ریاست نے بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو فوجی چھاونیوں میں تبدیل کیا۔ بی ایس او آزاد

پیر 17 نومبر, 2014

دنیا آج طالب علموں کا عالمی دن منا رہا ہے مگر بلوچ طالب علموں کیلئے تعلیم کے دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ترجمان
کوئٹہ (ہمگام نیوز ) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے عالمی یوم طلباءکے موقع پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ آج دنیا بھر کے طلباءسے اظہار یکجہتی کے طور پر اس دن کو منایا جارہا ہے جہاں طلباءاپنے حقوق کیلئے اس دن کو یادگار کے طور پر مناتے ہیں نومبر 1939میں چیکو سلواکیہ کے طالب علموں نے اپنے حقوق کیلئے مظاہرہ کیا جسے جرمن نازیون نے کچل دیا تین طالب علم رہنماوں کو قتل کیا 1200طالب علموں کو حراست میں لیکر زندانوں میں بند کیا گیا 17نومبر 1939کو نو طالب علم رہنماوں کو بغیر مقدمے کے پھانسی دیا گیا اس لیے 17نومبر کی تاریخی دن بین القوامی سطح پر اسٹوڈنٹس کیلئے منتخب کیا گیا ۔ترجمان نے کہا کہ دنیا آج طالب علموں کا عالمی دن منا رہا ہے مگر بلوچ طالب علموں کیلئے تعلیم کے دروازے بند کردیے گئے ہیںایک طرف ریاستی فورسز نے بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو فوجی چھاونیوں میں بدل دیا ہے تو دوسری طرف بلوچ طالب علموں کی اغواہ نما گرفتاریاں زوروں سے جاری ہے اور انہیں ٹارچر سیلوں میں بند کرکے انسانیت سوز ازتیں دینے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشوں کو ویران جنگلوں میں پھینک دیا جاتا ہے بلوچ طالب علموں کوتعلیمی اداروں میں جانے سے پہلے ہزاربار سوچنے پر مجبور کردیے گئے کیوں کہ بلوچستان کے سب بڑے تعلیمی ادارہ بلوچستان یونیورسٹی کے گیٹ میں داخل ہونے سے پہلے انہیں ریاستی فورسز ایف سی اور آئی ایس آئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہاسٹلز میں آئے روز فورسز کا چھاپہ اور طالب علموں کی گرفتاریوں نے بلوچ والدین کو نفسیاتی مرض میں مبتلا کر رکھا ہے جن کی بچے بلوچستان کی کسی ٹارچر سیل نما تعلیمی ادارے میں پڑ نے جاتے ہو وہ کیسے سکون سے رہ سکتے ہیں اور اسٹوڈنٹس ایسے ماحول میں کیسے آزادنہ پڑسکتے ہیں بلوچ طلباءکبھی قمبر چاکر ،الیاس نظر ،وحید بالاچ اور چاکر کی شکل میں اغواہ ہوکر مسخ شدہ لاشوں کی شکل میں گھر پہنچتے ہیں تو کبھی طلباءرہنماءچیئرمین زاکر مجید ،چیئرمین زاہد بلوچ سمیع مینگل اور مشتاق کی شکل میں پابند سلاسل رہتے ہیں ترجمان نے مزید کہا کہ ریاستی فورسز و خفیہ ادارے ہنوز بی ایس او آزاد کے 100سے زائد ممبران و رہنماوں کو اغواہ نما گرفتار کرکے اپنے ٹارچر سیلوں میں پابند سلاسل کردیا جہاں انہیں انسانیت سوز ازیت دی جاتی ہے بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشوں کو ندی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے بی ایس او آزاد کے متعدد رہنماءو ممبران کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہے جس میں بی ایس او آزاد کے مرکزی سیکڑیری جنرل اور بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علم رضاجانگیر بلوچ مرکزی کمیٹی کے رکن آئی ٹی یونیورسٹی کے طالب علم قمبر چاکر ، کامریڈ قیوم بلوچ ، بلوچستان یونیورسٹی کے طالب الیاس نذر بلوچ ، خضدار یونیورسٹی کے طالب علم فرید بلوچ ،وحید بالاچ بلوچ ،مجید زہری بلوچ ، کمسن چاکر بلوچ سمیت دیگر رہنماءو کارکنان کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہے جبکہ مرکزی چیئر مین زاہد بلوچ ، سینئر وائس چیئرمین زاکرمجید بلوچ، سمیع مینگل ، سمیت دیگر ممبران ریاستی ٹارچر سیلوں میں پابند سلاسل ہے حالیہ واقعات میں بی ایس او آزاد خاران زون کے ممبران نجیب بلوچ عمر 17سال،حسن بلوچ عمر 10سال،محمود شاہ عمر 15سال جبکہ نوشکی زون کے آرگنائزر کلیم بلوچ اور ڈپٹی آرگنائزر جان دوست بلوچ کو ریاستی فورسز اور خفیہ ادارے اغواہ نما گرفتار کرکے اپنے ساتھ لئے گئے جو تاحال لاپتہ ہے ترجمان نے مزید کہا کہ مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ کی اغواہ نما گرفتاری اور عدم بازیابی کیخلاف مرکزی رہنماءلطیف جوہر بلوچ 46روز تک کراچی پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال میں بھیٹے رہے تنظیم نے اپنے ممبران کی رہائی کیلئے ملکی و غیر ملکی سطح پر بھوک ہڑتالی کیمپ ،ریلیاں ، مظاہرے ، سیمینار ،ہڑتال اور دیگر قسم کے جمہوری طریقے سے اپنے احتجاج ریکارڈ کیے ہیں جبکہ ملکی اور غیر ملکی انسانی حقوق کے تنظیموں سے رابطہ استوار کرکے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے حوالے سے آگاہ کیا ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ریاستی اداروں کی جانب سے ایک منصوبے کے تحت بلوچ طلباءکو تعلیم سے دور رکھنے کیلئے سازشیں کیے جارہے ہیں بلوچستان میں اپنے حقوق کیلئے بلوچ خواتین کی جوق دو جوق طلباءو سیاسی تنظیموں میں شمولیت اور سیاسی میدان میں کامیاب طریقوں سے کاکردگی انجام دینے سے ریاست بلوچ خواتین کی منظم سیاسی جدوجہد سے خائف ہوکر منشیات فروش اور مذہبی شدت پسند گروہ کا سہا رہ لیکربلوچ جہد کے سامنے رکاوٹ حائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کی حالیہ واقعات بلوچستا ن میں آئی ایس آئی کی سرپرستی میں منشیات فروش گروہ اور مذہبی شدت پسندوں نے بلوچ خواتین کو تعلیم سے دور رکھنے کیلئے طلبات کی تعلیمی اداروں میں پے در پے حملے کیے اور بلوچ خواتین پر تیزاب پاشی جیسے واقعات رونما ہوئے بی ایس او آزا د شروع سے بلوچ طلباءکی حقوق کیلئے جدوجہد کررہی ہے جس کی وجہ سے بی ایس او آزاد کو ریاست کی جانب سے سخت حالات کا سامنا ہے 2012کو ریاست نے جمہوری اور پُر امن جدوجہد کی پاداش میں بی ایس او آزاد پر پابندی عائد کردی جو تاحال برقرار ہے تعلیمی اداروں میں بی ایس او آزاد کے ممبران کی گھیرا تنگ کرکے انہیں تعلیمی اداروں کو چھوڑنے پر مجبور کیا بی ایس او آزاد کو اپنی حقوق کی جدوجہد سے دستبردار کرانے کیلئے مختلف قسم کے حربے آزمائے گئے اور جارہے ہیں لیکن بی ایس او آزاد نے سخت حالات میں اپنے جدوجہد کو جاری رکھا ہے اور بی ایس او آزاد کے مخلص و بہادر کارکنان ریاستی ہتھکنڈوں سے مرعوب ہوکر اپنے جدوجہد سے دستبردار نہیں ہونگے تنظیم کے مخلص دوستوں کی شہادت اور اغواہ نما گرفتاری سے ہماری جدوجہد میں مزید تیزی آگئی ہے ریاست اپنے تمام تر مذموم عزاہم اور ہتھکنڈوں میں ناکام ہوتا جارہا ہے ۔ترجمان نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مذہب ممالک بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور بلوچ طلباءکو منصوبے کے تحت تعلیم سے دور رکھنے کی ریاستی سازشوں کا نوٹس لیکر بلوچستان کا دورہ کریں اور بلوچستان کے سنگین حالات کا مشاہدہ کرکے بلوچ طلباءو عوام کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0