ریاستی تلوار بلوچ خواتین پر۔ تحریر بیورغ بگٹی

ہفتہ 13 دسمبر, 2014

پاکستان
کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خیلاف ورزیوں پر لکھنے کیلئے جرت،
ہمیت اور حوصلے کی سخت ضرورت پڑتی ہے کیونکہ بلوچستان میں ریاستی اجنسیوں
کی پالیسی کو دیکھ کر قلم اٹھانے سے پہلے دونوں ہاتھ کانپنے شروع کرتے ہیں خوف کی ایک ایسی لہر چہجاتی ہے کہ رنگٹے
کھڑے ہوجاتے ہیں انسان کو اپنی جزبات اور طاقت کا پتہ نہیں چلتا ایک زندہ
لاش بن کر صرف جسم رہے جاتا ہے، لیکن انسان کا دماغ اتنی آسانی سے کام
کرناچھوڑ نہیں دیتا لیکن وہ ہمیشہ سوچھتا رہتا ہے جب انسان کو یہ خیال
آجاتا ہے کہ میں بھی تو ان ظالموں جیسا ایک انسان ہوں فرق صرف اتنا ہے کہ
ان لوگوں کے اندر انسانیت نہیں حیوانیت ہے جن کے خوف سے مجھے کیوں اتنا
گھبراہٹ ہورہی ہے ۔۔۔۔۔ جب اسی خیالات سے خون میں جزبات اور دل میں ہمت و
حوصلہ ابھرتا ہے تو ڈر، خوف صرف اللہ پاک کی ہوتا ہے کسی شیطان یا ظالم کا
نہیں۔ آج پاکستانی اجنسیاں ایک سٹیٹ کا سہارا لیکر بلوچوں کی قتل عام نہیں
کررہی بلکہ انسانیت کا قتل کررہے ہیں جو کل جاکے یہ لوگ پوری دنیا کیلئے
خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
اگر
بلوچستان کی حالات زار کا ٹنڈے دماغ سے گہرائی سمجھنے کی کوشش کیا جائے تو
پاکستانی سیکورٹی ہر ادارے بلوچوں کے ساتھ غیرانسانی، غیراخلاقی اور
غیراسلامی رویہ اپنائی ہوئی ہے جو یہ افسوس ناک اور شرم ناک عمل گزشتہ کئی
دہائیوں سے مسلسل جاری ہے جیسے کہ حال ہی میں ڈیرہ بگٹی سےریاستی فورسزنے3 خواتین اور 4
بچے کو اغوا کرکے لاپتہ کردیاگیا جو آج تک جنکی کوئی احوال نہیں ہے لیکن
پاکستانی فورسز کی اسطرح کے غیراسلامی اور غیرانسانی عملان سے بلوچ قوم
پہلے واقف ہے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ یہ واقع ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے
جب پوری دنیاں میں خواتین پر تشدد بند کرنے کا دن منائی جارہی تھی تو ٹیک
دو دن پہلے ریاستی فورسز نے انسانی پکار کو مسخ کرتے ہوئے پوری دنیا کو
اپنے غیرانسانی کا صبوط پیش کیا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کا کتنا قدر
کیا جاتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اتنے وقت گزر جانے کے باوجود کوئی
انسانی حقوق کےکسی بھی تظیم کی جانب سے کوئی مزمتی بیان تک نہیں آئی جو بڑی
شرم کی بات ہے۔
اسکے علاوع سوئی کے علاقے 238RD
جیسے واقیعات سب کے سامنے ہے جہاں پاکستانی فورسزنے غیریب و بےبس اور
لاچار بےگناہ بلوچوں کی گھروں پر دھوا بول کر پوری بستی کو جلاکر خاکستر
کردیا گیا اور ساتھ میں ایک بوڑہی عورت بانک سزی بی بی کو زندہ چلا کر شہید
کیا گیا، پھر پاکستانی میڈیا نے بہت خوب اپنی ایمانداری نباتے ہوئے نیوز
جاری کیا تھا کہ فورسز کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ بلوچ مزحمتی تنظیموں سے
طلق رکھنے والےکچھ لوگ یہ بستی میں چھوپے ہوئے تھے ایف سی کی کاروائی سے سب
مارگے لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہاں کوئی مزحمت کار موجود ہی نہیں تھا، مگر
پھر بھی ہم ایک منٹ کیلئے مان ہی لیتے ہیں کہ جی وہاں سنگت وہاں موجود تھے
لیکن پھر بھی قصور وہی دو لوگوں کا تھا لیکن اس کی سزاپوری بستی کوکیوں دی
گئی؟ کیا یہ ناانصافی اور ظلم نہیں؟ کیا لوگوں کو زندہ جلا دینا سفاکیت
نہیں؟ کیا یہ انسانیت کی تزلیل نہیں؟ کل سب کو مرنہ ہے اور خدا کی عدالت
میں پیش ہونا ہے ویہاں کسی سے بھی نا انصافی نہیں ہوگی۔۔۔۔ آج جو پاکستانی
اسلام کے نام پر یا اپنی طاقت اور حیوانیت کی حوس سے بے گناہوں پر ظلم ڈھاے
ہوئے ہیں اسکا بدلہ ایک دن ضرور لیا جائگا، لیکن پاکستانیوں کو ایک بات کا
ادراک ہونا چاہیے کہ بلوچ اپنی جان اور مال سب کچھ قربان کر سکتا ہے مگر
خواتین کی بیزتی اور قبضہ وطین پر کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا اسکا
اندازہ پاکستان کے ساتھ پوری دنیا کو ہے اور پاکستانیوں کو اچھی طرح علم ہے
کہ انکا بلوچ کے ساتھ کیا رشتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک حقیقت ہےاوراسےکوئی انکار
نہیں کرسکتا کہ پاکستان کے قیام سے پہلے بلوچ سرزمین ایک آزاد ریاست کے
حیثیت سے دنیا کے نقشے پر آزاد بلوچستان کی شکل میں نمودار تھا لیکن بلوچ
قوم کی بدقسمتی سے پاکستان بننے کے ساتھ ہی بلوچ قوم کی آزادی غلامی میں
بدل گی۔ جیسےکہ پورئے دنیا کو علم ہے کہ 27 مارچ 1948کو
پاکستان نے بلوچ سرزمین پر حملہ کرکے بلوچ آزاد ریاست پر اپنا ناجائز قبضہ
جمہ لیا، تاریخ گوہ ہے کہ اسی دن سے بلوچ حریت پسندوں نے پاکستان کی قبضہ
کے خیلاف اپنی سرزمین کی آزادی جنگ کا آغاز کیا جو آج تک جاری و ساری ہے۔
لیکن پاکستانیوں کے علاوع بلوچستان میں بھی کئی لوگوں کو بلوچ قومی آزادی
تحریک سے نفرت، ڈر، خوف موجود ہیں کیونکہ جو لوگ خود کو باقئدہ پنجابی سمجھ
کر بلوچیت کو بھول چکے ہیں جنکو ڈرنا اور خوفزدہ ہونا ہی چاہیے کیونکہ یہ
انسانی فطرت ہے وہ اپنی کردار کے پیچھے کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے رسلٹ
فائدہ مند ہو یا نقصاندہ لیکن نتیجہ وہ ہوگا جو انسان خود فولوکررہا ہوگا۔
ایسے لوگ صرف بلوچستان میں موجود نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایسے شخص بہت
ہیں جو دشمن کے ہاتھوں بیک چکے ہیں اور قومی تحریکوں کے خیلاف دوشمن کے
ساتھ سرگرم ہوتے رہتے ہیں لیکن اس میں کوئی حیران والی کوئی بات نہیں مگر
ردعمل جنکا دیکھنا لازمی ہے کہ ان قوم کی غداروں کے ساتھ کیا حشرہوا اسی
احتساب کو مدنظر رکھتے ان لوگوں کے زہن میں خوف کی وجہ صاف ظاہرہوتا ہے کہ
بلوچستان کی آزادی کے بعد جنکو بلوچ قومی عدالت کا سامنا کرپڑئیگا پھر خدا
جانےکہ انکے ساتھ کیا انصاف ہوگا، مگر باز لوگ بلوچ تحریک کے سامنے شرمندہ
ہیں کیونکہ ان شخصیات کی اپنی کاروباری دوکانیں تحریک کی سہارے سے چلتی
رہتی ہیں یہ لوگ ایک طرف قوم پرستی کا دعواہ کرکے بلوچ عوام کے سامنے
منگھرمچھ کے آنسوبہاتے ہیں اور دوسری جانب ریاست سے مل کر بلوچ نوجوانوں کی
لہو سے اپنا کاروبار چلاتے ہیں کل انشاللٰہ یہ امیر لوگوں کی اے ٹی ایم
بند ہونگے تو سوداگیروں کا کیا حال ہوگا؟
لیکن اس کے برعکس بلوچ سرزمین پر پاکستانی قبضہ کو 65
برس گزرگے لیکن وہ بلوچ قومی آزادی جدوجہد کچلنے میں ناکام رہا اور نہ
آئندہ پاکستان اپنے اس مزموم مقصد میں کامیاب ہوسکے گا۔۔۔لیکن پاکستان نے
اپنا ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا مگراس کے باوجود بلوچوں کے عزم و حوصلہ میں
کمی نہیں آئی اور اسی طرح پاکستانی ریاست کی ظلم و جبر اور غیر انسانی
تشدود بلوچ نوجوانوں کی حوصلوں کو پست کرنے کی بجائے آزادی پر ایمان اور
عتبار کو مزید پختہ کررہا ہے۔ لیکن پیچھلے کئی سالوں سے پاکستانی ریاست
بلوچ قومی تحریک کو کچلنے کیلئے ظلم وجبر کے نت نئے حربے آزمائے جارہے ہیں۔
2002 سے لیکر آج تک 20000
ہزار بلوچ نوجوان ریاست پاکستان کی سیکورٹی اداروں نے پکڑ کر لاپتہ کیئے
ہیں اورہزاروں کی تعد بلوچ فرزندان کو شہید کرکے جنکی مسخ شدا لاشیں
ویرانوں میں پنھک دی گئی۔ قومی آزادی تحریک کے حصول کیلئے ہزاروں بلوچ
نوجوان دشمن کےزندانوں میں غیرانسانی تشدود سہہ رہے ہیں۔ اور پورئے
بلوچستان میں فوجی آپریشن بلوچوں کے مال و اسباب لوٹنے اور گھر کو جلانے کے
واقیات روز کا معمول بن چکا ہے، بلوچ قوم کیلئےایساکوئی دن نہیں کہ جس دن
انکے سرزمین کی آزادی خاطر کوئی بلوچ شہید نا ہوا ہو یا ریاستی بربریت کا
شکاریا لاپتہ نا ہوا ہو ایسا لگتا ہے بلوچ قوم کیلئے اللہ پاک نے کوئی خوشی
کا دن پیدا ہی نہیں کیا ہماری قسمت میں صرف سوگ یا ماتم ہی لیکھا ہے، بلوچ
قوم کی مائیں، بہنیں، بیویاں اور بیٹھیاں ہمیشہ اپنے پیاروں کی بازیابی
کیلئے ہڑتال، احتجاج، کانفرنس کرتے کرتے اس غیرمزہب ریاست کے آگے بے بس و
لاچارہوگے۔اسی حالات کو مدنظر رہھتے ہوئےآج بلوچ قوم کے عورتیں بھی اس
تحریک میں حصہ ڈلنے میں آگے بڑرہی ہیں اور بلوچ قومی آزادی تحریک کی جدوجید
میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ساتھ قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑئے
ہیں۔پورے دینا میں لڑئی جانے والی آزادی تاریخوں کو دیکھا جائے تو ظلم و
جبر کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں میں خواتین بھرپور کردار اداکرتی رہی ہیں۔
یہ بات پوری دنیا میں مشہور ہے کہ جب عورت اپنےاندرانقلابی سوچ پیدا کرلے
تو قوموں کی تقدیر بدلتے دیر نہیں لگتی، اس لیئے ریاست پاکستان بلوچ خواتین
کی کردار سےحواس باختہ ہوکر اپنی جبرانا ظلم کی حکمت عملی تبدیل کرتے
ہوئےعورتوں اور بچوں پر ظلم ڈھانا شروع کیا تاکہ بلوچ خواتین قومی تحریک سے
کنارا کشی کرئیں لیکن ریاست شاہد یہ بھول گے کہ یہ ان جوانوں کی مائیں ہیں
جہنوں نے تماری ہر ظلم تشددکو ناکام بناتے ہوئے شہادت کو ترجی دیتے ہیں
مگر آپنی سرزمین کی آزادی موقف سے دستمبردار نہیں ہوتے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0