زاہد آسکانی بلوچ کا قتل بلوچستان کے روشن خیال افکار پر ایک حملہ

اتوار 7 دسمبر, 2014

ہمگام اداریہ
گذشتہ روزپاکستانی خفیہ اداروں نے ایک بلوچ استاد زاہد آسکانی کو اس وقت شہید کردیا جب وہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اپنے گاڑی میں گھر سے اسکول کی جانب سفر کررہے تھے ، اسکول کے قریب پہنچتے ہی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اس پر فائر کھول دیا جس سے انکے جسم میں سات گولیاں پیوست ہوگئیں اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے ۔ زاہد آسکانی کا بنیادی تعلق بلوچستان کے علاقے پنجگور سے تھا، امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ واپس بلوچستان آئے اور بلوچ نوجوانوں میں معیاری تعلیم کو عام کرنے کے غرض سے انہوں نے ’’اویسس پرائمری اسکول سسٹم ‘‘ کی بنیاد رکھی ، وہ نہ صرف اس اسکول کے بانی تھے بلکہ وہ ساتھ ساتھ ایک استاد اور ہیڈ ماسٹر کے فرائض بھی سر انجام دے رہے تھے ۔ انکا مشن بلوچ نسل کو معیاری تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا ، وہ جلد ہی اپنے اس مشن میں کامیاب ہوئے اور معیاری تعلیم مہیا کرنے والے اسکول سسٹم ’’ اویسس‘‘ کو عام کرنے اور معروفیت دلوانے میں کامیاب ہوئے ۔ اس وقت بھی سینکڑوں بلوچ طلباء اس ادارے میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ایسے وقت میں زاہد آسکانی بلوچ کی شہادت ناہصرف ’’ اویسس‘‘ کیلئے ایک جھٹکا ثابت ہوا بلکہ پورے بلوچ قوم کیلئے ایک نا قابلِ تلافی نقصان ہے ۔بلوچ قوم پرست حلقے زاہد بلوچ کی قتل کی ذمہ داری پاکستانی خفیہ اداروں اور انکے بنائے گئے جرائم پیشہ شدت پسند گروہوں پر عائد کررہے ہیں ۔زاہد بلوچ کی قتل کی وجہ انکے قوم پرستانہ خیالات اور تعلیمی میدان میں انکے روشن خیال اور عملی اقدامات بنے ۔پاکستانی خفیہ ادارے گذشتہ دو سال سے روشن خیال بلوچ تعلیمی اداروں کو بند کرکے مدارس کھولنے کے جس مشن پر عمل پیرا تھے زاہد بلوچ اسکے سامنے ایک بہت بڑی رکاوٹ تھے ، زاہد بلوچ کا یہی مقصد انکے شہادت کی وجہ بنی۔انکے شہادت کے بعد پورے بلوچستان میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی اور گوادر میں ہزاروں طلباء احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے ۔
بلوچ آزادی پسند تحریک کی بنیادیں روشن خیال اور سیکیولر اقدار پر مبنی ہیں اور یہی وہ اقدار ہیں جو بلوچ کو خطے کے باقی اقوام سے مختلف کرتی ہیں ، پاکستانی خفیہ ادارے ایک طویل عرصے سے بلوچ قومی تحریک کے ان بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے ، اس سلسلے میں پاکستانی خفیہ ادارے ایک مذموم مشن پر عمل پیرا ہیں سب سے پہلے بلوچستان کے تمام جامعات میں بلوچ آزادی پسند سیکولر طلباء تنظیموں پر پابندی لگاکر ان جامعات میں فوج تعینات کرکے انہیں فوجی چھاونیوں کے شکل میں بدل دی گئی ، اس وقت بھی بلوچستان کے کئی اسکولوں کو بند کرکے وہاں فوجی چوکیاں قائم کی گئی ہیں ، اسکے بعد پاکستانی خفیہ اداروں نے مختلف شدت پسند تنظیموں کے جعلی ناموں سے مخلوط نظام تعلیم کو بنیاد بنا کر پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو بند کرنا شروع کردیا ، اس حوالے سے بلوچستان کا شہر پنجگور خاص طور پر انکا نشانہ بنا جہاں تمام تعلیمی ادارے گذشتہ طویل عرصے سے خفیہ اداروں کے دھمکیوں کی وجہ سے بند ہیں ، اسی سلسلے میں نام نہاد شدت پسند تنظیموں کے نام سے خفیہ اداروں نے مکران کے مختلف علاقوں میں مخلوط اور روشن خیال تعلیمی نظام کے خلاف وال چاکنگ شروع کردی تربت میں بھی ڈیلٹا سینٹر سمیت کئی پرائیوٹ تعلیمی اداروں پر چھاپے مار کر کئی اساتذہ گرفتار اور کئی سینٹر بند کردیئے ہیں، تربت کے عطا شاد ڈگردی کالج پر چھاپہ اور وہاں طلباء کے غیر نصابی کتابوں کو دہشتگردانہ مواد ظاہر کرکے ہاسٹل کو سیل کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی ، اب بلوچ تعلیم دشمنی کے سلسلے کو گوادر تک پھیلاتے ہوئے زاہد آسکانی بلوچ کو شہید کردیا گیا یاد رہے کہ زاہد آسکانی بلوچ کے قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس وقت داعش کا بلوچستان میں عملی طور پر کوئی وجود نہیں ہے اور داعش کے کارروائیوں کے طرز پر غور کیا جائے تو ابتک کہیں بھی داعش کی طرف سے انفرادی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سامنے نہیں آئیں ہیں ، اس قتل کے پیچھے مکمل طور پر پاکستانی خفیہ ادارے ہیں جو داعش کا نام استعمال کرکے بلوچستان میں یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ یہاں مذہبی منافرت پر قتل ہورہے ہیں تاکہ خفیہ ادارے بری الذمہ ہوسکیں ۔ اس سے پہلے بلوچستان کے علاقے خضدار میں بھی ایک بلوچ استاد رزاق بلوچ کو اسلئے شہید کیا گیا تھا کیونکہ وہ جھالاوان اکیڈمی کے نام سے خضدار میں جدید ، روشن خیال اور مخلوط تعلیم نظام کو عام کررہے تھے اور قوم پرستانہ خیالات رکھتے تھے ۔ انکے قتل میں خفیہ ادارے براہ راست شامل تھے لیکن انکے قتل کی ذمہ داری خفیہ اداروں کے بنائے گئے جرائم پیشہ شدت پسند تنظیم مسلح دفاع کے نام سے قبول ہوئی ،اسی طرح پروفیسر صبا دشتیاری ،ماسٹر علی جان ، ماسٹر سفیر ، ماسٹر نذیر اور ماسٹر حامد سمیت کئی بلوچ اساتذہ کو شہید اور درجنوں اسی بنیاد پر لاپتہ کیئے گئے ہیں ۔ بلوچستان میں ایک طرف روشن خیال اور قوم پرست اساتذہ کو شہید کیا جارہا ہے اور ایسے تعلیمی اداروں کو بند کی جارہی ہے تو دوسری طرف بلوچستان میں پنجاب کے مذہبی جنونی دہشتگرد تنظیموں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اور پاکستانی حکومت کے سرکاری فنڈ سے بلوچستان کے کونے کونے میں اسکول بند کرکے مدارس قائم کئے جارہے ہیں ، ان مذموم مقاصد میں بلوچستان کے نام نہاد قوم پرست اور کٹھ پتلی وزیر اعلی ڈاکٹر مالک کو شریک کار سمجھا جارہا ہے اور اسکے وزارت اعلیٰ کا مقصد بھی یہی بیان کیا جارہا ہے۔
زاہد آسکانی بلوچ کی خفیہ اداروں کے ہاتھوں شہادت نا صرف بلوچ طلباء بلکہ بلوچ قوم کے روشن خیال افکار کیلئے ایک سانحہ ہے ،انکے شہادت کے موقع پر بلوچ آزادی پسند قوتوں نے عالمی اداروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا داعش اور بوکو حرام ریاستِ پاکستان ہے جو ایک سازش کے تحت اپنے تذویراتی گہرائی کے نقطہ نظر پر عمل کرتے ہوئے اس خطے میں مذہبی شدت پسندی کو ہوا دے رہی ہے اور شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہی ہے جو امن عالم کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے انہوں نے اپیل کی ہے کہ اقوام عالم سیکیولر اور روشن خیال بلوچوں کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار کریں جو ایک طویل عرصے سے پاکستان کے ان مذموم مقاصد کے سامنے ایک دیوار بنے ہوئے ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0