زاہد بلوچ کی شہادت بلوچ کش پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ بی ایس او آزاد

جمعہ 5 دسمبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ریاست ایک منصوبے کے تحت بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی کوشش کررہا ہے استاد زاہد بلوچ کی شہادت بلوچ کش پالیسیوں کا تسلسل ہے گذشتہ روزریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گوادرمیں پرائیوٹ اسکول کے پرنسپل استاد زاہد بلوچ کو ٹارگیٹ کرکے شہید کردیا استاد زاہد بلوچ کی تعلیمی خدمات بلوچ سما ج میں ہمیشہ یاد کیے جائے گے تعلیمی حوالے سے پسماندہ گوادر جیسے علاقوں میں استاد زاہد بلوچ نے د ن رات ایک کرکے تعلیمی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی نوجوان اور بچوں کو سماجی برائیوں سے دور رکھنے کیلئے میعاری تعلیم کیلئے کام کرتے رہیں ریاستی ادارے بلوچستا ن کے باشعور استاتذہ اور طالب علموں کو منصوبے کے تحت نشانہ بنارہے ہیں یاد رہے کہ اس سے قبل پروفیسر استاد صبادشتیاری ، ماسٹر نذیر احمد ، استاد علی جان ، ماسٹر حامد ، ماسٹر سفیر بلوچ اور دیگر کئی باشعور ٹیچروں کو ٹارگیٹ کرکے شہید کردیا جبکہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران ریاستی فورسز اور خفیہ اداروں نے بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے کیلئے ایک مہم کا آغاز کردیا ہے چور ، ڈاکو ، منشیات فروش اور مذہبی شدت پسند گروہ کو منظم کرکے بلوچستان کے تعلیمی اداروں کیخلاف استعمال کررہا ہے پنجگور سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں کے اسکولوں کو جلایا او ر طالبات پر حملے کیے گئے خواتین کو تعلیم سے دور رکھنے کیلئے تیزاپ پاشی کی جاتی ہے ریاستی اداروں نے بلوچستان کے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا ہے بلوچستان کا سب سے اعلیٰ تعلیمی ادارہ بلوچستان یونیورسٹی ایک فوجی بیس کی منظرپیش کرتا ہے جہاں طالب علم خوف کے سائے میں تعلیم حاصل کررہے ہیں بلوچستان یونیورسٹی کے کئی طالب علموں کو ریاستی خفیہ اداروں نے جبری طور پر گرفتار کرکے غائب کردیے بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشیں ویران جنگلوں اور ندی نالوں سے برآمد ہوئے اور دیگر کئی طالب علم تاحال لاپتہ ہیں جبکہ مکران ، جھالاوان ،سراوان اور دیگر علاقوں کے اسکولوں کو ایف سی اور آرمی نے قبضہ کرکے اپنے فوجی کیمپ بنائے رکھیں ہے جبکہ ریاست بلوچستان کو تعلیمی حوالے سے بانجھ رکھنے کیلئے اپنی تمام حربوں کو آزما رہا ہے ریاست کی پیدا کردہ نیشنل پارٹی بلوچستان سمیت خاص کر مکران میں باشعور بلوچ استاتذہ اور طالب علموں کی نشاندی کروارہے ہیں ڈاکٹر مالک،اختر مینگل، ثنااللہ زہری سمیت ریاست کے تمام زرخرید غلام دنیا کی قومی تحریکوں میں غداروں کی انجام کو یاد رکھیں ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں شدت کے ساتھ جاری ہے ماروائے عدالت قتل اور گرفتاریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ریاست نے بلوچستان میں بلوچ نسل کشی کے مختلف محاز کھولے ہیں ایک طرف فوجی آپریشن ، جبری گمشدگیاں ، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی دوسری طرف چور ، ڈاکو ، منشیات فروش اور مذہبی شدت گروہ کو منظم کرنا ، تعلیمی اداروں کو بند کرنا ، استاتذہ اور طالب علموں کو نشانہ بنانا ، خواتین پر تیزاپ پاشی کرنا بلوچ قومی تحریک کو ختم کرنے کیلئے مختلف حربے آزمائے جارہے ہیں لیکن بلوچ قومی جدوجہد سے ریاست اپنی تمام تر کوششوں میں ناکام ہوگا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0