روایت اور تبدیلی ۔۔ صادق رئیسانی

اتوار 23 نومبر, 2014

اختر مینگل نے غوث بخش بزنجو کو بابائے بلوچستان نہیں بابائے سوداگر کہا۔
نواب خیر بخش مری کے ساتھیوں اور میر ہزار خان رامکانی کے ساتھیوں کے درمیان افغانستان ہلمند کیمپ میں جھڑپ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
نواب خیر بخش مری اور ساتھیوں کی افغانستان سے آمد پرشانداراستقبال ۔میں انقلاب اپنے ساتھ نہیں لایا انقلاب کے اپنے ضروریات ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
میر ہزار خان کا پریس کانفرنس نواب خیربخش مری کی مخالفت اور سرکار کی حمایت۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
قوم پرست حلقوں کا شیر محمد مری کو کنارے اور میرہزار کو سینے سے لگانا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر بھی شیر محمد مری کا اپنے قول و فعل پر قائم رہنا اور نواب خیربخش مری کی مخالفت نہ کرنا
صفحے پلٹ رہے ہیں
سردار عطاللہ مینگل کی سربراہی میں BNP کی پارلیمانی سیاست میں دلچسپی اور پارلیمانی سیاست کے لئے قوم سے رجوع ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اختر مینگل اور اسکے ساتھیوں کاپارلیمنٹ میں پاکستان کے لئے حلف وفا ۔۔۔
صفحے پلٹ رہے ہیں
حیر بیار مری کا پاکستان کے پارلیمنٹ میں حلف وفاسے انکار اور پاکستانی اخبارات کا حیربیار مری کے لئے نفرت کا اظہار
صفحے پلٹ رہے ہیں
دن میں ثناء بلوچ کا بلوچوں کے درمیان آزادی کی بات کرنا اور رات کو سرکار کے گن گانا
صفحے پلٹ رہے ہیں
BNP میں پارلیمان پرست سردار عطاللہ مینگل اختر مینگل کے گن گاتے اور آزادی پسندوں کا نواب خیر بخش مری ، حیربیار مری اور دوسرے آزادی پسندوں کے لئے BNP میں رہتے ہوئے انکی حمایت کرنا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
BNP کا تین حصوں میں بٹ جانا پارلیمانی حصے BNP(A) ,BNP اور آزادی پسند
صفحے پلٹ رہے ہیں
بلوچ سیاست میں تبدیلی کا آغاز
صفحے پلٹ رہے ہیں
اختر مینگل کے گورنمنٹ میں بلوچ گل زمین میں ایٹمی دھماکہ
صفحے پلٹ رہے ہیں
نواب خیر بخش مری کا جدوجہد سے اسوقت انکار حیربیار کا اقرار بعد میں دونوں کااتفاق۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
1996 میں BLA کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا فیصلہ
صفحے پلٹ رہے ہیں
1999میں BLAکا مسلح جدوجہد کرنے کا آغاز
صفحے پلیٹ رہے ہیں
پارلیمانی پارٹیوں سے اخراج آزادی پسند پارٹیوں میں بلوچوں کا اندراج ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان میں مسلح جدوجہد میں شدت سردار عطاللہ مینگل کا کہنا یہ ایجنسیوں کی کارستانی ہے اور یہ پٹاخے ہیں
صفحے پلٹ رہے ہیں
اختر لانگو اور اکبر مینگل کا بلوچستان اسمبلی میں بیان کہ ان دھماکوں کا بلوچوں سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
پارلیمانی پارٹیوں کا مسلح جدوجہد کی مخالفت کرنا
صفحے پلٹ رہے ہیں
بی ایل اے کا دوستوں کا مسلح جدوجہد کرنے کے لئے استاد واحد قمبر سے رابطہ، واحد قمبر کی رضامندی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مکران میں بی ایل ایف کے قیام کے لئے بی ایل اے کی بھرپور مدد وکمک
صفحے پلٹ رہے ہیں
بلوچستان کے طول عرض میں فوجی آپریشن اور بلوچ تنظیموں کی عسکری کاروائیوں میں تیزی
صفحے پلٹ رہے ہیں
نواب اکبر خان بگٹی شہید کا حیربیارمری سے رابطہ دونوں کا مشترکہ جدوجہد کرنے کا عزم
صفحے پلٹ رہے ہیں
BLA کا BLF کو بھر پورکمک یہاں تک کہ BLA نے مکران میں کیمپ نہیں بنائے اس اقرار کے ساتھ کہ BLF اور BLA کوئی میں فرق نہیں
صفحے پلٹ رہے ہیں
بالا چ خان اسمبلی ممبر ہوتے ہوئے بھی پہاڑوں میں مسلح جدوجہد کرتے رہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
غلام محمد بلوچ کی قیادت میں BNM کا قیام اور بلوچ آزادی کی حمایت بلوچ مسلح تنظیموں کی حمایت ۔۔۔
صفحے پلٹ رہے ہیں
سوئی کا جلسہ یہاں ایک گولی چلی تو ہم دس گولیاں چلائیں گے اختر مینگل کا اقرار ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
نواب اکبر خان بگٹی کا پارلیمانی سیاست دانوں کو قوم پرست نہیں پیٹ پرست اور کاغذی شیر کا لقب ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
نواب بگٹی کا بی بی سی کو انٹریو کہ ڈیرہ بگٹی میں بگٹی مررہے ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
نواب اکبر خان کی شہادت اور آغا شاہد اور امان اللہ کنرانی کی غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام
صفحے پلٹ رہے ہیں
ڈاکٹر اللہ نظر ، براہمدغ اور جاوید کو نواب صاحب کی سرپرستی میں حیربیار مری کا بھرپور کمک و حمایت۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائیزیشن کا متحد ہونا کچھ دن کے لئے دوبارہ تین لخت ہونا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بالاچ خان شہید ہوئے اور آزادی پسند تنظیموں اور مسلح تنظیموں کا متحد ہوکر جدوجہد کرنے کا عزم
صفحے پلٹ رہے ہیں
غلام محمد کی قیادت میں BNM کو بائی پاس کرکے BRP کا قیام ۔۔۔
صفحے پلٹ رہے ہیں
نواب بگٹی جیسے شخص کا حیربیار کے کام سے مطمئن اور میر حیربیار کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح اور پوتا براہمدغ بگٹی کا الگ دکان کھولنے کا فیصلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
BLA اور BLF جیسے مسلح تنظیموں کی موجودگی میں BRA کا قیام
صفحے پلٹ رہے ہیں
BSOآزادجیسے آزادی پسنداسٹوڈنٹ تنظیم کی موجودگی میں BRSO کا قیام۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
BLA کے ہوتے ہوئے لشکر بلوچستان کا قیام۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
BRA خواتین ونگ کا اعلان، مسلح کاروائیاں۔۔۔
صفحے پلٹ رہے ہیں
بلوچ تنظیموں کا الیکشن سے بائیکاٹ کا اعلان
صفحے پلٹ رہے ہیں
آزادی پسند تنظیموں کا BNF کے پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
BNF نے بلوچستان میں تیزی کے ساتھ اپنے پروگرام کو جاری رکھنے کا فیصلہ اور مشترکہ جدوجہد کا عزم
صفحے پلٹ رہے ہیں
سردار عطاللہ مینگل کا جاوید مینگل کے زریعے آزادی پسند تنظیموں کے درمیان کھینچاتانی کی کوشش BRP کی وڈھ میں خفیہ ملاقات اور BNF کے خلاف BRP کا استعمال اور جاوید کے زریعے BRP سے ملاپ اور ہم ہوئے روایت پسندی کا شکار اور شروع ہواBNF کا زوال۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سردار عطاللہ مینگل کا یہ کہنا کہ میں نواب خیر بخش مری کے لئے کیا کروں خیابان سحر کراچی میں میرے بیٹے کے گھر میں رہ رہا ہے گھر کا طعنہ مگر فکر کے ساتھ نہ ہونا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آزادی پسند پارٹیوں کا پھر سے الیکشن کا بائیکاٹ مگر BNP کا بائیکاٹ سے اعلان کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ اور پورے بلوچستان میں اپنے آزاد امیدواروں کو کھڑا کرنا مگر کامیاب ہوئے دو امیدوار عثمان ایڈوکیٹ اور قمبر گچکی
صفحے پلٹ رہے ہیں
بلوچستان میں جنگ بند ی کا اعلان اسکی وجہ مہران مری کی کارستانیاں، مالی وسائل اپنی عیاشیوں میں اڑانا
صفحے پلٹ رہے ہیں
اتحاد و اتفاق اور مشترکہ جدوجہد قربانی شہیدوں کے پروگرام کو آگے لے جانے والے لیڈران ہوگئے سب روایت پسندی کا شکار (وہی ڈوڈا وہی ساگ) ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بی ایل ایف سے بی این ایل ایف کا وجود
صفحے پلٹ رہے ہیں
ڈاکٹر اللہ نزر کا عصاظفر کو دھمکی آمیز فون اور غلام محمد بلوچ پر اپنے مرضی کے مطابق BNM کو کنٹرول کرنا
صفحے پلٹ رہے ہیں
براہمدغ بگٹی کا حیربیار سے الگ جہد کرنے کا فیصلہ اور BRP کو صرف بگٹی قبیلے تک محدود رکھنا اور شیر محمد بگٹی کے علاوہ کسی کی بات کو تسلیم نہ کرنا (وہی ابا وہی ادا)۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حیربیار مری اور ساتھیوں کا بلوچستان لبریشن چارٹر پیش کرنے کا اعلان ، تمام آزادی پسندوں کی حمایت بی آر پی کی مخالفت اورڈاکٹر اللہ نزر کی حمایت لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مخالفت و حمایت
صفحے پلٹ رہے ہیں
جاوید مینگل مہران براہمدغ بگٹی ڈاکٹر اللہ نزر کا حیربیار کے خلاف محاز کھولنے کا فیصلہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حیربیار کا یہ کہنا کہ تحریک میں ہمارے درمیان کچھ معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر اچانک سے UBA کا قیام مہران مری قادرو ناڑی مراد کی سرکردگی میں اور لوگوں کو یہ کہنا کہ نواب خیربخش مری نے UBA کے قیام کی حمایت کی ہے مگر نواب خیربخش مری نے نہ کھل کر BLA کی مخالفت کی نہ کھل کرUBA کی حمایت کی
صفحے پلٹ رہے ہیں
ڈاکٹر اللہ نزر کا BLF کے ساتھ ساتھ BNM اور BSO(A) پر مکمل کنٹرول قومی سے علاقائی سیاست تک محدود کردیا اپنے ساتھیوں کو بھی اور اپنے آپ کوبھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس اہم موڑ پر براہمدغ بگٹی ، اللہ نزر، جاوید مینگل کا اپنے گھوڑے الگ الگ دوڑانا
صفحے پلٹ رہے ہیں
چیرمین بشیر زیب کا اللہ نزر کو 90 دن تک سمجھانے کی کوشش کہ وہ اختلافات ہم میں موجود ہیں ان کا حل ڈھونڈے مگر اللہ نزر نے انکار کردیا اور پھر بشیر زیب اور ان کے ساتھی واپس ہوگئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
قادر مری کا BLA کے سیئنر دوستوں سے رابطہ کہ آو ایک نئی تنظیم بنائیں نواب صاحب بھی ہمارے ساتھ ہے۔ جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع کرنا
صفحے پلٹ رہے ہیں
ڈاکٹر اللہ نزر کے BLF کا یہ کہنا کہ حیربیار خان تحریک کے لئے روکاوٹ
صفحے پلٹ رہے ہیں
مکران میں BLF ، BRA اور کوئٹہ اور سبی میں UBA کی طرف سے کچھ بلوچ کش کاروائیاں اور مکران میں مخبری کے نام پر بعض بے گناہ بلوچوں کا قتل۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
جنیوا میں BRP, BNM, BNPکا ایک ساتھ مظاہرہ اور اتحاد کی بازگشت اور بختیار خان ڈومکی کے نئے دکان کا بھی اس اتحاد میں ہوناپر بھی سب کو سبھی سے خطرہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سوشل میڈیا میں سوالات اٹھانے والوں کو گالی گلوچ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اتحاد و اتفاق کے لئے دل سے نہیں منہ سے اظہار ،بغل میں چھری منہ میں رام رام
صفحے پلٹ رہے ہیں
شہید بالاچ خان کا قول پہلے جو اتحاد ٹوٹتے ہیں ان کے زمہ داران کا تعین اور بعد میں ایک مظبوط اتحاد ہوسکتا ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچ سیاست میں فیملی پالیٹکس کا رجحان اور روایت پسندی کے لئے اتحاد
صفحے پلٹ رہے ہیں
حیربیار مری اور انکے ساتھیوں کا روایت پسندی کے خلاف اقدام ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچ مزاحمتی تحریک میں آیا ایک مثبت رجحان
صفحے پلٹ رہے ہیں
نواب خیربخش مری کی وفات ان کے جنازے کو کاہان لے جانے کا انتظام، حیربیار مری اور انکے ساتھیوں کا جنازے کو شہدا ء قبرستان میں دفنانے کا اعلان اور بلوچ قوم نے نواب صاحب کے جنازے کو لے گئے نیو کاہان اور نواب صاحب کی جسد خاکی کو شہداء قبرستان میں کردیا آسودہ خاک
صفحے پلٹ رہے ہیں
13 نومبریوم بلوچ شہداء تمام آزادی پسند پارٹیوں نے کیا منانے کا اعلان اور بی آر پی نے کیا اس سے انکار
صفحے پلٹ رہے ہیں
BLA کا احتساب کے حوالے سے UBA سے پارٹی مڈی کا مانگا جواب اور ہوا UBA روایت پسندی کا شکار اور دینے لگا کوہستان میں واسطہ نواب خیربخش مری کا جسے کردیا BLA نے ناکام اور UBA وBLA میں ہوا جھڑپ اور یہ انقلاب کا ہوتا ہے تقاضہ BLA اپنے موقف پر رہا برقرار اور UBA کا کرنے لگے حمایت ڈاکٹر اللہ نزر ، جاوید مینگل اور براہمدغ بگٹی اور اب بلوچ سیاست میں روایت پسندی سے انقلابی طرز فکر کی پرچار اور یہ ہوتا ہے کامیابی کی علامت کا نشان۔
صفحوں میں پلٹنے والی تاریخ میں جو حقائق چھپے ہیں اگر انکے اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش کی جائے تو ہمارے لکھنے والوں کو بلوچ سیاست کو سمجھنے اور سمجھانے میں کوئی مشکل پیش نہ آتی ہے گروہی طبیعت کے مالک و حادثاتی لیڈران نے بلوچ جہد کو جس نہج پر پہنچایا ہیں اگر آج انھیں سمجھنے سمجھانے کے ساتھ ساتھ انھیں روکا نہ گیا تو پھر یہ کہنا بجا ہوگا کہ بلوچ جہد میں جنگل کا قانون رائج ہے جو طاقتور ہے وہی سب کچھ ہے آج یو بی اے کے تسلسل کے ساتھ واردت جن میں زیادہ ہلاکتیں عام لوگوں کی ہوئی اور بی ایل اے کے پیداہ کردہ وسائل پر قبضہ اور ہزار خان رامکانی سے مدد و کمک جسے اعمال سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ یو بی اے کی حقیقت کیا ہے اگر آج اس سوچ کو روکا نہ گیا تو پھر روایت بن کر تاں ابد بلوچ سیاست کا حصہ بن جائے گا اور ہر دس سال کے بعد یہ غلامی مزید پختہ ہوتی رہے گی اور ایسے لوگ بھیس بدل کر بلوچ سیاست میں نمودار ہوتے رہیں گے اور مجموعی سیاسی صورتحال کی جو حالت میں وہ انھی لوگوں کی وجہ سے ہیں اگر آج ڈاکٹر اللہ نزر ، براہمدغ بگٹی ان مسائل کی حقیقت کو بھانپ کر اپنی گروہیت پر قومی اجتماعی مفادات کو ترجیح دیتے تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی اور اسی گروہی سوچ کی وجہ سے ہر ایک اپنے دکان کو بڑھانے کے چکر میں ہیں جبکہ اجتماعی مفادات کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0