ریکوڈک کی بیرونی سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت بلوچ قوم کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔بی این ایم

جمعہ 12 دسمبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے ریکوڈک ڈیل و رشوت ،بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں ڈاکٹر مالک و دیگر نام نہاد قوم پرستی کے دعوئے دار وفاق پرستوں کی ملی بھگت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک کی بیرونی سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت کو بلوچ قوم کسی صورت بھی قبول نہیں کرے گی۔ عالمی سامراجی قوتوں کے ہاتھوں 216 ملین ڈالر کی رشوت جس میں نام نہاد مالک اینڈ کمپنی کو 29 ملین ڈالر کا شیئر اور حاصل اینڈ اچکزئی کو کو 2,2 فیصد کے معاملات کا سامنے آنا نہ صرف قومی وسائل کی لوٹ مار کاحصہ ہے بلکہ نواز شریف کی بلوچستان میں ن لیگ کو ایک طرف کرکے مالک اینڈ اچکزئی کمپنی کی مشترکہ حکومت سازی اسی گیم کا ایک حصہ ہے کہ وقت آنے پر ثابت کیا جاسکے کہ ریکوڈک جیسے بڑے پروجیکٹ کی ڈیل میں بلوچستان یا ڈاکٹر مالک جیسے بلوچ نمائندے راضی و شامل ہیں ۔جبکہ ڈاکٹر مالک و نیشنل پارٹی نہ قوم پرست ہیں اور نہ بلوچوں کے نمائندے ، جنہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ایک مہرے کے طور پر دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے کٹھ پتلی کے طور پر کرسی پر بٹھایا ہے ،نیشنل پارٹی ، بی این پی مینگل و عوامی سمیت کوئی بھی وفاق پرست بلوچ قوم کا نمائندہ نہیں ہوسکتا ۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ ٹھیتیان کمپنی اپنی سرمایہ کا نقصان نہ کرے کیوں کہ بلوچ سرزمین کے باسی اپنی قومی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور سرزمین کی ساحل و سائل کا مالک کوئی خان،نواب،سردار،یا آئی ایس آئی کی داشتہ حکومت اور قابض ریاست نہیں بلکہ سرزمین کا مالک بلوچ قوم ہے جو اپنے خون سے وطن کی دفاع کرکے ایک دہشت گرد ریاست سے نبرد آزما ہیں جس طرح موجودہ قومی جہد آزادی کی جنگ نے سب کچھ واضح کر دیا ہے۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ ریکوڈک ڈیل و رشوت میں شامل محمود خان اچکزئی کی سلیمان داود سے ملاقات اور دیگر نام نہاد قوم پرستی کے دعوئے داروں کی کھلا بازیاں بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار کے سلسلے ہیں ۔مگر بی این ایم یہ واضح کر تی ہے کہ ریکوڈک پر وجیکٹ سے لے کر چین پاکستان معاہدات ،پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے سمیت کسی منصوبے کو بلوچ کی رضا مندی کے بغیر پایہ تکمیل تک پہنچانے کا خیال دیوانے کا خواب ہوگا ۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ سرزمین کا سود ا کرنے والے مالک اینڈ کمپنی اور خان ، سردارو میر بلوچ سرزمین کی ایک انچ زمین اور اسکے ساحل وسائل کی جانب بری نظر ڈالنے کا خیال ذہن سے نکال دیں۔بلوچ قوم جس طرح ایک دہشت گرد ریاست سے آزادی کی جنگ لڑ سکتی ہے توان سرمایہ داروں کے ایجنٹوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ ریکوڈک کیس میں ڈاکٹر مالک کی پول کھلنے سے ان کا ایک اور بدنما چہرہ عوام کے سامنے آگیا کہ وہ کس طرح بلوچ کو غلام رکھنے میں پاکستان کا ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ کھربوں ڈالر کے بلوچ وسائل و قومی مڈیوں کوچند ملین ڈالر کے عوض سودا کرکے بلوچ قوم کا استحصال کر رہا ہے ۔ڈاکٹر مالک کاریکوڈک پروجیکٹ میں 29ملین ڈالرکا حصہ لینے کا پول کھلنے پر یہ ردعمل سامنے آنا کہ وہ قانونی کاروائی کرینگے تو یہ اپنا گھناؤنا چہرہ چھپانے کی نا کام کوشش ہو گی ، اس کیس کے علاوہ بھی نیشنل پارٹی جیسی وفاق پرست پارٹیاں بلوچوں کے اغواء ، مارو اور پھینکو، فوجی آپریشنوں جیسے جرائم میں ملوث ہوکر کسی صورت احتساب سے نہیں بچ سکتے ۔ 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0