ریاستی جارحیت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ بی ایس او آزاد

جمعہ 26 دسمبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں شدت کے ساتھ جاری و ساری ہیں ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ بلوچوں کے مسئلہ پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی مکمل خاموشی کی وجہ سے ریاست پاکستان کو شہ مل رہی ہے جسکی وجہ سے وہ دیدہ دلیری سے آئے روز بلوچ آبادیوں پر چھاپے مار کر عام لوگوں کو ماورائے قانون گرفتار کر کے لے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز آواران کے علاقے لباچ اورپسنی کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز کا آپریشن چادر و چار دیواری کی پامالی خواتین و بچوں پر تشدد کر کے گھروں میں لوٹ مار کی۔ متعدد موٹر سائیکلیں اور قیمتی اشیاء اپنے ساتھ لے گئے جبکہ آواران لباچ سے گل محمد ولد دلمراد اور پسنی کے علاقے زرین کہور سے واہگ بشام،زاہد بشام،سلیم عصاء،کریم جمعہ ،نیک محمد ،رفیق اور صادق شیران اور کھیتوں میں کام کرنے والے ایک کسان اور ایک چرواہے کو گرفتار کیا جبکہ چکلی سے حاصل منجار اور گلاب بلوچ نامی شخص کو گرفتار کرکے نا معلوم مقام پر منتقل کردیا، 19دسمبر کو تمپ آسیہ آباد کے رہائشی نبی ولد سیدی کو ڈی بلوچ کے مقام سے ایف سی اور آئی ایس آئی کے اہلکارگاڑی سمیت اغواء کر کے لے گئے جو تا حال لاپتہ ہے ۔ مرکزی ترجمان نے کہا کے اسی مہینے میں خاران کے مختلف علاقوں سے دس افراد کو ایف سی نے اغواء کیا جس کے بعد 4افراد منظر عام پر آئے اور باقی تمام ابھی تک لاپتہ ہیں اور جھاؤ میں فوجی کاروائی میں درجنوں افراد کو ریاستی فورسز اغواء کر کے لے گئے اور کئی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کیا جس میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔دوسری جانب پشین کے علاقے سے چھ جبکہ زیارت سے 2افراد کی کی لاشیں برامد ہوئی ہیں ۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ریاستی جارحیت بلوچستان میں دن بہ دن بڑھتی چلی جا رہی ہیں ریاستی فورسز بلوچ نسل کشی میں سرگرم عمل ہیں جسے کبھی دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کبھی مذہبی منافرت و تضادات کا نام دے کر مہذب دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالیاں سنگین حد تک بڑھ چکی ہیں پاکستان کی انسان کُش پالیسیاں نہ صرف بلوچستان بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں دنیا جو دہشتگردی کی جنگ میں اربوں روپے خرچ کر کہ اپنی معیشت کو دن بہ دن گِرا رہی ہے اور دوسری طرف یہ ریاست اس دہشت گردی کے لئے افرادی پروڈکشن دے کر انکو دنیا کے کونے کونے میں ایک خطرناک جال کی طرح بچھا رہی ہے آگے چل کر ان سب کا راستہ روکنا دنیا کے لئے مشکل ہوتا جائے گا کیوں کہ جو ریاست اس عمل میں بیج بونے کا کام کر رہی ہے وہی ریاست اس کا تدارک کیسے چاہے گا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایک دہشت گردی کا بیج بونے والے ریاست سے بڑھ کر ایک آزاد سیکولر اور جمہوری اقدار اور انسانی برابری اور احترام پر یقین رکھنے والا بلوچستان دنیا کے لئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس او آزاد بلوچستان میں بلوچوں کی اغواء نماء گرفتاریوں اور نسل کُشی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ہر وقت عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ سے عملی اقدام کی اپیل کرتی آرہی ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0