دیر آئد درست آئد.تحریر:نود بندگ بلوچ

ہفتہ 1 نومبر, 2014

یو بی اے کی صورت میں بلوچ مسلح محاذ پر جس مسئلے نے سر اٹھایا تھا وہ بالآخر اپنے فطری اور اصولی راستے پر گامزن ہوگیا ہے ، گذشتہ دن بی ایل اے کے سرمچاروں نے یو بی اے کے ایک کیمپ کو ڈسپلن اور احتساب کے دائرے میں لانے کیلئے پیشقدمی کی جس کی وجہ سے اکثریت کیمپ چھوڑ کر فرار ہوگئے لیکن کچھ بغیر مزاحمت کے گرفتار ہوئے ۔ اس عمل کو مختلف طبقہ فکر کے لوگ اپنے سوچ اور مفادات کے مطابق مختلف تشریح کررہے ہیں جن میں سے اکثر مکمل طور پر سطحی اور اپنے تاریخی تسلسل سے کٹے ہوئے ہیں اور کچھ ہر موقع کی طرح اس موقع سے بھی اپنے گروہی و ذاتی مفادات کی تکمیل چاہتے ہیں ۔ قوم سے جھوٹ بولنے اور حقائق مسخ کرکے پیش کرنے کا طریقہ ہمارے سیاسی کلچر کا اب جز لاینفک بن چکا ہے ، جس کو توڑنا بے حد ضروری ہے اور اسکا توڑ صرف سچ بولنے اور درست حقائق بلوچ عوام کے سامنے رکھنے سے ہی ہوسکتا ہے ۔ میں اس عمل کو نا چڑھائ کہوں گا نا برادر کشی اور نا ہی خانہ جنگی یہ عمل صرف کچھ بے مہار لوگوں کو ڈسپلن کے اندر لانا ہے اور اس ڈسپلن کے اندر ان کا احتساب کرنا ہے ۔ جو لوگ اسے خانہ جنگی یا برادر کشی سے تعبیر کررہے ہیں ان کا مقصد صرف حقائق کو مسخ کرکے اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنا ہے ۔
یو بی اے کو خانہ اور برادر کے دائرے میں لانے سے پہلے یہ جانچا جائے کہ یو بی اے آخر ہے کیا پھر میرے خیال میں مسئلے کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے ۔ بی ایل اے کے دائرے کے اندر کچھ لوگ سخت ڈسپلن پر پورا نہیں اتر رہے تھے ، ان کو مختلف اوقات میں مختلف مسائل کے اوپر احتساب کے عمل سے گذارا گیا تھا اور کچھ کو گذرنا تھا لیکن روائتی اور قبائلی سوچ کے مالک یہ اشخاص اس احتساب کو اپنی بے عزتی سمجھتے تھے اس لیئے بالآخر وہ مھران مری کی قیادت میں الگ ہوگئے اور ان کے دسترس میں جتنا مال و مڈی تھا اس پر قبضہ کر بیٹھے ۔ ظاھر ہے ایک انقلابی مسلح تنظیم ایسے کسی بھی عمل کو برداشت نہیں کرسکتا کہ کوئ بھی اٹھ کر اپنے ہاتھ میں دیئے بندوق پر قبضہ کرکے دوچار کو ساتھ ملا کر ایک الگ گروہ بنائے ۔ اگر اس طرح کے مسئلے کو نظر انداز کیا جائے تو پھر کل کو بی ایل اے کا ہر کمانڈر کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر الگ تنظیم بنانا شروع کردے گا ۔ اصولی طریقہ یہ تھا کہ اسی وقت ان منحرف لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جاتا اور انہیں واپس تنظیم کے دائرہ اختیار میں لاکر ان کا احتساب کیا جاتا لیکن ایسا فوری قدم بلوچ عوام میں بے چینی کا باعث بنتا اس لیئے بی ایل اے کے ذمہ داروں نے یہ فیصلہ کیا کہ طاقت کے بجائے اس مسئلے کو گفت و شنید سے حل کیا جائے ، پہلے یو بی اے کے نام سے پہچانے جانے والے ان منحرف لوگوں سے بات کی گئ پھر تمام سرکردہ لیڈروں سے بات چیت ہوئ لیکن کوئ حل نہیں نکلا یا پھر سب کی کوشش یہی تھی کہ کوئ حل نہیں نکلے ، اس دوران حقائق بھی عوام کے سامنے رکھے گئے ۔ کوشش یہی تھی کہ یہ مسئلہ پر امن طریقے سے حل ہو مھران مری نے چند ہفتے پہلے خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ سنگت حیربیار نے ان کیلئے پیغام بھیجا ہے کہ آپ واپس تنظیم کے دائرہ اختیار میں آکر کام کریں ۔ اس سے ظاھر ہوتا ہے کہ بی ایل اے کے دوست تصادم نہیں چاہتے تھے حالانکہ اصولی طور پر انقلابی تحریکوں میں اس طرز کے مسائل کو بزورِ قوت حل کیا جاتا ہے تاکہ آئیندہ ایسے مسائل درپیش نا ہوں لیکن بقولِ ایک سنگت ” ہمارے قوم کا ہاضمہ خراب ہے وہ ایسے کسی انقلابی قدم کو فی الحال ہضم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ” اسے لیئے ممکنہ تمام پر امن راستے اپنائے گئے اور امید یہی تھا کہ اس مسئلہ کا ایک پر امن حل نکل جائے گا اور بالآخر یہ منحرف لوگ تنظیمی ڈسپلن کے آگے خود کو پیش کردیں گے لیکن اس مسئلے نے اس وقت سنگین صورتحال اختیار کردی جب یو بی اے نے بی ایل اے کے دوستوں کے خلاف چھاپہ مار کاروائیاں شروع کردی اور راستوں میں بارودی سرنگ بچھانے لگے جس سے بی ایل اے کا ایک ذمہ دار دوست شدید زخمی ہوگیا اور اس پر بھی مستزادیہ یہ کہ بلوچ سیاست کے باقی تمام اجزاء جنہیں ثالثی کا کہا گیا تھا وہ بی ایل اے پر ہونے والے ان حملوں کے بارے میں بالکل خاموش ہوگئے اور اپنی جانبداری ظاھر کردی اور اس پر بھی طرہ یہ کہ منحرف کمانڈروں میں سے ایک مراد ناڑی نے وہی قبضہ کیا ہوا مڈی سستے دام ھزار خان رامکانی کو بیچنا شروع کردیا ، یعنی حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ نا کسی لیڈر و تنظیم نے اخباری بیانات سے باہر ثالثانہ کردار ادا کیا اور نا ہی یو بی اے پر امن طریقے سے واپس ڈسپلن میں آیا بلکہ الٹا دوستوں کے خلاف حملے شروع کردیئے ، اس لیئے بالآخر بی ایل اے نے وہ قدم اٹھایا جو اسے پہلے دن ہی اٹھانا چاہئے تھا یعنی یو بی اے کے کیمپوں کی جانب پیش قدمی کرکے انہیں واپس خود ڈسپلن میں لانا اور پھر احتساب کے عمل سے گذارنا ، اس پیشقدمی کو میں جنگ ہی نہیں کہونگا کیونکہ کسی شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی تنظیم میں رہے یا نارہے لیکن اسے یہ اختیار دنیا کا کوئ بھی قانون نہیں دیتا کہ وہ کسی تنظیم سے نکلتے وقت ہاتھ لگے تمام مال و اسباب پر قبضہ کرلے اب بی ایل اے انہیں واپس کنٹرول میں لارہا ہے اگر کوئ خود واپس آکر حساب و کتاب اور جزا و سزا کیلئے پیش ہوتا ہے تو بہتر لیکن اگر کوئ تنظیم کے سامنے رکاوٹ بن کر لڑنا شروع کردے تو پھر یہ چوری کے بجائے ڈکیتی ہوجاتا ہے پھر ظاھر ہے بی ایل اے کے پاس یہ اخلاقی جواز آجاتا ہےکہ وہ طاقت کا استعمال کرے ۔
اب جو شخص بھی اس سارے معاملے کو غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھ رہا ہے اس کے ذہن میں دو جائز سوال اٹھتے ہیں پہلی یہ کہ کیا اسکے سوا کوئ اور راستہ نہیں تھا ؟ اور دوسری یہ کہ کیا مڈی کی خاطر ایک بلوچ سے لڑنا جائز ہے ؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے میرے ناقص رائے میں اس کے سوا اور بہت سے راستے نکل سکتے تھے مثلاً اگر یو بی اے کے نام سے پہچانے جانے والے منحرف کمانڈروں کو کوئ مسئلہ تھا اور وہ اس مسئلے میں بی ایل اے کے ذمہ داروں کو منصف بنانا نہیں چاہتے تھے تو وہ آکر بیٹھتے اور کسی بھی قابل قبول بلوچ لیڈر یا دانشور کو ثالث و منصف بناتے یہ سارے مسئلے وہاں بیان ہوتے پھر جو بھی فیصلہ ہوتا اسے سب قبول کرتے ، اس کی پیشکش بی ایل اے کے دوستوں نے کی لیکن مھران مری نے یہ پیشکش ٹھکرادی اور ثالث جن لوگوں کا نام دیا گیا یعنی اللہ نظر اور استاد واحد قمبر انہوں نے بھی کوئ معنی خیز کردار ادا نہیں کیا یا ان چار سالوں میں یو بی اے قوم کے سامنے اپنے قیام کا جواز پیش کرتا اور اسے ثابت کرتا بھی یہ مسئلہ حل ہوسکتا تھا لیکن یو بی اے آج تک اپنے قیام کا کوئ بھی جائز جواز پیش نہیں کرسکا ثابت کرنا دور کی بات ہے ہاں ڈاکٹر اللہ نظر کے پیروکار ان کے حق میں لمبی چوڑی تقریریں کرتے رہتے تھے لیکن از خود یو بی اے کی طرف سے ایسا کوئ بھی جواز سامنے نہیں آیا اسکے علاوہ اگر کوئ بھی بلوچ سرکردہ لیڈر سنجیدگی سے بیچ میں آجاتا اور صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی جرات کرتا تو پھر بھی یہ مسئلہ حل ہوسکتا تھا لیکن یہاں سب نے مصلحت پسندی کی چادر اوڑھ لی کیونکہ سب جانتے تھے کہ مھران غلط ہے اور سب ذاتی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے غلط کہنا نہیں چاہتے تھے اس لیئے ثالثی سے کتراتے رہے مطلب جتنے بھی راستے عملی طور پر ممکن تھے بی ایل اے نے وہ تمام اختیار کیئے لیکن حل نکلنا کجا ان پر حملے شروع ہوگئے اور جہاں تک دوسرا سوال ہے تو ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ بات صرف مڈی کی نہیں ہے بات یہ ہے کہ آپ تحریک کو کس طرح منتشر ہونے سے بچائیں گے ۔ فرض کریں اس وقت بشیر زیب بلوچ ایک کمانڈر ہے یقیناً اس کے پاس وافر مقدار میں مڈی ہوگا اور کئ سرمچار بھی اس کے زیر اثر ہونگے کل کو وہ کسی بھی بات پر بلا جواز ناراض ہوکر اس مڈی پر قبضہ کرلے اور چار دوست اپنے ساتھ ملا کر ایک نئے تنظیم کا اعلان کردے پھر کیا ہوگا ؟ اسی طرح یہی سلسلہ ہر کیمپ میں چلنا شروع کردے کیا ہوگا ؟ ظاھر ہے پھر یا تو پورے تحریک کا شیرازہ بکھر جائیگا یا تو پھر ہر کمانڈر کو آپ کو مجبوراً کھلی چھوٹ دینی پڑے گی پھر وہ اپنے علاقوں میں لوٹ مچائیں یا ڈاکے ڈالیں آپ بس خاموش تماشائ بنیں اور تحریک کا حال بقول ایک دوست کے افغانستان کے کنڈکوں کی طرح ہوجائے گا یعنی ہر علاقے کا اپنا وار لارڈ ہوگا اور وہ روڈوں پر چین لگا کر اپنا ٹیکس وصول کررہا ہوگا ۔
دیکھنے میں آرہا ہے کہ بہت سارے لوگ اس مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں اور اس عمل کو یوم سیاہ سے تعبیر کررہے ہیں حتیٰ کے فیس بک پر کچھ نے اپنے پروفائل سیاہ کیئے ہوئے ہیں ۔ یقیناً یہ سب ڈاکٹر اللہ نظر اور براہمداغ بگٹی کے پیروکار ہیں یوم سیاہ منانے کا انکا بنیادی دلیل یہ ہے کہ بی ایل اے نے اپنے بھائیوں پر حملہ کیا ہے اس لیئے یہ دن یوم سیاہ ہے اور پھر ساتھ میں اپنے دل کی پرانی بھڑاس گرما گرم گالیوں سے بھی نکال رہے ہیں انکے اپنے ہی دلیل کے تناظر میں اگر دیکھیں کہ اگر اپنے بھائ پر حملہ کرنا ایک سیاہ کارنامہ ہے اور اس دن یومِ سیاہ منانا چاہئے تو پھر انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ یہ یوم سیاہ اس دن منانا چاہئے تھا جب یو بی اے کے منحرف لوگوں نے بی ایل اے کے دوستوں کے راستے میں بارودی سرنگ بچھا کر انہیں زخمی کردیا تھا ، اگر یہ جنگ ہے تو پھر اس جنگ کا آغاز یو بی اے نے کیا تھا پھر آپ ان کو گالی کیوں نہیں دے رہے یا پھر آپ نے اس دن یوم سیاہ کیوں نہیں منایا ؟ صرف اسی ایک دلیل پر غور کریں تو انکی نیت آپ کو بہترین طریقے سے سمجھ آسکتی ہے ، میرے خیال میں اگر پھر بھی آپ کو یوم سیاہ منانا ہے تو پھر اپنے خلاف یومِ سیاہ منائیں کیونکہ آج بی ایل اے جو کررہا ہے وہ بامر مجبوری کسی بھی مسلح تنظیم کو کرنا پڑتا ہے یہاں اگر کوئ ناکام ہے یا ذمہ دار ہے تو وہ ڈاکٹر اللہ نظر اور براہمداغ بگٹی ہیں کہ انہوں نے صرف اپنے ذاتی تعلقات اور مفادات کو دیکھ کر اس مسئلے کو حل نہیں کیا حالانکہ بی ایل اے نے ان سب کو قابلِ قبول ثالث قرار دیا تھا ۔ پھر بھی آپ ایک بار ان گالیوں اور یوم سیاہ کو بی ایل اے کے نظر سے ایک بار دیکھیں تو آپ پر کوئ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اگر بی ایل اے کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ تاثر جارہا ہے کہ ” جب ہم پر حملہ ہوا تو ان میں سے کسی نے کچھ نہیں بولا اور آج جب ہم نے جواب میں پیشقدمی کی تو سب رو رہے ہیں اسکا مطلب یہ قوم سے محبت نہیں صرف منافقت ہے جو خود کو غیر جانبدار اور ثالث ظاھر کرکے یو بی اے کے سیاہ کاریوں کا دفاع کررہے ہیں”
اگر بغور مشاھدہ کیا جائے تو ثابت ہوتی ہے کہ اللہ نظر و برامداغ کے پیروکاروں کو نا یو بی اے سے خاص محبت ہے (مڈی کے علاوہ) اور نا ہی وہ اس ممکنہ جنگ سے پریشان ہیں ، اگر انہیں پریشانی ہوتی تو وہ ثالثی کا کردار ضرور ادا کرتے آج یہاں واویلا کرنے اور سر پر مٹی ڈالنے کا مقصد صرف ایک ہے کہ اس مسئلے کو زیادہ سے زیادہ اچھالہ جائے اور بی ایل اے کو ” بیڈ بوائے ” ظاھر کرکے اپنے ان تمام منفی و سیاہ اعمال پر پردہ ڈالا جائے جنہیں گذشتہ دو سالوں کے دوران قوم کے سامنے پیش کیا گیا تھا یعنی ان کے تمام سیاہ کرتوتوں کو بی ایل اے کے ہمخیال دوستوں نے قوم کے سامنے آشکار کیا تھا جس کی وجہ سے وہ اندر ایک بحران کا شکار ہیں اور عوامی حمایت کھوچکے ہیں ، اب اگر اس مسئلے کو مسخ کرکے قوم کے سامنے پیش کیا جائے اور ایک بیوہ عورت کی طرح سر پر مٹی ڈال کر بی ایل اے کو غلط ثابت کیا جائے تو بی ایل اے کے غلط ثابت ہونے سے انکی وہ ساری باتیں اور حقائق بھی غلط ثابت ہونگے جو وہ اتنے وقت سے قوم کے سامنے پیش کررہے ہیں اور ساتھ میں اگر بی ایل اے اور اسکے ہمخیال متنازعہ ہوگئے تو پھر آئیندہ انکے سیاہ کارناموں پر کوئ انگلی ہی نہیں اٹھائے گا ۔ یہ شاہکار منصوبہ میرے محترم لیڈر ڈاکٹر اللہ نظر کا ہے جنہوں نے اسکا آغاز آج سے دو ہفتے پہلے اس وقت کردیا تھا جب انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں تو ثالثی کی بہت کوشش کررہا ہوں بس یہ کم بخت مان ہی نہیں رہے ہیں اسلیئے جو پہل کرے گا وہ گنہگار ہوگا حالانکہ اللہ نظر خود جانتے تھے اور مانتے بھی تھے کہ بی ایل اے کے دوستوں کے راستے میں بارودی سرنگ یو بی اے نے بچھایا ہے لیکن اس وقت انہوں نے نا اسکی مذمت کی اور نا ہی اسے حملہ گردانا انکو پتہ تھا کہ اس حملے کے بعد بی ایل اے ضرور پیش قدمی کرے گا اسلیئے پہلے سے یہ بیان داغ دیا تاکہ کل کو اگر بی ایل اے پیشقدمی کرے تو ہم موقع کا فائدہ اٹھا کر سارا ملبہ انکے سر پر ڈال دیں اور کہیں کہ دیکھیں ہم نے کہا تھا جو بھی پہلے حملہ کرے گا وہ ذمہ دار ہے اسلیئے بی ایل اے ” بیڈ بوائے ” بن گیا ۔ اس شارٹ کٹ طریقے سے وہ بھی فوری گنگا نہا کر اپنے سارے گناہ دھو کر ” پوتِر ” ہوجائیں گے ۔ ذرا یہ سوچیں کہ بی ایل اے کے دوست تقریباً ایک مہینے سے یو بی اے کے کیمپ کے قریب تھے اس دوران علاقائ معتبرین تو مسئلہ حل کرنے آئے لیکن ویژنری لیڈر و قائد انقلاب صرف اخباری بیانوں پر گذارا کرتے رہے اور اب جب پیشقدمی ہوچکی تو مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں ۔ ویسے ان سب واویلوں سے باہر آپ غور کریں کہ یو بی اے خود کیا ہے ، اس کا وجود کس چیز پر قائم ہے اور اسکے کارنامے کیا ہیں تو پھر کم از کم کوئ بھی ذی شعور شخص یہ نہیں کہے گا کہ ان کو بزورِ قوت ایک قائدے میں لانا غلط عمل ہے۔
میری ایک گذارش ہے کہ ان مسائل کو ان کے تسلسل سے کاٹ کر صرف سطحی طور پر نہیں جانچیں اور نا ہی کوئ فوری رائے قائم کریں ، بلکہ اس عمل کو تاریخی تسلسل ، انقلابی تقاضوں اور اصولوں کے لڑی میں پرو کر باریک بینی سے جائزہ لیں پھر آپ کو یہ عمل برادر کشی و خانہ جنگی نہیں لگے گی بلکہ یہ آپ کو جوھڑ میں کھلا کنول کا پھول نظر آئیگا ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0