رہزنوں سے نہیں گلہ تیری رہبری کا سوال ہے تحریر : نود بندگ بلوچ

اتوار 29 نومبر, 2015

محترم ڈاکٹر اللہ نظر صاحب!
گذشتہ دن آپ کے خیریت کی ویڈیو نظروں سے گذری، اس لئے خیریت دریافت کرنے کی ضرورت نہیں لیکن آپ کا ویڈیو پیغام ہرگز ایک نئی چونکا دینے والی خبر نہیں تھی، کیونکہ پہلے ہی دن جب پاکستان آپ کی شہادت کی خبریں پھیلا رہا تھا اسی دن سے میں اس ویڈیو کے انتظار میں لگ گیا، کیونکہ مجھے پتہ تھا آپ ایسا موقع ہرگز ضائع نہیں کریں گے۔ میں دوسرے معاملات میں آپکے صلاحیتوں کا معترف ٹہروں یا نہیں لیکن مجھے آپ کا ہیرو بننے کے مواقع پیدا کرنے اور لوگوں کے نفسیات سے کھیل کر اپنے لیئے غلطیوں سے ماوریٰ ایک ارفع تصور قائم کرنے کی صلاحیت سے ہرگز انکار نہیں۔ جب آپ کے گمشدگی کے چہ میگیوں سے پیشانیوں پر گومگو کے بَل پڑ رہے تھے تو راقم نے اس وقت آپ کے مزاج کو بھانپ کر آپ کے تہلکہ خیز ویڈیو کی پیشن گوء کردی تھی، لیکن برا ہو اس عوام کا جس کو آپ کی قدر نہیں جسے آپ کے توقع کے برخلاف موت کے خبروں سے آگ نہیں لگی اور اس سے زیادہ برا ہو اس سرکار کا جس نے آپ کے پورے منصوبے کا مزہ آپ کے سر پر 10 لاکھ کے انعام کا اعلان کرکے کِر کِرا کردیا۔
آپ حضرت تو نام بنانے کے ہنر میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ موت کی خبریں آتے ہی آپ نے مشکوک فضاء پیدا کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ افواہیں سچ ہیں ، اختر ندیم تو ایسے افواہوں کو مزید ہموار کرنے کیلئے ایسی شاعری بھی کر بیٹھا جس سے یہ افواہیں مزید تقویت حاصل کرتے۔ آپ نے سوچا تھا کہ جب موت کی خبریں نکلیں گی تو عوام میں سراسیمگی و اضطراب کی ایسی کیفیت طاری ہوگی کہ ہر طرف صرف آپ ہوگے اور ایسے عالم میں آپ ویڈیو جاری کردیں گے، لیکن کیا ہوا یہ نیکی زوال قوم کو تو کچھ فرق نہیں پڑا، پھر عوام کا یہ احساس جگانے کیلئے آپ نے ایک ساتھ بی ایل ایف ، بی این ایم اور بی ایس او کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان میں ہر جگہ اپنے پوسٹر اس نعرے کے ساتھ کندہ چسپاں کرائے کہ ” ہم سب اللہ نظر ہیں “۔ بہت وقتوں سے آپکے پوسٹر لگنا بند ہوئے تھے اور حالات بھی ایسے ہوگئے تھے کہ آپ بھی زندگی میں پوسٹروں کی فرمائش سے ہچکچاتے تھے لیکن موت کا افواہ ایسا تھا کہ کوئی کچھ بول بھی نہیں سکتا تھا اور آپ کا کام بھی ہوگیا۔
اب دیری تھی بس پوسٹروں کے لگنے کے بعد آپ کے ڈرامائی طور پر نمودار ہونے کا جس کیلئے ابھی تک لوہا گرم نہیں تھا ، کچھ اور پوسٹر ، کچھ اور جلسے ، کچھ اور افواہوں کی مزید ضرورت تھی۔ لیکن کیا ہوا، غارت ہو اس فوج کا پورے تیار اس ڈرامے کو آپ کے 10 لاکھ انعام والے پوسٹروں سے برباد کردیا ، سسپنس ٹوٹ گیا اور سب کو پتہ چل گیا آپ زندہ ہو، اسی لیئے آپ کو بغیر کلامیکس کے ڈرامہ فوری طور پر ختم کرکے اپنی ویڈیو جاری کرنی پڑی۔
اس پورے سیٹ اپ کا مقصد آپ کو قوم کے سامنے پاک صاف لیڈر اور دنیا کے سامنے واحد بلوچ رہبر ثابت کرنا تھا ، یعنی موت کے خبروں کی باعث آپ کہ کردار پر جتنی تنقید ہورہی تھی، جتنے سوال اٹھ رہے تھے اور عوامی سطح پر آپ کا امیج جتنا گرگیا تھا۔ ان سب کے سامنے ایک بند باندھا جاسکتا تھا۔ ایسے پست صورتحال میں موت کی خبر ایک طرف تنقیدی سلسلے کو توڑ دیتا اور دوسری طرف لوگ وہی بیچارے جذباتی ہوکر بولتے دیکھو لیڈر تو یہی تھا لڑتے لڑتے مرا ہے۔ ایک تو ہمارے بلوچ رسم و رواج میں کوئی دشمن بھی مرے تو لوگ برائی کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ آپ پر بھلا کیسے تنقید ہوتی اور دوسری جانب جس طرح پاکستان موت کے خبر کو اچھال رہا تھا اس سے آپ کے زندہ رہنے کی خبر بھی اتنی ہی اچھلتی اور میڈیا میں بار بار ” بلوچ لیڈر ” کے ڈرامائی زندہ رہنے والے ویڈیو سے بلوچ عوام بھی مرعوب ہوتی اور عالمی سطح پر بھی آپ کا اچھا خاصہ پروپیگنڈہ ہوجاتا۔ چلو امید کرتے ہیں یہ سب کچھ فضول نہیں گیا ہوگا ، کچھ نا کچھ آپکو فائدہ ہوا ہوگا ، کسی نا کسی نے یہ ڈرامہ ” خریدا ہوگا”۔
اب میں آتا ہوں اپنے اصل مدعے پر جس کو بیان کرنے کیلئے آپ کے آمد کا انتظار تھا۔ ڈاکٹر صاحب انقلاب و آزادی کی جنگ میں انصاف وہ صفت ہوتی ہے جو آپ کو آپکے دشمن سے آپکے لوگوں کے سامنے ممتاز بناتی ہے۔ آپ اپنے قوم کو یقین دلاتے ہو کہ آپکی وجہ سے وہ جو بھی مصائب خندہ پیشانی سے اٹھا رہے ہیں اس کا صلا انہیں انصاف اور خوشحالی پر مبنی ایک آزاد معاشرے میں ملے گا۔ یہی آپکی وہ مضبوط دلیل ہوتی ہے جس کے بدولت لوگ طاقتور دشمن کے بجائے آپکو کمزور حالت میں چنتے ہیں۔
لیکن گذشتہ دنوں مجھے مشکے سے ایک بلوچ کا خط ملا جس میں مختصراً اس نے آپکے انصاف و برابری کے پیمانوں اور اقرباء پروری پر سنجیدہ سوال اٹھائے ہیں۔ میں آپکا مزید وقت ضائع کیئے بغیر اپنے اس کھلے پیغام کے توسط سے اس بلوچ کا خط آپکو پیش خدمت کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں آپ اسے نظر انداز نہیں کریں گے اور اگر آپ حسبِ توقع اسے نظر انداز کر بھی دیں تو بلوچ تحریک کی اصل قوت بلوچ عوام اسے ہرگز نظر انداز نہیں کریگی۔ خط درج ذیل ہے۔
ڈاکٹر اللہ نظر صاحب!
ایک انقلابی کا خاندان اسکے عزیز و قریب اور رشتہ دار اسکا پورا قوم ہوتا ہے۔ اسکا رویہ اور اسکے فیصلے سب کیلئے یکساں ہوتے ہیں۔ وہ جب تک یہ توازن لیکر چلتا ہے تب تک وہ انقلابی یا ایک لیڈر کہلوانے کا حقدار ٹہرتا ہے لیکن جب وہ انصاف کا یہ تقاضہ پورا نہیں کرسکا اور اسکا توازن ٹوٹ گیا تو پھر اس میں اور ووٹوں کی بھیک مانگ کر اپنے خاندان کی زندگی سنوارنے والے پارلیمنٹ پرستوں میں فرق صرف طریقہ کار کا رہ جاتا ہے، مجھے ڈر ہے وہی توازن آپ برقرار رکھنے میں ناکام ہورہے ہیں۔
قصہ بہت طویل ہے لیکن میں چند بے ربط پیراگرافوں میں کچھ حقائق آپکے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ ڈاکٹر صاحب انور ولد رستم نے بی ایل ایف سے اختلاف رکھ کر تنظیم سے الگ ہوگیا تھا اور الگ ہونے سے پہلے اپنا بندوق ، موٹر سائیکل وغیرہ بی ایل ایف کو واپس کرکے گھر بیٹھ گیا تھا لیکن وہ پانچ سال سے بی ایل ایف کا ساتھی تھا اور مسلح کام کرتا رہا تھا اسی وجہ سے اسکا نام فوج اور آئی ایس آئی کے ہٹ لِسٹ میں تھا۔ وہ اختلافات کی وجہ سے بی ایل ایف میں تو نہیں رہ سکا لیکن گھر بھی آرام سے بیٹھنے سے رہ گیا تھا کیونکہ اگر وہ گھر میں رہتا تو کسی نا کسی دن فوج یا ڈیتھ اسکواڈ اسے اغواء کرکے مار دیتے۔
اسی وجہ سے اس نے پنجگور جاکر فوج کو اپنی صفائی پیش کی اور سرینڈر ہوگیا لیکن جب وہ اپنے بھائی اور والد کے ساتھ واپس آرہا تھا تھا تو اسی دوران راغے میں انور اور اسکے چھوٹے بھائی سلام اور اسکے 80 سالہ والد میر رستم پر بی ایل ایف نے فائر کھول دیا اور ڈاکٹراللہ نظر آپ کے اور بی ایل ایف کے رحم وکرم سے ان تینوں کو نیندے ابد نصیب ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب میں یہاں ہرگز انور کا دفاع نہیں کررہا ، اسکے سرینڈر ہونے کی وجہ جو بھی ہو اگر اس گناہ کا سزا موت ہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن میرا سوال اس سزا کے بارے میں انصاف کرنے پر ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سزا صرف انور کیلئے تھایا پھر یہی سزا سب کیلئے ہے ؟
ڈاکٹر صاحب اگر انور بی ایل ایف کا ساتھی تھا اور باغی ہوکر سرینڈر کرگیا تو پھر باقی رستم اور سلام کو کس قصور میں مارا گیا؟ وہ تو بی ایل ایف میں نہیں تھے ڈاکٹر صاحب اگر 80سالہ بزرگ میر رستم کا گناہ صرف صفائی پیش کرنا تھا تو آپ کے بڑے بھائی محمد ابراہیم مشکے گجر میں آرمی کرنل کے پاس جاکر اپنا صفائی بالکل اسی طرح پیش کرچکا ہے جس طرح ان تینوں نے کیا تھا، گناہ تو پھر دونوں کا ایک ہی ہے پھر ڈاکٹر صاحب آپکا بھائی ابتک کیوں زندہ ہے اور بلا خوف و خطر اپنے مرضی کے ساتھ آزادی سے گھوم پِھر رہا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کہیں محمد ابراہیم کے زندہ رہنے کا وجہ یہ تو نہیں ہے کہ ابراہیم آپکا بھائی ہے اور رستم آپکا کوئی رشتہ دار نہیں تھا اور اسی لیئے اپنے دو بیٹوں سمیت ماراگیا؟ ڈاکٹر صاحب آپ اور آپکے بی ایل ایف نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے کہ عام لوگ مجبورہوکر فوج کے پاس جا کر اپنا صفائیاں پیش کرتے ہیں۔
اللہ نظر صاحب آپ کے قانون کے مطابق فوج کے سامنے سرینڈر کرنا اور اپنا صفائی پیش کرنا بڑا گناہ ہے یا پھر لوگوں کو اکسا کر ، انہیں ڈرا کر ، انہیں لالچ دیکر میر علی حیدر اور زکریا محمد حسنی کے پاس لیجاکر سرینڈر کروانا بڑا گناہ ہے؟ میرے خیال میں سرینڈر کرنے سے بڑا گناہ تو لوگوں پر دباؤ ڈال کر سرینڈرکرنے پر مجبور کرنا بڑے گناہ کے زمرے میں آئے گا۔ پھر ڈاکٹر صاحب آپ کے کزن بٹے خان اور بھاول خان بلوچ سرمچاروں کو دھمکی دیکر انکو فیملی کے بارے میں بلیک میل کرکے سرینڈر کرواتے رہے ہیں اس پر آپ کیوں خاموش ہیں؟
اس لیئے کہ وہ آپ کے رشتہ دار ہیں؟
ڈاکٹر صاحب جب عبید اللہ اور دینو نے سرینڈر کیا تھا اور سردار ثناء اللہ کے پاس ہتھیار پھینکنے گئے تھے تو اختر ندیم کے ماموں غلام مصطفے وہاں موجود تھے اور کون نہیں جانتا کہ غلام مصطفیٰ مشکے میں فوج کا سب سے خاص بندہ ہے لیکن آج تک اسکا بال تک بیکا کیوں نہیں ہوتا؟.
ڈاکٹر صاحب آپ کے بھانجے شہید سلیمان عرف شیہک نے شہید ہونے سے چند منٹ پہلے کہا تھا کہ ” میرا ساتھیوں اور لیڈر شپ سے التجا ہے کہ وہ ایسا کام نا کریں جس سے عوام سمیت پوری تحریک کو نقصان پہنچے” یہی کہا تھا نا ڈاکٹر صاحب؟ ماشاء اللہ آپ اور آپ کے بی ایل ایف نے شہید کے پیغام پر بہت جلد عمل کرنا شروع کردیا۔
شہید سلیمان کے شہادت کے بعد باقی بلوچستان کو چھوڑیں آپ کے بی ایل ایف والوں نے صرف راغے میں ظلم اور بے غیرتی کی حدیں پار کر دیں ہیں۔ڈاکٹر صاحب آپ کے بھانجے زاہد اور پیر محمد دونون راغے بلوچ آباد میں ایک بلوچ کے گھر جاتے ہیں، وہاں بلوچی رسم و رواج کہ تحت انہیں بٹھایا جاتا ہے اور چائے بنائی جاتی ہے۔ سرمچاروں کو اپنا محافظ تصور کرتی ایک نو عمر لڑکی مہماں خانے ان کیلئے چائے لاتی ہے۔ جب وہ نوعمر بلوچ لڑکی چائے وہاں رکھ رہی ہوتی ہے تو آپ کا بھانجا پیرمحمد اس لڑکی کا دامن پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ لڑکی چلا اٹھتی ہے اور اپنے گھر کی طرف دوڑتی ہے۔ لڑکی کی چیخ سن کر گھر کے باقی خواتین اسی جانب آتے ہیں اور لڑکی سے وجہ پوچھتے ہیں تو وہ پیر محمد کے اس بدتمیزی اور نیت کا قصہ بیان کرتی ہے۔ جس پر باقی خواتین انہیں بے عزت کرکے گالیاں دے دے کر اپنے گھر سے نکال دیتے ہیں اور پیر محمد و زاہد بس دھمکیاں دیکر چلے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب یہ پورا واقعہ آپ کو پتہ ہے لیکن پھر بھی آپ نے کیا کیا؟
ڈاکٹر صاحب آپ کے جان پہچان کے بی ایل ایف کے ایک اور کمانڈر ڈاڈو، عیدو سمالانی نامی شخص کے 200 سے زائد بھیڑ بکریاں چراکر راغے اور سوکن میں فروخت کرتا ہے اور پھر اس کے بعد خضدار کینٹ جاکر چند ساتھیوں سمیت کرنل رضوان کے پاس سرینڈر کرکے آزادی کے ساتھ گھومتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب ، حسین عرف حیبت اور محمد جمعہ شہید سلیمان کے شہادت کے دوسرے دن علی جان شاہوانی کے کھیت سے خربوزے چراتے وقت پکڑے جاتے ہیں پھر الٹا علی جان شاہوانی کو یہ دھمکی دیتے ہیں کہ اگر آپ نے ہمارے چوری کی یہ بات پھیلائی تو ہم تمہارے کسی
بیٹے کو جاسوسی کے الزام میں اٹھاکر مار دیں۔ اب اللہ رحم کرے علی جان شاہوانی پر میں نے یہ بات تو کردی لیکن اس سے کم از کم آپ لوگوں کے مخبر قرار دیکر مارنے کا پیمانہ ظاہر ہوگیا۔
ڈاکٹر صاحب آپ کے چچا زاد اسلا عرف وحید 6 مہینے پہلے میر علی حیدر محمدحسنی کے پاس جاکر سرینڈر کرگئے اور بدلے میں خضدار کینٹ جاکر انعام میں 30000 بھی وصول کیا۔ اس سرینڈر کے بعد آپ نے اسے انور کی طرح مارا نہیں بلکہ وہ دوبارہ خود آپ کے پاس چل کر آیا اور آپ نے اسے معاف کرکے دوبارہ بی ایل ایف میں شامل کردیا۔ آپ کے اسی چچازاد نے چند دن پہلے راغے شنگر سے ایک ہنڈریڈ موٹر سائیکل اور 20000 روپے نقد چراکر مشکے چلا گیا اور وہاں سے ایک بار پھر تین ساتھیوں سمیت مشکے گجر آرمی کرنل کے سامنے سرینڈر ہوگیا۔ ڈاکٹر صاحب اتنی مہربانیاں صرف آپکے رشتہ داروں کیلئے ہیں یا پھر ہر بلوچ کیلئے؟
ڈاکٹر صاحب باتیں تو بہت ہیں لیکن میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ” بی ایل ایف کے بندوق کی رہنمائی سچ میں کتاب کررہی ہے یا آپکے رشتہ دار؟”
سلامت رہو
آپکا خیرخواہ

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0