گجرات فسادات میں ہلاکتیں آٹھ، پانچ شہروں میں کرفیو

جمعرات 27 اگست, 2015

گجرات(ہمگام نیوز)بھارتی ریاست گجرات میں کو پٹیل برادری کے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات میں مزید ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد تین ہوگئی ہے جبکہ ریاستی دارالحکومت احمد آباد میں بھی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی آبائی ریاست کے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’تشدد سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور آگے بڑھنے کا واحد طریقہ پرامن مذاکرات ہیں۔ ریاست میں منگل کو پٹیل برادری کو بہتر تعلیم اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی تحریک کی قیادت کرنے والے نوجوان ہاردک پٹیل کی گرفتاری اور رہائی کے بعد کئی علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔ گجرات کے ڈائریکٹر جنرل پولیس سی ٹھاکر کا کہنا ہے کہ ضلع بناس ?انٹھا میں بدھ کو مشتعل افراد نے ایک تھانے پر حملہ کیا اور اس دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔انھوں نے منگل کو احمد آباد میں بھی مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ میں دو لوگوں کی موت کی تصدیق کی۔گجرات کی پٹیل براردری خوشحال بھی ہے اور سیاسی اعتبار سے طاقتور بھی۔ ہندوستان کے پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کا تعلق اسی برادری سے تھا اور موجودہ وزیر اعلی کا بھی لیکن اب یہ لوگ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حیرت انگیز طور پر ان کی قیادت ہاردک پٹیل نام کے ایک نوجوان نے سنبھال رکھی ہے جن کی عمر صرف 21 سال ہے۔ ہاردک پٹیل اچانک ریاستی حکومت کے لیے درد سر بن گئے ہیں۔ ان کے جلسوں میں بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں اور تخمینوں کے مطابق کل کی ریلی میں کئی لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ دوسری برادریوں کو حاصل ریزویشن کی وجہ سے وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔پولیس افسر کے مطابق، بدھ کو ریاست میں صورتحال کنٹرول میں ہے اور ’تمام سینیئر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے لوگوں سے قانون کو ہاتھ میں نہ لینے اور افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی ہے۔کشیدہ حالات کے پیش نظر احمد آباد کے نو اور سورت کے دو تھانے کے حدود سمیت ریاست میں 17 مقامات پر احتیاطاً کرفیو لگایا گیا ہے۔گجرات میں پر تشدد واقعات کے پیش نظر انتظامیہ نے ریاست کے تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔پٹیل کمیونٹی نے بدھ کو گجرات بھر میں ہڑتال کی اپیل کی تھی اور احمد آباد شہر اس اپیل پر مکمل طور پر بند ہے اور شہر میں انٹرنیٹ سروس اور موبائل فون سروس دوسرے دن بھی معطل ہے جبکہ سکول، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ کا نظام بند پڑا ہے۔ پٹیل تحریک کے حامیوں نے تقریباً 50 بسوں اور دیگر گاڑیوں کو آگ لگائی تھی جس کے بعد تشدد میں اضافے کو روکنے کے لیے حکومت نے موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو بند کر دیا تھا۔ریاستی وزیر اعلی اند بین پٹیل نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے لوگوں سے ایسے کام نہ کرنے کی اپیل کی ہے جس سے ریاست میں حالات بگڑیں۔منگل کو تشدد کے دوران ریاست میں دس پولیس چوکیوں کو آگ لگائی گئی جبکہ ریاست اور مرکز میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفاتر پر بھی حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ ممبئی اور دہلی ہائی وے کو متعدد مقامات پر جام کر دیا گیا جس سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔واضح رہے کہ احمد آباد میں منگل کو پٹیل کمیونٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ اس مظاہرے کی سربراہی 21 سالہ پٹیل برادری کے نوجوان رہنما ہاردک پٹیل کر رہے تھے۔اس مظاہرے میں شامل افراد اور پولیس کے درمیان کئی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جبکہ پولیس نے صورت حال کو کنٹرول میں کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق نریندر مودی خود تین مرتبہ گجرات کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور پٹیل برادری کا ریزرویشن کا مطالبہ ان کے لیے سخت سیاسی مشکلات پیدا کر سکتا ہے کیونکہ یہ لوگ روایتاً بی جے پی کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن اب اچانک ایک مطالبہ منوانے کے لیے متحد ہوگئے ہیں جسے حکومت کے لیے نہ منظور کرنا آسان ہوگا نہ مسترد۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0