روایات کے منجدھار میں پھنسی سیاست اور گائی فاکس :تحریر ۔ نود بندگ بلوچ

پیر 17 نومبر, 2014

13 نومبر کو یوم شہداء کے حیثیت سے منانے پر بلوچ سیاست میں متحرک تمام سیاسی جماعتوں کو اعتراض تھا ، اور اس اعتراض کے پیچھے نا لمبی دلیلیں تھیں اور نا ہی منطق بلکہ بغور دیکھا جائے تو وجہ صرف گروہی مفادات کو زک پہنچنے سے بچانا تھا یعنی ان سیاسی جماعتوں نے کہنے کو تو لمبی لمبی نظریاتی منشور تشکیل دیئے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں سب کھوکھلے بنیادوں پر کھڑے ہیں اس لیئے کھڑے رہنے کیلئے شہیدوں کے لاٹھی کا سہارا چاہئے ، بی آر پی کے ہاتھ سے شہید اکبر خان کی لاٹھی لے لیں تو وہ اپنے کمر پر لدھے مفادات کے بوجھ کو ایک لمحہ بھی برداشت کیئے بغیر دھڑام سے گرجائے گا ، بی ایس او آزاد نے تو ایک جملہ گھڑا ہوا ہے کہ شہیدوں کی تنظیم جیسے شہیدوں نے قربانی تنظیم کیلئے دی تھی اور اسی جملے کے سہارے چل رہا ہے اور باقی سیاست عمل نہیں ردعمل ہے ریاست نے آپریشن کردیا احتجاج ، فلانہ شہید جو بڑا نام رکھتا ہے یا بی ایس او سے تعلق دار تھا اس کے برسی پر پروگرام ، مغوی بلوچوں کیلئے پروگرام و احتجاج اس ردعملی سیاست میں اسکو اگر کہیں کہ شہیدوں کا سہارا لینا چھوڑ دیں کوئ عملی کام کریں ، قوم کو کوئ لانگ ٹرم پروگرام دیں تو سہارے کے بغیر یہ مفلوج پیر وہیں لڑ کھڑانا شروع کردیں گے کیونکہ یہ نہیں کریں گے تو کیا کریں گے ؟ ، بی این ایم شہید غلام محمد کی زندگی تک پتہ نہیں کیا حاصل کرپایا یا نہ کرپایا لیکن اب تو ایسے لگتا ہے کہ انکا مقصد صرف یہی ہے کہ بس غلام محمد کو کسی طرح ” پیٹنٹ ” کیا جائے بھلے زندگی میں اسے سکون سے سانس لینے نہیں دیتے تھے ۔ یعنی ہماری سیاست ایک چورنگی کے گرد گول گول گھوم رہی ہے اور لوگوں کی اکثریت بھی چلتے گاڈی پر ہی رستہ کٹنے کا گمان کرکے باہر جھانک بھی نہیں رہے ، ایک بار جھانک لیں تو پتہ چلے کہ کب سے ایک ہی جگہ گول چکر ہی لگ رہے ہیں اور اس دوران جلتا ہوا ایندھن اور وقت صرف بربادی کے ضمرے میں ہی آئے گا ، اب ان تنظیموں نے شہیدوں کو وہی چورنگی بنادیا ہے جن کے گرد انہیں گھومنا ہے ، سچ پوچھیں تو کڑوی حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو پتہ بھی نہیں ہے کہ کس راستے پر چلنا ہے یہ چلنا چاہئے اگر پتہ ہے تو وہ یہ صلاحیت کھوچکیں ہیں کہ اس رستے پر چلیں جیسے مافیا فلموں میں ایک سادہ شخص انڈر ورلڈ کے چمک سے متاثر ہوکر آجاتا ہے پھر بعد میں سب کچھ جاننے کے باوجود وہ اس زندگی سے نہیں نکل پاتا یہاں بھی یہی صورتحال لگتا ہے یار لوگوں میں سے اکثر بھی یہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ راستہ نہیں لیکن غلیظ سیاست کے بھنور میں وہ ایسے پھنسے لگتے ہیں کہ گروہی مفادات کا ولن گرجدار آوار میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ ” یہاں ہر کوئ آتا تو اپنی مرضی سے ہے لیکن جاتا ہماری مرضی سے ” تلخیص سے بیان ہو تو 13 نومبر کو شہیدوں کا ایک دن تسلیم نا کرنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ یہ بناوٹی سیاست چلتی رہے ، ہر کوئ اپنا کوئ موتبر شہید اونچا کرکے اس کے کندھوں پر بیٹھے ایک تو لوگوں کا جذباتی لگن کیش ہوگا دوسرا کرنے کو کچھ ہوگا ، بی ایس او کے ایک دوست سے ایک بار بات ہوا تو کہہ رہا تھا کہ اگر یہ شہید ہونے سے نہیں ڈرے تو ہم روز انکا دن منانے سے کیوں ڈرتے ہیں، میں نے دوست سے اتنا کہا کہ شوق سے روز شہیدوں کا دن مناو لیکن پھر یہ بھی سوچ لو کہ کیا تمہارا کام پھر صرف شہیدوں کے دن منانا ہے یا یہ جو شہید ہوئے وہ شہیدوں کا دن مناتے ہوئے شہید ہوئے ، یعنی سیاست کا تصور یہی ہے ہماری نظر میں ، چند ماہ پہلے بی این ایم کا ایک سابق سربراہ قاضی داد ریحان کا ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا جس میں ایک واقعہ بیان کرنے کے بعد وہ شہید غلام محمد کا ایک جملہ بیان کررہا تھا کہ ” سیاست میں اگر ہم حمایت اور اختلاف نہیں رکھیں گے تو اور کیا کریں گے ” ، مجھے پتہ نہیں شہید غلام محمد نے یہ جملہ کس پیرائے میں کہا تھا لیکن قاضی صاحب اسی کو اپنا سیاسی تشریح کہہ کر بیان کررہا تھا یعنی ہمارا تصور سیاست اختلاف و حمایت سے باہر نہیں جارہا اختلاف و حمایت صرف مجوزہ خیالات کے گرد ہی گھومتے ہیں یعنی کوئ اگر اچھا کام کررہا ہے تو اسکی حمایت اگر کوئ برا کر رہا ہے تو اس سے اختلاف پھر سوال اٹھتا ہے کہ کام کون کررہا ہے ہم تو صرف اسکی حمایت کرتے ہیں یا اس سے اختلاف رکھتے ہیں یعنی ہم صرف کسی عمل کے بابت مثبت یا منفی ردعمل ہی دِکھاتے ہیں عمل کسی اور کا ہوگا ، اسی لیئے میں موجودہ بلوچ سیاست کو ردعملی سیاست کہتا ہوں بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اسی ردعملی سیاست میں ” شہید ” لفظ کا بہت بڑا کردار ہے اور اسی کے سہارے یہ پوری سیاست چلتی ہے اسی لیئے یار لوگ اس سے دستبردار نہیں ہونا چاہتے ، اب مزے کی بات یہ ہے کہ بی ایس او کے پیروں میں بیڑی بندھی ہوئ ہے یعنی 2010 میں بی ایس او آزاد نے اعلان کیا تھا کہ وہ 13 نومبر کو شہداء کے دن کی حیثیت سے منائیں گے اب مجھے زیادہ بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس بی ایس او آزاد اور موجودہ بی ایس او آزاد میں نام کے سوا کچھ بھی مشترک نہیں لیکن اس کے فیصلے اسکے گلے پڑ گئے ، مجھے روایتی سیاسی اداروں کی یہی چیز بہت محضوض کرتی ہے کہ یہاں قانون کی صورت میں بیڑیاں تیار ہوتی ہیں کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ وہ بیڑیاں برے سے روکنے کیلئے ہوتی ہیں لیکن زیادہ تر میں نے نوٹ کیا ہے کہ یہ بیڑیاں کچھ لوگ اپنے محدود سمجھ کے مطابق اپنے مخصوص حالات سے متاثر ہوکر بناتے ہیں اور بعد میں بدلتے وقت کیساتھ انکی کوئ ضرورت نہیں ہوتی لیکن روایت اور تقدس انہیں ہٹانے بھی نہیں دیتا اسی وجہ سے یہ ایسی بیڑیاں بن جاتی ہیں کہ یہ آپ کو اچھے سے بھی روکے رکھتے ہیں ، اب بی ایس او کا 2010 میں 13 نومبر کو اپنانے کا اعلان پتہ نہیں اچھی بیڑی تھی یا بری والی لیکن اسکے پاوں بادل نخواستہ بندھے ہوئے تھے ، پہلے تو انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوا انہوں نے پوری کوشش کی کہ ہڑتال وڑتال کرکے اس دن کے رخ کو بدلہ جائے تاکہ ” یوم شہداء ” کا تصور خاموشی سے جھاگ کی طرح بیٹھ جائے لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ یہ تو ان کا اپنا اعلان تھا پھر کیا ہونا تھا بی ایس او آدھا تیتر آدھا بیٹر بن گیا ،مثال کیلئے بی ایس او کے اعلانات اور اعمال پر غور کریں کسی مزاحیہ کہانی کے کردار نظر آتے ہیں، واقعات کے تسلسل کو دیکھیں بی ایس او ڈیڑھ ماہ پہلے اعلان کرتا ہے کہ 11،12،13 نومبر اسیران کیلئے ہڑتال ہوگی ، پھر ایک مہینے گذرنے کے بعد اعلان کرتا ہے کہ یہ ہڑتال تو ہوگی لیکن 13 کو شہید والا دن بھی ہوگا بالکل دو متضاد چیزیں ، پھر ایک دن اعلان ہوتا ہے کہ کراچی پریس کلب کے سامنے نبیل بلوچ کی اہلخانہ 13 نومبر کے دن مظاھرہ کرے گی ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے بی ایس او ، بی آر پی ، بی این ایم بھی اس مظاھرے میں ہمدردی کیلئے شرکت کا اظہار کرتے ہیں بعد میں اسے صرف نبیل بلوچ نہیں بلکہ تمام لاپتہ افراد کیلئے نکالی گئی ریلی کہی جاتی ہے پھر یکجہتی کونسل اسکی حمایت کرکے اسی ریلی کو شہیدوں کیلئے نگالی گئ ریلی کہتی ہے پھر سب سے بڑا مزاحیہ بات یہ ہوتی ہے کہ جب یہ ریلی ہوجاتی ہے اور ختم ہوجاتی ہے تو جس نبیل بلوچ کے نام سے یہ ریلی نکالی گئی تھی وہ خود اور اسکا اہلخانہ غائب ہوجاتے ہیں اسکا اہلخانہ جو روز بیان جاری کرتی ہے اور جس نے اس ریلی کا اعلان کیا تھا وہ تو غائب ہی ہوجاتا ہے اور نا ہی باقی بیانات میں نبیل کا ذکر ہے یہ ریلی نکلی تھی نبیل کے نام سے اور جب پہنچی تو صرف شہداء کا ریلی بن گیا اور ان کی یاد میں شمعیں روشن ہوئے اور سب بھول گئے کہ اصل کال کس چیز کا تھا ، اس سارے صورتحال پر غور کرکے آپ بخوبی جان سکتے ہیں کہ ہماری یہ جماعتیں کتنی کنفوز ہیں اور انکے سیاسی سوچ کا سطح کیا ہے یہ 11 سے 13 تک کا ہڑتال صرف یوم شہداء سے لوگوں کی توجہ ہٹانا اور اس دن کی اہمیت کو ختم کرکے اس وقت کے ساتھ گم کرنا تھا لیکن کمزور موقف اور موقع پرستانہ سیاست کو دیکھیں جیسے جیسے وقت کٹتا گیا تو اسے بدلنے میں ناکام ہونے کے بعد خود بدل کر اس میں ڈھل گئے، مجھے ان جماعتوں کے اس طرح ڈھل جانے پر بھی کوئ اعتراض نہیں اگر یہ اپنے مرضی کے بغیر مجبوراً بھی کوئ قومی مفادات سے ہم آہنگ کام کرتے ہیں میں اسکی حوصلہ افزائی کروں گا لیکن مجھے ان کے موقع پرستانہ ذہنیت اور نیتوں پر بالکل بھروسہ نہیں اس لیئے آو کچھ وقت ذرا غور کرکے دیکھتے ہیں پھر ہر چیز واضح ہوجائیگا ، یعنی 13 نومبر کو شہیدوں کا ایک دن منانے کے پیچھے فلسفہ یہی تھا کہ سب کو برابری کیساتھ یاد کیا جائے اور کسی کو بھی خاص بناکر پیش کرنے کے بجائے ایک ہی دن تمام شہداء کو یاد کیا جائے چلو ٹھیک ہے بی ایس او آزاد نے ریلی کرلیا اور بی این ایم نے بھی ایک ریفرنس کا بیان داغ دیا اسکا مطلب وہ اس فلسفے اور دن سے اتفاق کرتے ہیں اس لیئے انہوں نے یہ دن منایا ، اب اگر وہ واقعی میں یہ دن موقع پرستی کے بجائے ایک پالیسی کے تحت منارہے تھے تو پھر اب وہ کسی اور شہید کو خاص بناکر انکی برسی نہیں منائیں گے لیکن اگر دوبارہ سے 13 نومبر کے بعد بھی بی این ایم شہید غلام محمد یا کسی اور کا بی ایس او رضا جہانگیر یا کسی اور کا برسی مناتی ہے تو پھر ثابت ہوجائیگا کہ یہ سب موقع پرستی تھا اور انہیں ہہ دن بادل نخواستہ منانا پڑا ۔
اب دیکھا جائے کہ وہ کون سی قوت تھی جس نے ان پارٹیوں کو مجبور کردیا کہ وہ جس دن کو سبوتاژ کرنے نکلے تھی بعد میں مجبور ہوکر اسے منانے لگے ، یہ وہی قوت ہے جس پر پہلے دن سے ہم زور دے رہے ہیں اور شروع سے کہہ رہے ہیں کہ وہی قوت ان پارٹیوں اور مسلح تنظیموں کو مجبور کرے گی کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں ، یہ قوت عوام کی قوت ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ بلوچ عوام اب کسی حد تک گروہیت اور قومیت کے بیچ فرق کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور وہ اب اپنا رخ بدل رہا ہے یہ 13 نومبر اس امر کے ادراک کا بہترین اظہار تھا ، میں نہیں جانتا کہ شہداء کمیٹی کیا ہے اور اسے ذمین پر کون چلا رہا ہے لیکن میں اتنا سمجھ پایا کہ پارٹی بازی اور طرم خان لیڈروں کے پرجوش تقریروں اور لمبے چوڑے اعلانوں کے بغیر ہی خاموشی کے ساتھ انہوں نے عوام کو اس دن کیلئے منظم کیا اور عوام کا اعتماد حاصل کرسکا ورنہ آخر یہ کیسے ممکن تھا بی ایس او آزاد ، بی این ایم اور بی آر پی جو خود کو بلوچستان کا ہست و نیست سیاسی محاذ گردانتے ہیں ان سب کے ایک طرف اور ایک ساتھ ہونے کے باوجود ایک غیر معروف کمیٹی عوام کو اس حد تک قائل کرسکتی ہے کہ ایک ساتھ ان حالات میں کراچی ، کوئٹہ ، تمپ ، سانگان ، پنجگور اور تربت میں پروگرام منعقد کرسکے اور ریلیاں نکال سکے ، بیرونی ممالک برطانیہ ، سویڈن ، جنوبی کوریا اور کینیڈا میں بھی دوست انکے حق میں پروگرام کریں اور باقی سب ملکر صرف کراچی میں بس ایک ایسی کچھڑی پکائیں جس کا پتہ تک نا ہو کہ یہ ریلی کس لیئے تھا ۔ باقی اگر شہداء کمیٹی کے پروگراموں کا اثر دیکھا جائے تو شاید اس حد تک اثر انگیز کام ہمیں ماضی قریب میں نہیں ملتی پہلی بار عالمی میڈیا نے اس حد تک چھوٹے چھوٹے بلوچ ریلیوں کو اس حد تک کوریج دی ہو ، خاص طور پر کوئٹہ میں نکلی ریلی نے تو پوری عالمی میڈیا کا توجہ حاصل کرلیا ، اگر دیکھا جائے تو ان ریلی مظاھروں وغیرہ کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ عالمی میڈیا اور بلوچ عوام کو اپنی جانب متوجہ کرکے عالمی و علاقائ رائے عامہ ہموار کرنا اور یہ کام 13 نومبر کے دن بلوچ شہداء کمیٹی نے بخوبی پورا کیا یعنی بڑے اعلانات ، بڑے لیڈروں ، بڑے ناموں کے بغیر خاموشی کے ساتھ وہ کام کرگیا جو مجھے اکبر خان کے شہادت کے بعد کہیں نظر نہیں آیا یعنی پوری دنیا اور بلوچ عوام کی توجہ حاصل کرنا یہ کس لیئے ہوا اگر ذرا غور کریں تو ہم جان سکتے ہیں کہ اسکی وجہ صرف روایتی اور گروہی سیاست کے گرداب سے نکلنا ہے ، میرے خیال میں اب بی ایس او ، بی این ایم اور بی آر پی کو سمجھنا چاہئے کہ ان کے روایتی اور گروہی سیاست اب قومی تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہی اور وہ عوامی حمایت کھوتے جارہے ہیں ، وہ اگر ذہن کو صاف کرکے اپنے حالت زار پر غور کریں اور صرف اس 13 نومبر کا جائزہ لیں کہ وہ اسے سبوتاژ کرنے نکلے تھے لیکن عوامی دباو کے سامنے مجبور ہوکر اسکو منانے لگے یعنی قوم نے انہیں لیڈ کیا انہوں نے قوم کو لیڈ نہیں کیا قوم آگے آگے اور لیڈر پیچھے پیچھے ، شاید غور کریں تو سمجھ جائیں اور بدل جائیں لیکن غور کا کوہ گراں کون اپنے کندھوں پر لادھے ۔
گائ فاکس ماسک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی میڈیا میں بلوچ شہداء کمیٹی کا کوئٹہ میں نکالا گیا ریلی زیر بحث رہا اور اس ریلی کو جتنی کوریج ملی وہ شاید آج تک کوئ ریلی حاصل نہیں کرسکا ، اس ریلی کی ایک خاص بات یہ تھی کہ شرکاء نے اپنے چہروں پر ” گائ فاکس ” ماسک چڑھائے ہوئے تھے، یہ یقیناً ایک تخلیقی اور غیر روایتی عمل تھا ، یہ ماسک اپنے پیچھے ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتا ہے اور عالمی مزاحمتی سیاست میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ اس سطح پر توجہ اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب رہا ۔ یہ ماسک جسے ” گائ فاکس ” ، ” اینانی مس ” یا ” وینڈیٹا ” ماسک کہا جاتا ہے اصل میں ایک اسکاٹش جہد کار کا شبیہہ ہے ، سنہ 1605 میں برطانوی بادشاہ جیمز اول کے دور میں عوام کی حالت انتہائی دگرگوں تھی ریاستی ظلم و بربریت اور بھوک و افلاس عام تھا ، اسی دور میں گائ فاکس نام کا ایک انقلابی اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ بادشاہ سمیت پورے برطانوی ہاوس آف لارڈز کو مارنے کا پروگرام بناتا ہے ، وہ 5 نومبر 1605 کے دن ہاوس آف لارڈز کے تہہ خانے میں کسی طور بارود بھر دیتے ہیں تاکہ جب بادشاہ آجائے تو اسے اڑا کر بادشاہ سمیت تمام لارڈز کو مار دیا جائے گائ فاکس کو بارود کی چوکیداری پر صادر کیا جاتا ہے لیکن اندر سے مخبری کی وجہ سے اسے پکڑ لیا جاتا ہے اور بعد میں شدید اذیت دیکر اس سے باقی دوستوں کے نام بھی معلوم کیئے جاتے ہیں اور گائ فاکس کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے لیکن پھانسی کے ذلت سے بچنے کیلئے وہ جیل کے کسی اونچے مقام سے کود جاتا ہے جس سے اسکی گردن ٹوٹ جاتی ہے اور وہیں مرجاتا ہے اس طرح اس پورے سازش کا اختتام ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد ہر سال 5 نومبر کو برطانیہ میں سازش کی ناکامی کے دن منایا جانے لگے اسے عام زبان میں وہاں ” بون فائر نائٹ ” کہا جاتا ہے ، اس دن گائ فاکس کے پتلے بنائے جاتے تھے ان پتلوں کا چہرہ اسی گائ فاکس ماسک کی طرح ہوتا تھا پھر انہیں نفرت سے جلایا جاتا تھا ، 400 سالوں تک گائ فاکس نفرت اور دہشتگردی کی علامت کے طور پر یاد کیا گیا ، لیکن یہ تاریخ اس وقت بدل گئ جب 1980 کے دہائ میں ایک انارکسٹ ایلن مور نے ” وی فار وینڈیٹا ” نامی ایک ناول تحریر کی جس کا ہیرو ” وی ” گائ فاکس والا ماسک پہنتا ہے ، اس میں ظاھر کیا گیا ہے کہ برطانیہ ایک فاشسٹ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے جو عوام سے ساری آزادی چھین لیتا ہے اختلافِ رائے پر قتل کرتا ہے پورے معاشرے کو معاشی بدحالی میں دھکیل دیتاہے ، ایسے عالم میں ” وی ” گائ فاکس ماسک پہنے مزاحمت کا آغاز کرتا ہے اور گائ فاکس کی طرح ایک منصوبہ بناتا ہے پورے برطانوی پارلیمنٹ کو دھماکے سے اڑانے کا ، یہاں فرق یہ ہوتا ہے کہ گائ فاکس اپنے منصوبے میں ناکام ہو کیا تھا لیکن ” وی ” کامیاب ہوجاتا ہے اور جس دن برطانوی پارلیمنٹ کو اڑایا جاتا ہے اس دن پوری برطانوی عوام یہی ماسک پہنے سڑکوں پر نکل آتی ہے جس سے ظالم حکومت کا خاتمہ ہوجاتا ہے ، اس ناول کے بعد لوگ گائ فاکس کے بارے میں ایک مختلف پہلو سے سوچنا شروع کردیتے ہیں اور اپنی رائے بدل دیتے ہیں اب وہ 400 سال بعد نفرت کے بجائے انقلاب کی علامت بن جاتا ہے لیکن پھر بھی یہ ایک محدود حد تک ہوتا ہے لیکن 2005 میں اس ناول پر ایک فلم بنائ جاتی ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہوجاتا ہے وہیں سے یہ ماسک انقلاب کی علامت بن جاتی ہے ۔ سیاسی مظاھروں میں پہلی بار اسکا استعمال 2008 میں ” چرچ آف سائنٹولوجی ” کے خلاف مظاھروں میں ہوتا ہے ، چرچ پر یہ الزام ہوتا ہے کہ وہ مظاھرین کو انتقام کا نشانہ بناتا ہے اس لیئے مظاھرین یہ ماسک پہننا شروع کرتے ہیں اسکے بعد یہ ماسک دنیا بھر کے مظاھروں میں استعمال ہونے لگتا ہے ، عرب بہار ، وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک، ترک مظاھرے وغیرہ میں اسکا استعمال زیادہ سے زیادہ ہونے لگا ، بھارت میں انٹرنیٹ کے پابندیوں کے خلاف ایک یونیورسٹی کے 100 طالبعلم یہی ماسک پہن کر حکومت کے خلاف ایک مظاھرہ کرتے ہیں جو پذیرائ حاصل کرتی ہے ، اس ماسک کے مشہور ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک تو یہ شناخت چھپاتی ہے اور ساتھ میں ایک سیاسی پیغام بھی دیتی ہے کہ ہم ظلم ، غلامی اور بدحالی کے خلاف ہیں ۔
جھوٹ ، دھوکہ ، بناوٹ جتنی بھی مہارت سے گھڑی جائے اسکی عمر محدود ہوتی ہے اور سچ خود کو بالآخر تسلیم کروالیتا ہے ، گائ فاکس کو ایک غدار سے انقلابی بننے اور “عظیم ترین ناکام انسان” کا خطاب پانے میں 400 سال کا وقت لگ گیا ، اب میں سوچتا ہوں کہ بلوچ سیاست میں روایت ، بناوٹ اور جھوٹ سے جو مکروہ اور گروہی عزائم چھپائے گئے ہیں شاید اب بالآخر یہ بھی واضح ہوتے جارہے ہیں اور سچ سامنے آرہا ہے جس کے اظہار کا آغاز 13 نومبر کو ہوگیا ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0