ہم پرامن جدوجہد پہ یقین رکهتے ہیں:کریمہ بلوچ

اتوار 15 نومبر, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بی ایس او آزاد کی قائمقام چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جب سے ہماری تنظیم کے مرکزی چیئرمین ریاستی فورسزکے ہاتھوں اغواء ہو چکے ہیں تب سے بی ایس او آزاد کے چیئرمین کی ذمہ داریاں وہ قائمقام چیئرپرسن کے عہدے سے نبھا رہی ہیں۔وضاحت کرتے ہوئے بانک کریمہ بلوچ نے کہا کہ زاہد بلوچ کو 18مارچ2014کو اُن سمیت بی ایس او آزاد کے دیگر ذمہ دار کارکنان کے سامنے ریاستی فورسز کے اہلکار کوئٹہ سے اغواء کرکے لئے گئے۔ایک سوال کے جواب میں بانک کریمہ بلوچ نے کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے انہیں ڈرانے ، دھمکانے اور ان کی خاندان کو حراساں کرنے کے لئے کئی مرتبہ ان کے گھر پر چھاپوں کے ساتھ ساتھ خود مجھ پر کئی کیسسز کی بنیاد پر ایف آر درج کی ہیں۔ ایف آئی آر بلوچستان میں جاری فوجی آپریشنز اور نسل کشی کے خلاف ہونے والے احتجاجوں اور اس دوران ایف سی اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے جیسے بے بنیاد الزامات لگا کر درج کیئے گئے تھے۔بی ایس او آزاد کی چیئرپرسن نے کہا کہ ریاستی الزامات کے برعکس وہ ہر وقت پر امن طریقے سے جدوجہد کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی آزادی کے لئے پر امن جدوجہد کررہے ہیں۔لیکن ریاست کی نظر میں پر تشدد جدوجہد کرنے والوں اور ہمارے لئے سزا ایک ہی مقرر ہے۔بی ایس او آزاد پر اعلانیہ پابندی تو 15مارچ 2013 کو لگایا گیا تھا لیکن بی ایس او آزاد کے خلاف کریک ڈاؤن 2010سے قبل شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے کئی کارکنان و لیڈران فورسز کے ہاتھوں اغواء ہو کر شہید کیے جا چکے ہیں یا لاپتہ ہیں۔بی ایس او آزاد کی وائس چیئرمین زاکر مجید بلوچ کو 8جون 2009میں فورسز نے اغوا کیا جو تاحال ان کی حراست میں ہیں۔ غرض کہ اس خونی کریک ڈاؤن کے بعد جہا ں کہیں سے بھی فورسز کو ہمارا کوئی ممبر یا کارکن نظر آتا تو انہیں اُٹھا کر لیجاتے اور چند مہنیوں سالوں بعد ان کی مسخ لاشیں پھینک دی جاتیں، یہ سلسلہ تاحال تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔کریمہ بلوچ نے کہا کہ میں ایک ایسی تنظیم کا سربراہ ہوں جو اپنے قوم کی آزادی کے لئے جدوجہد کررہی ہے یقیناََ یہ بات میرے لئے باعثِ فخر ہے ۔ بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک میں خواتین کے کردار پر ایک سوال کے جواب میں بانک کریمہ بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد جیسے سنجیدہ مسئلے پر بلوچ خواتین کی تحریک انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے۔ اگرچہ اس تحریک سے لاپتہ کارکنان بازیاب نہیں ہوئے ہیں لیکن دنیا کو ضرور آگاہی ملی ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے جیسا ایک ناقابلِ تردید مسئلہ موجود ہے۔بلوچ معاشرے میں خواتین کی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ہر کوئی ان کے ساتھ ہمسفر ہو کر اس جدوجہد میں شریک ہونے کا خواہشمند ہے۔کریمہ بلوچ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب تک بلوچستان قومی سوال کے مسئلے سے دوچار ہے تب تک بلوچ خواتین بھی قبضہ گیریت کے جبر کا شکار رہیں گی۔ایک جمہوری و سیکولر ریاست کی جدوجہد میں خواتین بھی شریک ہیں ظاہر سی بات ہے آزادی حاصل کرنے کی صورت میں ریاست کی آئین سازی میں انہیں بھی برابر کا موقع دیا جا ئے گا۔وہاں پر ایک ایسا قانون ہوگا جو انسانی برابری کے بنیادی قوانین سے انحراف نہ کرتا ہو۔صحافی کے سوال کے جواب میں بانک کریمہ بلوچ نے کہا کہ ریاستی ادارے جب بی ایس او آزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ جیسے نوجوان کو غنڈوں کی طرح اغواء کرکے آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر لے جا سکتے ہیں تو وہ یہ عمل میرے ساتھ بھی دہرا سکتے ہیں ۔جب بھی میری تنظیم کے کوئی بھی کارکن فورسز کے ہاتھوں اغواء ہو جاتا ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اگلی باری میری ہوگی۔ میں نے خود کو ذہنی حوالے سے تیار کررکھا ہے کیوں کہ پاکستانی اداروں کے کوئی انسانی اخلاقیات نہیں ہیں، وہ پرامن جدوجہد کا مطلب ہی نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ ان کی نظر میں بلوچ دشمن ہیں جو ان کے مدمقابل کھڑے ہیں ان سے جتنا چھینا جا سکتا ہے چھین لیا جائے۔ریاستی ادارے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔وہ ہمارے پڑھے لکھے طبقے کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ بلوچ معاشرے کو ہی مفلوج کیا جائے۔کریمہ بلوچ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دوسرے اسٹوڈنٹس تنظیم جو ان کی فکر سے اختلاف نہیں رکھتے ان سے ہمارا رابطہ ہے۔ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن جو کہ ہماری فکر کے مخالف نہیں ان سے بھی سیاسی حوالے سے ہماری نزدیکی ہے۔اس کے علاوہ ڈی ایس ایف سے بھی ہماری سیاسی حوالے سے نزدیکی ہے۔ چیئرمین زاہد بلوچ کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی تحریک میں ان تنظیموں نے ہمارا ہر ممکن ساتھ دیا ہے۔کریمہ بلوچ نے کہا کہ انہیں دھمکانے کے لئے کئی مرتبہ ان کے گھر پر چھاپے پڑے ہیں، ان کی ڈاکومنٹس و دیگر ضروری دستاویز فورسز اپنے ساتھ لے گئے۔ کئی کئی گھنٹوں تک خاندان کو حراساں کرنے کے لئے فورسز کے اہلکار گھر پر موجود رہتے، ایک مرتبہ میری بہنوں کو لائن پر کھڑا کرکے دہشتگرد کہہ کر مارنے اور گھر کو بلڈوز کرنے کی دھمکی دی۔ایسا صرف میرے ساتھ نہیں ہوتا ہے بلکہ بلوچستان کے ہر گھر کی داستان اس سے مختلف نہیں۔مجھے فخر ہے کہ یہ سب ہمارے ساتھ ایک عظیم مقصد کے لئے ہورہا ہے۔کم از کم ہماری آنیوالی نسلیں توآزادی میں انسان کی زندگی جی سکیں گے۔ا

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0