں کیا ہے، بلکہ ہمیشہ مذاحمت و قربانیوں سے آزادی کی تحریک کو برقرار رکھا ہے۔ نام نہاد سرداروں، نوابوں اور بلوچ عوام کا استحصال کرنے والی پارٹیوں کو بلوچستان کی آزادی کی صورت میں اپنی موت واضح طور پر نظر آرہی ہے اس لئے وہ بلوچ نسل کشی میں ریاستی فورسز کی ہر ممکن مدد کرکے تحریک آزادی کو کمزور کرکے ختم کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ ریاستی زمینی و فضائی فورسز طاقت کے بھر پور استعمال کے ساتھ ساتھ پیشہ ور قاتلوں، منشیات فروشوں اور سماجی برائیوں میں ملوث گروہوں کے ذریعے سیاسی کارکنان و بلوچ عوام کو نشانہ بنا کر شہید کروا رہی ہیں تاکہ بلوچ عوام کی قوت کو تقسیم کیا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ ریاستی میڈیابلوچ نسل کشی کی کاروائیوں ، فورسز و اس کے پراکسیوں کی جرائم کو چھپانے کے لئے دروغ گوئی کا سہارا لے رہی ہے تاکہ بلوچ مسئلے کو متنازعہ اور پاکستان کا اندرونی مسئلہ ثابت کیا جا سکے۔ حالانکہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بلوچ تحریک کے خلاف چائنا و ایران براہ راست پاکستان کی مختلف طریقوں سے مدد کررہے ہیں۔ اگر اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور جنگی جرائم پر نظر رکھنے والی عالمی اداروں نے بلوچستان جیسے سنجیدہ مسئلے کو پاکستان کی اندرونی مسئلہ قرار دے کر اس سے چشم پوشی اختیار کرنے کی کوشش کی۔ تو بلوچ قوم کی نسل کشی کو نظر انداز کرنے کا یہ عمل ایک تاریخی غلطی کے مترادف ہو گا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0