روس کا ترکی پر اقتصادی پابندیوں کا اعلان

اتوار 29 نومبر, 2015

ماسکو(ہمگام نیوز) روس نے ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ ترکی کی جانب منگل کو شام کی سرحد پر روسی جنگی طیارہ گرائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ ترک صدر نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار تو کیا تاہم انھوں نے روسی مطالبے کے باوجود معذرت نہیں کی۔

سنیچر کو روسی صدر ولادی میر پوتن نے ترکی پر معاشی پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کیے۔ جس کے تحت ترکی سے درآمدات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

یہ پابندیاں روس میں موجود ترک کمپنیوں اور روسی کمپنیوں میں کام کرنے والے ترک نژاد افراد پر بھی عائد ہوں گی۔

اس کے علاوہ حکم نامے میں دونوں ممالک کے درمیان چارٹر طیاروں کی آمدورفت بند کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

جمعے کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ماسکو پر شام میں اس کے آپریشن پر ’آگ سے کھیلنے‘ کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم سنیچر کو جاری بیان میں ترک صدر نے کہا کہ وہ شام کی سرحد پر ترک افواج کی جانب سے روس کے جنگی طیارے کو مار گرائے جانے پر ’افسردہ‘ ہیں۔

ترکی اور روس کے باہم اقتصادی رابطے ہیں۔ روس ترکی کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ گذشتہ برس کے اعدادوشمار کے مطابق 30 لاکھ سے زائد روسی سیاح ترکی گئے تھے۔

روسی صدر کے ترجمان کے مطابق تقریباً 90 ہزار ترک باشندے روس میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کام کرنے والوں کے خاندانوں کی بھی شامل کیا جائے تویہ تعداد دو لاکھ تک ہے۔

روسی صدر کے حکم نامے میں ٹور آپریٹرز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ترکی کے پیکجز پیچنے سے پرہیز کریں۔

دوسری جانب ترک وزارتِ خارجہ پہلے ہی اپنے شہریوں کو خبردار کر چکی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر روس نہ جائیں۔

جمعے کو روس نے ترکی کے لیے ویزا فری سروس کو بھی معطل کر دیا تھا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0